- الإعلانات -

افغانستان میں امن مگر کیسے

syed-rasool-tagovi

 ایک ضرب المثل مشہور ہے ”ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا“افغان حکام اس ضرب المثل پر سو فیصد پورا اترتے ہیں۔کیا حامد کرزئی حکومت تھی یا ڈاکٹر غنی کی موجودہ حکومت،اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے سوا انہیں کچھ نہیں آتا ہے۔ افغانستان میں امن بھلا کیسے قائم ہو جب اسکی قیادت کو الزام تراشی سے ہی فرصت نہیں ہے۔افغان صدر ڈاکٹر غنی نے پیر س میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کےلئے پاکستان آنے سے قبل الزام دوہرایاکہ پاکستان کی جانب سے مسلط غیر اعلانیہ جنگ کے باعث سنگین صورتحال کا سامنا ہے ،اسلام آباد کی طرف سے پہلا قدم ایسی صورتحال کا خاتمہ ہونا چاہیے۔پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان میں امن کی کوششوں کیلئے اتنا تعاون نہیں کیا جتنا کیا جانا چاہیے تھا اس کے نتیجے میں امن کے کئی مواقع ضائع ہوگئے، افغان امن عمل کا تعین تین بنیادی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے، پاکستان کی طرف سے غیر اعلانیہ جنگ اور اسکے نتیجے میں نقصان، دوسرا مسئلہ طالبان ہیں جن کی قیادت کئی دھڑوں میں تقسیم ہے، ان دھڑوںکو ہتھیار ڈال کر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کی ضرورت ہے “۔حیرت ہے یہ اس ملک کا الزام ہے جسکی خاطر پاکستان نے ایک لمبی جنگ اپنے گلے ڈال لی ہے۔ پاکستان آج دہشت گردی کا شکار بنیادی طور پر افغانستان کی وجہ سے ہے۔بلاشبہ پاکستان اور افغانستان میں امن دونوں ممالک کے پرامن ہونے میں مضمر ہے،یہ بات افغان حکام کو سمجھ نہیں آتی ۔ڈاکٹر غنی کہتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان میں امن کی کوششوں کیلئے اتنا تعاون پاکستان نے نہیں کیا جتنا کیا جانا چاہیے تھا، اس کے نتیجے میں امن کے کئی مواقع ضائع ہوگئے،لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ آپریشن ضرب عضب سے قبل پاکستان نے کتنی بار گزارش کی کہ سرحد کے اس پار بھی سیکیورٹی بڑھائی جائے تاکہ دہشت گرد فرار ہو کر ادھر نہ جاسکیں مگرغنی حکومت نے اس سلسلے ،میں کچھ نہ کیا۔ملا فضل اللہ آج بھی ادھر ہے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی پلاننگ کرتا ہے۔ افغانستان میں اگر امن و امان کی صورتحال افغان انتظامیہ کے قابو میں نہیں تو اسکی ذمہ داری پاکستان پرکیسے عائد ہوتی ہے۔ اشرف غنی بتائیںپاکستان کی سرزمین کون افغانستان کیخلاف استعمال کررہاہے؟ جبکہ پاکستان تو دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ بھارت افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔افغان انتظامیہ کو ادراک ہونا چاہئے کہ اگر افغانستان سے بھارت کا عمل دخل ختم ہو جائے تو پاکستان اور افغانستان میں جلد امن کی بحالی ممکن ہے۔افغانستان میںجب جب طالبان کی کارروائیوں میںشدت پید اہوتی ہے تو کابل کی طرف سے پاکستان پر الزام تراشیوں میں اضافہ ہو جاتا۔ الزامات کی اس راگنی میں بھارت اور امریکہ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔پاکستان تمام بہودہ الزامات ایک سے زائد بار مسترد کرچکا ہے۔قندوزافغان انتظامیہ کی مجرمانہ نااہلی کے باعث اسکے ہاتھ سے نکلا تو الزامات کی سنگ باری پاکستان کے خلاف شروع کی گئی۔اس وقت کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ قندوز میں غیر ملکی امدادی ادارے ایم ایس ایف کا ہسپتال پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ’آپریٹیو‘ کے زیر استعمال تھا اور آئی ایس آئی اس ہسپتال کو طالبان سے رابطے کے لیے استعمال کرتی تھی۔ پاکستان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا لیکن الزام تراشی جاری رہی اب جب حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے تومان لیا گیا ہے کہ امریکی فوجی جہازوں کا حملہ غلطی تھی مگر اسے انسانی غلطی کے کھاتے میں ڈال کر جان چھڑا لی گئی ہے ۔ایک طرف پاکستان پر افغان امور میں مداخلت کے الزامات کسی صورت تھمنے کا نام نہیں لے رہے تو دوسری جانب طویل عرصے سے پڑوسی ملک کی بدترین صورت حال کے نتائج بھگت رہا ہے۔سازشوں کا ایک سلسلہ ہے جورکنے کا نام نہیںلے رہا ہے۔ ادھرافغانستان کے مشرقی صوبوں میں مقیم قبائلی پناہ گزینوں کو پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑنے پر اکسانے کی منظم کوششیں وقتاً فوقتاًجا رہی رہتی ہیں۔بطور خاص افغانستان کے تین مشرقی صوبوں خوست پکتیکا اور پکتیا میں افغان اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان قبائلی پناہ گزینوں کو اکسا رہی ہیں کہ اگر وہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کریں تو انہیں ہر ممکن مدد اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں ہزاروں کی تعداد میں ان قبائلی خاندانوں نے افغان صوبہ خوست میں پناہ لے رکھی ہے جہاں بھارتی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیاں انہیں ورغلانے کی کوشش کررہی ہیں ۔اس پار سے پاکستانی چوکیوں پر حملے انہیں کوششوں کا نتیجہ ہیں۔بجائے اس کے کہ افغان حکام اس کا سد باب کریں الٹا الزام تراشی سے ماحول خراب کرتے رہتے ہیں۔پاکستان کے خلاف کیا کیا الزامات نہیں لگائے گئے،قندوز کو ہی لے لیجئے پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی مگر بعد میں۔آج امریکہ نے غلطی تسلیم کر لی۔گزشتہ سال بھارت نے ایک کشتی کا ڈرامہ رچایا جو جھوٹ نکلا۔یہ کتنی افسوسناک سوچی سمجھی پالیسی ہے کہ پہلے نام نہاد مستند رپورٹس کی آڑ میں افسانے تراشے جاتے ہیں جب مذموم مقاصد پورے ہو جاتے ہیں تو انسانی غلطی کے نام پر معذرت کر لی جاتی ہے۔یہ بھی کیا طرفہ تماشہ ہے۔