- الإعلانات -

بلدیاتی نتائج، کیا حساس اداروں کو زیر بحث لانا ضروری ہے

syed-rasool-tagovi

ایک طویل انتخابی مشقت کے بعد پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تمام مراحل مکمل ہوگئے ہیں ۔ جن کے نتیجے میں پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ( ن) ، سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے ۔ تحریک انصاف توقعات کے برعکس کہیں بھی مقامی حکومتیں بنانے میں کامیاب نہ ہوسکی حتیٰ کہ وفاقی علاقے اسلام آباد میں بھی جہاں نتائج تحریک انصاف کے حق میںحوصلہ افزاءرہے۔ کراچی کی شہری حکومت کی سربراہی ایک بار پھر ایم کیو ایم کے ہاتھ آنے والی ہے۔کراچی میں ہونے والے آپریشن کے باعث عمومی طورپر سمجھا جارہا تھاکہ شاید ان انتخابات میں اسے نمایاں کامیابی نہ مل سکے لیکن نتائج سے واضح ہورہاہے کہ کراچی کے الیکشن میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے سیاسی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔رینجرز کا آپریشن چونکہ کریمنل عناصر کے خلاف ہے کسی جماعت کے خلاف نہیں لہذا اس حوالے سے شکوک و شبہات کو ہوا دینا مناسب نہیں ہے۔ کراچی کے انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف اورجماعت اسلامی نے ضرور تحفظات کااظہار کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ پولنگ بوتھوں پر بڑی تعداد میں جعلی انتخابی عملہ بٹھایا گیا تھا تاہم یہ بات کہیں سے سامنے نہیں آئی کہ کراچی میں آپریشن کرنے والے اداروں من پسند نتائج حاصل کرنے کیلئے کوئی مداخلت کی ہے ۔ ہمارے ہاں عموماً جب کوئی ہار جاتا ہے تو الزام خفیہ اداروں پر لگا دیا جاتا ہے جیسے ایم کیو ایم ان انتخابات سے قبل کہہ رہی تھی کہ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اسی طرح اگر کسی جماعت کو تیزی سے مقبولیت ملنے لگے توسازشی تھیوریاں عام کردی جاتی ہیں جیسے 2013ء سے قبل تحریک انصاف کی مقبولیت پر منہ پھاڑ کر الزام تراشی کی گئی ۔ پاک فوج یا قومی سلامتی پر مامور ایسے اداروں کے خلاف زہر اگلنا صرف بھارت یا کسی اور ملک کامشغلہ نہیں ہے بلکہ اندرون ملک بھی کچھ نام نہاد مبصرین اوردانشور بھی ایساکرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔حالیہ بلدیاتی انتخابات کے بعد ایم کیو ایم کی کراچی سے کامیابی پر اگلے روز ایسے ہی نام نہاد دانشوروں نے اپنی عادت کے ہاتھوں مجبور ہوکر لاف زنی فرمائی ہے کہ آئی ایس آئی کے بغیر بھی انتخابات جیتے جاسکتے ہیں۔بنیادی طورپر انہوں نے الزام لگایا کہ ہماری خفیہ ایجنسیاںانتخابات میں مداخلت کرتی ہیں یا من پسند نتائج حاصل کرتی ہیں لیکن حقیقت برعکس ہے۔یہ محض خبث باطن ہی ہے جس کا اظہار ہر ایسے موقعہ پر کیا جاتا ہے ۔ تحریک انصاف کی اٹھان کے پیچھے خفیہ ہاتھ آج تک ڈھونڈے جارہے ہیں لیکن 2013ءکے الیکشن کے نتائج اور الزام تراشی میں کہیں جوڑ نہیں ملتا ۔ حالیہ لوکل باڈی الیکشن سے بھی واضح ہوگیا ہے کہ خفیہ ہاتھ صرف اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ہر معاملے میں اپنے حساس قومی اداروں کو گھسیٹنے کی روش کسی کے مفاد نہیں ہے۔
جمہوری نظام کی روح بلدیاتی ادارے سمجھا جاتا ہے لیکن جمہوریت کی داعی سیاسی جماعتیں ہی ان انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوششیں کرتی ہیں جبکہ جرنیلی دور میں بلدیاتی نظام کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔سیاسی جماعتوں کو تو بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی بنیاد بنا کر انہیں مستحکم کرنا چاہئے تھا مگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنے اپنے اقتدار کے دوران بلدیاتی انتخابات کی نوبت نہ لانے کی ہر ممکن کوشش کی جس سے جمہوریت اور عوام کے لئے ان کے درد کی اصل حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی رہی ہے۔سپریم کورٹ کے سخت نوٹس لینے کے بعد بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں تو اب بلدیاتی اداروں کے نتائج کو ادھر ادھر جوڑنے یا اس میں ضفیہ ہاتھوں کو تلاش کرنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔بلدیاتی انتخابات چونکہ جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوئے ہیں اس لئے ان انتخابات کے نتائج سے ہر جماعت کو اپنی عوامی مقبولیت کا بھی بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے اور اس حوالے سے اپنی انتخابی سیاست کو عوامی خواہشات سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی اداروں سے خائف ہونے کے بجائے انہیں جمہوریت کی روح کے مطابق جمہوریت کی بنیاد بنائیں اس سے جمہوریت پر عوام کا اعتماد بھی مستحکم ہوگا ۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعداگلا مرحلہ مقامی حکومتوں کے بننے کاشروع ہونیوالا ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت بروقت اس مرحلے کو مکمل کرکے مقامی حکومتوں کو جو اختیارات منتقل کرنے ہیں وہ کردے گی تاکہ جلد ازجلد مقامی حکومتوں کانظام چل پڑے اور عوامی مسائل حل ہونا شروع ہوں۔ اگر دباﺅ اور پیسے کے لالچ میں ممبران کی خریدوفروخت ہوئی تو آگے چل کرخود حکومت کو مسائل کاسامنا رہے گا اور عوامی مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔