- الإعلانات -

گوادر فری زون کا افتتاح

پیر کے روز گوادر فری زون کے افتتاح کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں پر دستخط کی تقریب ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی موجود تھے دونوں ممالک کے درمیان جو معاہدے ہوئے ان میں تیانجن اور گوادر بندرگاہ کے درمیان سسٹر پورٹس کا معاہدہ پیانگ سٹی اور گوادر کے درمیان سسٹر سٹیز کا معاہدہ خطے میں غربت کے خاتمے کیلئے گوادر ترقیاتی ادارہ اور چائنہ ہولڈنگ کمپنی کے درمیان معاہدہ پی ایس او، چینی کمپنی جی آئی ٹی ایل اور گوادر کے درمیان معاہدہ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور فری زون کمپنی کے درمیان معاہدہ اور ہاتا ٹریڈ سٹی اور گوادر فری زون کے درمیان معاہدہ شامل ہے۔دونوں ممالک کے نمائندوں نے گوادر کی ضلعی حکومت اورچائنااوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے درمیان تخفیف غربت اقدام کے ضمن میں معاہدے پربھی دستخط کئے۔ مزید برآں وزیراعظم نے گوادر فری زون کا بھی افتتاح کیا .افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے نہ ملک بلکہ پورے خطے میں خوشحالی آئے گی، آج سی پیک کے خواب کی تعبیر ہو گئی.انہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ یہ افتتاح چین اور پاکستان کی طرف سے خطے میں رابطوں کے فروغ کے حوالے سے پیش کردہ تصور کوعملی جامہ پہنائے جانے کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری خصوصی اقتصادی زونز سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا جب کہ یہ ہماری نسلوں کے لئے انتہائی اہم منصوبہ ہے جو معاشی مسائل کو حل اور مستقبل کیلئے رابطے قائم کررہا ہے.انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت بننے والے منصوبوں میں موٹرویز سمیت شاہراہوں کے ڈھانچے کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ کی ترقی شامل ہے، راہداری بندرگاہ کو خنجراب اور وسطی ایشیائی ریاستوں سمیت دوسرے ملکوں کے ساتھ ملائے گی جب کہ اس منصوبے میں پاکستان ریلویز کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور بجلی گھروں کا قیام بھی شامل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی سے متعلق وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت ترقی کی کوششوں میں صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کرے گی، صوبائی حکومت کو ساحلی پٹی کی ترقی اور گوادر کو دنیا کا جدید مثالی شہر بنانے کیلئے حکمت عملی وضع کرنی چاہیے تاکہ بلوچستان کے لئے مساویانہ پیکیج سے صوبے کے تمام اضلاع میں مساوی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے اور پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کئے جاسکیں۔سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان کا اقتصادی مستقبل وابستہ ہے.یہی وجہ کہ پاکستان دشمن لابیاں اسے متنازعہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں.لیکن یہاں باعث اطمینان امر یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ ایسے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس سے تمام سازشیں ناکام ہوں گی.بلاشبہ یہ منصوبہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے جس سے خوشحالی کے نئے نئے در وا ہوں گے لیکن بدقسمتی سے پڑوسی ملک بھارت کو یہ منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ مسلسل سازشوں میں مصروف ہے،اگلے روز بھارتی وزیراعظم نریند مودی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہم پاکستان سے بہت لڑ لئے، اب ہمیں غربت اور بیماری کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ دونوں ملک باہم مل کر یہ جنگ لڑیں تو ان کی جیت یقینی ہو گی. اگر واقعی مودی اپنی اس خواہش میں سنجیدہ ہیں تو پاکستان یقیناًاس کا خیر مقدم کرے گا لیکن وہ اس سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے عملا کیا کر رہے ہیں.سی پیک جو پورے خطے کی تقدیر بدلنے کا حامل منصوبہ ہے اسے ناکام بنانے اس کی راہ روڑے اٹکانے میں کیوں مصروف ہیں۔
کابل میں دہشتگردی،الزام تراشی مسئلے کا حل نہیں
برادر پڑوسی ملک افغانستان میں اوپر تلے دہشت گردانہ حملوں نے قیامت برپا کردی ہے. پیر کے روز ایک بار پھر دارالحکومت کابل کو نشانہ بنایا گیا.افغان وزارتِ دفاع کے مطابق دارالحکومت کابل میں واقع ایک فوجی اڈے پر حملے میں 11 افغان سکیورٹی اہلکار اور چار حملہ آور ہلاک ہو گئے . قبل ازیں کابل کے ایک ہوٹل اور پھر ایمبولینس میں دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان سب حملوں کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔گزشتہ دس دن کے اندر یہ تیسرا بڑا حملہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے.یہ حملے دارالحکومت کے ایسے علاقے میں ہوئے ہیں جہاں یورپی یونین سمیت کئی غیر ملکی اور عالمی اداروں کے دفاتر قائم ہیں۔افغانستان میں ایسی تباہ کن سنگین کارروائیاں معمول بن چکی ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں شدت آ رہی ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ خالی نہیں جاتا کہ جس میں خوفناک دہشتگردی نہ ہو. افغانستان کے طول و عرض میں طالبان کے علاوہ اب داعش بھی سرگرم ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی گزشتہ سولہ برس سے دہشتگردی کے خلاف نمبرد آزما ہیں لیکن صورتحال بدلنے کا نام نہیں لے رہی. اس سے افغانستان میں امن کے لیے امریکہ کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کی ناکامی پوری طرح واضح ہو رہی ہے۔ اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ محض طاقت کے ذریعے دہشت گردی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت اور سیاسی حل تلاش کیا جائے.ماضی میں اوبامہ انتظامیہ اس جانب کوششیں کرتی رہی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان اور چین نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بھر پور تعاون بھی کیا.یہ کوششیں کیوں بار آور نہ ہو سکیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اکثر و بیشتر خود امریکہ طاقت کے بے جا استعمال سے ان کوششوں کو برباد کرتا رہا ہے. ٹرمپ انتظامیہ نے تو آتے ہی بات چیت کے تمام دروازے بند کر کے کچل دینے کی راہ اپنا کر افغانستان کو نئے سرے سے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے.اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام اٹھانا پڑ رہا ہے جو ہرروز اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر چور ہوچکے ہیں.عاقبت نا اندیش افغان حکمران عظیم تر ملکی مفاد کی بجائے اپنے اقتدار کے تحفظ میں امریکہ اور بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے میں پیش پیش ہیں.ادھرٹرمپ پالیسی سے صرف افغانستان ہی نہیں پورے خطے کا امن داو پر لگ گیا ہے. ہوشمندی کا تقاضا ہے پاکستان، چین، روس اور ایران کی کوششوں کو بروئے کار لا کر متفقہ سیاسی حل تلاش کیا جائے۔یہاں افسوسناک پہلو خود غنی حکومت کا رویہ بھی ہے جس نے معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی بجائے سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی روش اپنا کر خود کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے.افغانستان جو پاکستان کے ساتھ مذہبی، تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں میں منسلک ہے کا یہ منفی رویہ انتہائی ناقابل فہم ہے۔اس وقت مودی اور غنی انتظامیہ پاکستان مخالفت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر سرگرم ہیں۔ حالیہ حملوں کا الزام بھی پاکستان پر دھرا جا رہا ہے. کہا جا رہا ہے کہ یہ حقانی نیٹ ورک کے دہشت گرد ہیں جو پاکستان سے آتے ہیں. پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ غنی حکومت بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے حملوں کی تحقیقات کرائے۔تواتر کے ساتھ لگائے جانے والے ان الزامات کا یہی ایک بہتر حل ہے کہ بڑے پیمانے پر تحقیقات کرکے یہ حقائق سامنے لائے جائیں کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو دونوں ممالک میں مغالطوں کو ہوا دینے کے لیے یہ بہیمانہ کھیل کھیل رہے ہیں .جبکہ دوسری طرف امریکہ اگر افغان امن میں سنجیدہ ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا پڑے گا۔ الزام تراشی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔