- الإعلانات -

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس

azmat-shir

اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں امن وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس سے دنیا کے بہت بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ اگر حل ہو گیا تو عالمی امن کے لیے دور رس نتائج کا حامل ہوگا بلکہ خطے پر اس کے بہت مثبت نتائج مرتب ہوں گے آئیے دیکھیں اصل میں یہ کانفرنس ہے کیا اور مقاصد کیا ہیں کن اہداف کو حاصل کرنے کے لیے یہ مشق کی جا رہی ہے۔پہلے پہل جب یہ کانفرنس بلائی جانے لگی تو اس کا مقصد خالصتا افغانستان میں قیام امن ہی تھا اور یہ صرف پڑوسی ممالک کے درمیان مشاورت کے لئے بلائی جانی تھی جو اس مسئلہ سے براہ راست متعلق تھے جس میں پاکستان ایران ازبکستان ترکمانستان مدعو تھے رشین فیڈریشن چین اور امریکہ کا بطور مبصر اور سہولت کار ریاستوں کے شریک ہونا تھا اب افغانستان میں موجود سبز چغہ پوش مسخرے کرزئی کی باقیات، افغان حکومت اورNDS کے بزر جمہروں کی سنجیدگی ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے عین اس وقت ملا محمد عمر کی موت کی خبر لیک کردی جب مذاکرات سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے تھے اور کسی through break قوی امکان تھااور اس تمام حرکت کے پیچھے ہندوستانی ذہن کا فرما تھا اب نہ جانے اس کا فائدہ کس کو ہوا غالبا کسی کو نہیں یا شاید پاکستان کو نیچا دکھانا مقصود ہو جس کا ان مذاکرات میں مرکزی کردار تھا اور انڈیا کا نہ کوئی کردار بنتا تھا اور نہ وہ کوئی کردار کرنے کے قابل ہے یہی انڈیا کا مسئلہ ہے کہ وہ بن بلائے مہمان کی طرح ان معاملات میں زبردستی دخیل ہونا چاہتا ہے لہذا اب یہ طے پایا کہ ایشیا کے تمام ممالک کو شریک کیا جائے اور اس کو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس قرار دیا جائے اور یوں پاکستان کے رول کو کم کرنے سعی لا حاصل کرنے کی کوشش بھی مودی سرکار کے ایمائ پر ہو رہی ہے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا رول کل بھی مرکزی تھا آج بھی مرکزی ہے اور آئندہ بھی مرکزی ہی رہے گا اب آئیے اس مشق کا دوسرا رخ پاکستان روز اول سے اس خطے اور پڑوسیوں کے ما بین امن کی نہایت سنجیدہ کوششیں کرتا رہا ہے تاکہ امن و امان اور تعاون کے ماحول میں تمام ممالک اور ان کے عوام ترقی کریں لیکن ہمارے پڑوسی انڈیا کو جتنا اپنے عظیم ہونے کا خبط سوار ہے وہ اخلاقی لحاظ سے اتنا ہی پست ہے پچھلی 6 دہائیوں سے انڈیا کو خطے میں اپنی دھونس جمانے کا خبط سوار رہا اس مقصد کے لئے کبھی مالیگاﺅں میں بے گناہوں کو ٹرین میں جلا کر مارنا کبھی حیدرآباد کی مکہ مسجد میں دھماکے کروانا کبھی بابری مسجد شہید کرنا کبھی اپنی ہی پارلیمینٹ پر حملہ کبھی سندھ اور کراچی میں تخریب کاروں کی سرپرستی اور فنڈنگ اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے انڈیا لے جانا اور ان کو تخریب کاری کی تربیت دینا جس کے ثبوت عالمی فورم پر برطانیہ کی وزارت داخلہ رپورٹ کی صورت میں موجود ہیں کبھی بلوچستان میں تخریب کاری کروانا کبھی فاٹا میں تخریب کاری کے اڈے قائم کرنا افغانستان میں تخریب کاروں کو فنڈنگ اور تربیت فراہم کرنا کبھی کانٹے سے کانٹا نکالنے کی دھمکیاں ہمارے پڑوسیوں اور دوست ممالک کے ساتھ غلط فہمیاں ڈالنے کی کوششیں کرنا اجیت ڈوول جو بزعم خود اپنے آپ کو جیمز بانڈ بنا کر پیش کرتا تھا اس کو counter کرنے کے لئے جنرل ناصر جنجوعہ کا انتخاب بہترین choice ہے انڈیا کاپاکستانی پانی چوری کرنامشرقی پاکستان میں انڈیا کا شرمناک کردار ادا کرنا اور اس پر فخر کرنا گودھرا میں مودی جی کا بہ نفس نفیس سازش کرنا اور احمدآباد میں 2000 سے زیادہ بے گناہوں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنا جو مودی جی کے براہ راست ذاتی احکامات پر ہوا یوں انڈیا کہ مکرنیوں کا ایک شرمناک ریکارڈ رکھتا ہے جب بھی اس کے حکومتی کا پرداز پاکستان آئے یہاں بہت کچھ قبول کیا اور انڈیا پہنچتے ائیرپورٹ پر ہی حقائق کے برعکس بیان داغ دیا کہ ہم پاکستان سے تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان تعاون ہی نہیں کرتا انڈیا پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف چانکیاءسیاست کرتا رہا اور دنیا میں خود کو مظلوم باور کراتا رہا اور ہماری حکومتیں مصلحتا مہر بلب رہیں کبھی بھی انڈیا کے خلاف کوئی ثبوت کسی بین الاقوامی فورم پر پیش کرنے سے مصلحتا گریزاں رہیں بھلا ہو ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کاکہ اب حکومت نے ہمت دکھائی اور ثبوت متعلقہ ادراوں کو پیش کردئے تو بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے آنے سے اسے خفت کا سامنا کرنا پڑا کل تک انڈیا پاکستان سے مذاکرات کے معاملے میں جس نخوت اور تکبر کا اظہار کرتا اور شرطیں عائد کرتا رہا امریکہ برطانیہ اور خاص طور پر فرانس کے دباو¿ کا شکار ہو کر مذاکرات پر آمادہ ہوا کاش وہ مذاق رات ثابت نہ ہوں انڈیا کا ٹریکریکارڈ تو یہی ہے ہم اپنی اور پوری قوم کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج صاحبہ کو پاکستان آمد پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہیں اللہ کے حضور دست بہ دعا ہیں کہ ہمارے خطے میں بھی امن اور خوش حالی کا دور دورہ ہو جس کے لئے ہندوستانی قیادت کی نیک نیتی شرط ہے۔