- الإعلانات -

حسین حقانی نیٹ ورک اور سپریم کورٹ کا نوٹس

میمو گیٹ کے مرکزی کردار اور سابق سفیر حسین حقانی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک بار پھر یاد کر لیا ہے۔اگلے روز اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران جب جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ تارکین وطن کے دلوں میں پاکستان دھڑکتا ہے تو اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک ایسا پاکستانی بھی ہے جو عدالت سے وعدہ کرکے واپس نہیں آیا۔انہوں نے استفسار کیا کہ حسین حقانی کہاں ہیں، کیا حسین حقانی کو بھی ووٹ ڈالنے کی سہولت ملے گی،کیوں نا انہیں نوٹس کرکے بلا لیں تاکہ وہ پاکستان آکرمیمو گیٹ کا بھی سامنا کریں۔چنانچہ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس سے میمو گیٹ کیس کی فائل بھی طلب کرلی۔یہ2011کا واقعہ ہے جب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے ایک امریکی شہری منصور اعجاز کے ذریعے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا تھا۔جو بعدازاں میمو گیٹ بنا۔اس میں بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کاکہا۔مذکورہ مراسلے پر سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت کئی افراد نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔جسکی سماعت کئی دن تک جارہی مگر بغیر کسی نتیجے پر پہنچے یہ کیس اس وقت داخل دفتر ہو گیا جب حسین حقانی کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی عدالت نے انہیں بیرون ملک جانے دیا تھا۔حسین حقانی پاکستان کی ان متنازعہ ترین شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ملک کی سالمیت کی پروا کیے بغیر ذاتی مفاد اور شہرت کو ترجیح دی۔حسین حقانی2012سے ملک سے بگھوڑے ہیں۔اس عرصہ کے دوران انہیں جب بھی موقع ملا پاکستان کی ساکھ اور سالمیت پر گہرے چرکے لگانے کی ہر ممکن کوشش کی۔حال ہی میں انہوں نے مولانا خادم رضوی کے فیض آباد دھرنے اور اسکے ایگریمنٹ کے پس منظر میں ایک امریکی اخبار میں آرٹیکل Pakistan Caught between Mosque and Military, Again لکھا ہے۔اس آرٹیکل کا عنوان ہی بتا رہا ہے کہ موصوف نے کیا زہر اُگلا ہوگا۔جبکہ قبل ازیں اسکے کئی ایسے متنازعہ مضامین امریکی اور بھارتی میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں۔ کئی تقریبات میں انہوں نے وہ کچھ کہا کہ جس پر بھارت اُن پر وارے وارے جاتا ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ان کا جو مضمون منظر عام پر آیا تھا اُس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اوباما انتظامیہ سے انکے’’روابط‘‘کی وجہ سے ہی امریکہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے میں کامیاب ہوا۔انہوں نے اپنے مضمون میں امریکیوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔حسین حقانی نے مذکورہ مضمون میں امریکی انتخابات سے قبل اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے تعلقات کا دفاع کیا اور کہا کہ انھوں نے بھی2008 ء کے انتخابات میں سابق صدر اوباما کی صدارتی مہم کے ارکان کے ساتھ اسی طرح کے تعلقات استوار کیے تھے۔انھوں نے یہ بھی کیا کہ ان روابط کی بنا پر ان کی بحیثیت سفیر ساڑھے3سالہ تعیناتی کے دوران دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون ہوا اور آخرکار امریکہ کو پاکستان کی انٹیلی جنس سروس یا فوج پر انحصار کیے بغیر اسامہ بن لادن کے خاتمے میں مدد ملی۔یہ بھی اقرار کیا کہ اوباما کی صدارتی مہم کے دوران بننے والے دوستوں نے تین سال بعد ان سے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے حوالے سے مدد مانگی۔میں نے یہ درخواست براہ راست پاکستان کی سیاسی قیادت کے سامنے رکھی، جسے منظور کرلیا گیا۔میمو گیٹ اس چیز کے گرد گھومتا تھا جو اُس وقت حسین حقانی ماننے کو تیار نہ تھے۔اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی کو سفیر کے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے تھے اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکہ کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔حسین حقانی نے جو عزت پاکستان کے اہم عہدوں پر رہ کر کمائی تھی وہ بیرون ملک پاکستان دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ کی وجہ سے گنوا چکے ہیں۔آج ملک میں کوئی ان کا نام اچھے الفاظ میں لینے کو تیار نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ان کا طرز عمل اور سوچ ہے جو ان کی تحریوں سے جھلکتی ہے۔غدار وطن الطاف حسین ہوں ،یا پاکستان مخالف امریکی سینٹرز ہوں، یا بھارت کے ساتھ انکی سرگرمیاں ،یا میمو گیٹ ہو یہ سب عوامل ان کی حب الوطنی کو متنازعہ بنانے کیلئے کافی ہیں۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار چلا آرہا ہے، ایسے میں اگر کوئی پاکستانی پاکستان مخالف کیمپ میں کھڑے ہو کر پاکستان کے اداروں کو لعن طعن کرے یا حساس ملکی ایشوز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرے گا تو ایک عام پاکستانی بھی اسے برداشت نہیں کر پائے گا۔جیسے کہ موصوف نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کی مخالفت کی،ایٹمی پروگرام کیخلاف زہر افشانی کی، بھگوڑے بلوچ لیڈروں کے نام نہاد موقف پر بھارت کی ہمنوائی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اپنے اوپر لگے میمو گیٹ الزامات کا ملک میں رہ کر دفاع کریں نہ کہ بیرون ملک بیٹھ کر کسی کی ڈگڈی پر تماشہ۔حیرت ہے کہ حسین حقانی جیسا ایک جہاندیدہ اور صاحب حیثیت شخص بھی اگر کسی کے چنگل میں پھنس کر چند ٹکوں کو ترجیح دیگا تو پھر ان سے کیا گلہ جن کو کچن چلانے کے لیے آلہ کاری جیسا مکروہ فعل اپنانے میں ذرا بھی عار محسوس نہیں ہوتی۔ایسے نامراد آلہ کاروں کی کمی نہیں ہے۔ابھی دو ہفتے قبل لاپتہ افراد کیس میں شہرت پانے والے ماما قدیر نے بھی کسی کا نمک ہلال کرنے کیلئے ایک درفطنی چھوڑی ہے کہ کلبھوشن یادیو کو آئی ایس آئی نے چاہ بہار سے اغوا کیا تھا۔ایک بھارتی ٹی وی چینل سی این این نیوز 18سے بات چیت میں کہا کہ کلبھوشن یادیو کو ملا عمر اغوا کرکے ماشکیل لایا۔ اس کے بعد پھر اسے کوئٹہ لایا گیا پھر اس کو اسلام آباد لے گئے۔یادیو کا بلوچستان اور پاکستان کے کسی بھی علاقے میں تشدد ، دہشتگردی پھیلانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کر ڈالا کہ اس مقصد کیلئے ملا عمر کو 5کروڑ روپے ادا کیے گئے۔پتہ نہیں ماما قدیر نے ملا عمر کے حوالے سے دعویٰ کس ترنگ میں کر ڈالا۔سادہ لوح ماما قدیر اور ان کے منہ یہ الفاظ ڈالنے والوں پر ترس آتا ہے کہ جن کو ملا عمر کے مرنے کا بھی علم نہیں کہ وہ کب مرا تھا اور کلبھوشن کو کب گرفتار کیا گیا۔