- الإعلانات -

پولیس مقابلے یاماورائے عدالت قتل

پولیس مقابلوں اور’’ماورائے عدالت‘‘قتل کرنے کی وارداتوں کا سلسلہ تو بہت پرانا ہے لیکن ماضی میں پولیس مقابلے کی خبرکبھی کبھار سننے اور پڑھنے کو ملتی تھی،جرم تھا لیکن کم،دہشت گردی کا نام ونشان نہ تھا۔یہ نائن الیون کا شاخسانہ تھا کہ اس کے بعد ہی پولیس مقابلوں کو قبولیت اور تقویت ملی۔ایسے پولیس مقابلے بلاشبہ غیر قانونی ہیں لیکن پولیس حکام آف دی ریکارڈ اس کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ یہ فوری انصاف کا تیر بہدف نسخہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض مجرموں کے خلاف شہادتیں اتنی مضبوط نہیں ہوتیں لوگ جان کے خوف سے ان کے خلاف گواہی دینے سے ڈرتے ہیں ایسی صورت میں قوی امکان ہوتا ہے کہ یہ مجرم ضمانتوں پر رہا ہو کر باہر آجائیں گے اور لاقانونیت کا بازار گرم کر دیں گے لہذا ان کا ایک ہی علاج ہے کہ انہیں پولیس مقابلوں میں ان کے انجام تک پہنچا دیا جائے۔اس سے دیگر مجرموں کوبھی عبرت حاصل ہوتی ہے۔اس دلیل میں کسی قدر وزن تو ہے لیکن اس میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ اس عمل پر پولیس خود ہی منصف بن بیٹھتی ہے۔اگر سزا دینے کا فیصلہ پولیس نے ہی کرنا ہے تو پھر عدالتوں کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ اخبارات سنگین جرائم کی خبروں سے بھرے ہوئے نہ ہوں ۔ایک طرف مجرموں نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے ،دوسری طرف پولیس زیادتیوں کی شکایات زبان زد عام ہیں ۔یوں بے بس عوام چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ گئے ہیں ۔جرائم کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافے نے یہ تاثر بھی پختہ کیا ہے کہ خود پولیس والے ان جرائم پیشہ گروپوں کی بنیاد ڈالتے ہیں ،ان کی سر پرستی کرتے ہیں اور انہیں پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔اگر علاقے کا ایس ایچ او اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دے رہا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس علاقے میں گھناؤنے جرائم ہوتے رہیں ۔پاکستان میں ہونے والے تمام جرائم کے پیچھے وہ با اثر لوگ ہوتے ہیں جو سیاست سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک مضبوط رسائی رکھتے ہیں یہی لوگ تو جرائم کراتے ہیں اور جرائم پیشہ افراد کو بچانے کیلئے سامنے آتے ہیں ۔چونکہ ہمارے حکمران طبقات کے کاروبار کا وسیع تر حصہ بھی غیر قانونی جرائم پر مبنی ہوتا ہے اس لئے اس کے فروغ کیلئے ان کو طاقت ،اقتدار اور ریاستی اداروں کے اہل کاروں کی شدید ضرورت پیش آتی ہے ۔ان وارداتوں میں ملوث اعلیٰ پولیس اہلکار جرم کے خاتمے اور مجرم کو پکڑنے والی طاقت کی بجائے خود مجرم بن جاتے ہیں جہاں وہ چند وارداتیں اپنی سیاسی پشت پناہی کرنے والے اہل اقتدار لیڈروں کیلئے کرتے ہیں وہاں بہت سے مجرمانہ اقدامات وہ اپنی دولت اور طاقت مین اضافے کیلئے بھی کر رہے ہوتے ہیں ۔سابقہ ادوار میں وطن عزیز کے پولیس سمیت مختلف اداروں کے زوال کا سبب یہ سیاسی مداخلت اور سیاسی اثرو رسوخ ہی رہا۔حال ہی میں پولیس مقابلوں کے حوالے سے شہرت پانے والے ایس ایس پی کراچی راؤ انوار کی گرفتاری کے احکامات صادر کر دئیے گئے ہیں۔اس ایس ایس پی نے چار برسوں میں اخباری گنتی کے مطابق 250افراد قتل کئے۔یہ حقیقت تو پردہ غیب میں ہے کہ ان میں کتنے مجرم اور کتنے بے گناہ تھے،البتہ یہ طے ہے کہ سبھی قتل کئے گئے،ایک شخص بھی کسی پولیس مقابلے میں نہیں مارا گیا،دوسرے لفظوں میں سب پولیس مقابلے جعلی تھے۔کہتے ہیں کہ اس کھیل میں لوگ اٹھائے جاتے،رہائی کے عوض پانچ سے دس لاکھ مانگے جاتے وگرنہ اگلے روز لواحقین کو ان کی لاشیں ملتیں۔ایس ایس پی کے اثاثوں میں اضافہ ہوتا گیا،بیرون ملک جائیدادیں بھی بن گئیں،زمینوں پر قبضے کا وسیع کاروبار بھی اس نے پھیلا لیا ۔نقیب اﷲ محسوداور اسی طرح کے دیگر پولیس مقابلوں میں ہونے والے حالیہ قتل نے ایک مرتبہ پھرباطل طریقہ واردات کو نمایاں کر دیا ہے۔ایس ایس پی راؤ انوار کو مورد الزام ٹھہرایا جانا،اس کے فرار کی کوشش اور پھر دھڑلے سے گرفتاری رد کرتے ہوئے روپوشی میں چلے جانا کسی صاحب اثر کی پشت پناہی کی نشاندہی کرتا ہے۔رحمان ڈکیت سے لیکرعزیز بلوچ تک بہت سے پیشہ ور قاتلوں اور مجرموں سے سیاسی آقاؤں سے گہرے رشتے پہلے ہی سامنے آچکے ہیں لیکن جب ایسے ڈاکو اور قاتل پکڑے جاتے ہیں تو پھر ان حکمرانوں کو اپنے کالے کرتوتوں کے بے نقاب ہونے ہونے کا بھی ڈر ہوتاہے اس لئے پھر انہی چہیتے ڈکیتوں اور خونیوں کو وہ ٹھکانے لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔رحمان ڈکیت مقابلے میں مارا جاتا ہے اور عزیز بلوچ سے کوئی ایسی ڈیل ہو جاتی ہے جو اس کی زبان بندی کر دیتی ہے ۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سال 2015ء میں دو ہزار سے زائد افراد کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارا گیا جبکہ 2016-17ء میں یہ تعداد مزید بڑھ گئی۔انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق گزشتہ سال کراچی میں 68سے زائد پولیس مقابلوں میں 148افراد کوماورائے عدالت قتل کیا گیا ۔نقیب اﷲ کے قتل سے چند دن قبل انتظار احمد نامی شخص کو پولیس نے فائرنگ کر کے قتل کیا ۔نقیب اﷲ کے قتل کے سات دن بعد کراچی ہی میں پولیس نے پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی محمد مقصود کو گولی مار دی ،جسے مبینہ طور پر ڈاکو کہا گیا اور پھر کہا گیا کہ ڈاکوؤں سے مقابلے میں ڈاکوؤں کی گولی محمد مقصود کو لگی حالانکہ اسی پولیس مقابلے میں ایک عام شہری رکشہ ڈرائیور زخمی ہوا۔ایس ایس پی راؤ انوار نے گرفتاری دینے کی بجا ئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے اور اپنے ہی اعلیٰ حکام پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتنے بھی پولیس مقابلے ہوئے یہ ایک پالیسی کے مطابق ہوئے اگر میرے خلاف مقدمہ بنتا ہے تو دفعہ 109کے تحت سب کے خلاف ایف آئی آر ہونی چاہئیے۔آئی جی سندھ ڈی راجہ نے راؤ انوار کے الزامات سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ راؤ انوار قانون سے بچنے کیلئے بے بنیاد الزام تراشی کا سہارہ لے رہا ہے ،نہ کبھی ماورائے عدالت مقابلوں کے احکامات دئیے نہ یہ سندھ پولیس کی پالیسی رہی ۔ان کا کہنا تھا کہ راؤ انوار جھوٹ بولنے سے باز آئیں اور خود کو قانون کے حوالے کر دیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نقیب اﷲمحسود کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں نقیب اﷲ کے ماورائے عدالت قتل کا ازخود نوٹس لیا تھا اور راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 27جنوری کو عدالت میں طلب کیا تھا لیکن راؤ انوار حسب توقع عدالت میں پیش نہیں ہوا ۔اس موقع پر چیف جسٹس نے سخت ریماکس دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کہیں بااثر شخصیات نے تو رائے انوار کو نہیں چھپایا ہواہے ۔آئی جی نے عدلیہ کو بتایا کہ راؤ انوار مفرور ہے،اسلام آباد میں موجودگی کے وقت مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا ۔عوامی حلقوں میں اس بات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ راؤ انوار پاکستان سے چور دروازے سے فرار ہو چکے ہیں ۔آج جبکہ نقیب اﷲ محسود کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان یکسانیت اور اتفاق رائے موجود ہے تو ایسے اقدامات درکا ر ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات وقوع پذیر نہ ہو سکیں۔