- الإعلانات -

فیض آباد دھرنا۔’را‘ کے نصیب میں پچھتاوا

اگرکوئی یہ کہے کہ ملک میں جاری جمہوری سسٹم کوپارلیمنٹس یا پارلیمنٹرین کی بجائے کسی اورآئینی ادارے سے کوئی خطرہ ہے تو وہ صریحاً غلطی پر ہے’سمجھ میں نہیں آتا ایسالوگ اگر سوچتے ہیں تووہ کیوں سوچتے ہیں ملک میں جمہوریت کا نظام جاری وساری ہے’آزادعدلیہ بلاخوف وخطراپنے فیصلے سنا رہی ہے’پارلیمنٹس کے اجلاس شیڈول کے مطابق باقاعدگی سے ہورہے ہیں پھربھی نجانے کیوں بعض حلقے بضد ہیں کہ جمہوریت کو(خدانخواستہ)فوج یاعدلیہ سے کوئی خطرہ لاحق ہے؟پہلی بات یہاں یہ سمجھ لی جائے کہ ملک میں جمہوریت اب ‘ٹیک آف’ کرچکی ہے’چند ماہ بعدعام انتخابات ہونے کوہیں اب یہ سوچنا ملکی عوام کا کام ہے’جس طرح کے جمہوری پروسیس کے اعمال وافعال کے طے کردہ اصولوں کو وہ پسند کرتے آئے ہیں ویسے ہی جمہوری اعمال وافعال کے آئندہ بھی اْن کے سامنے وہ ہی نتائج برآمد ہونگے’ نظامِ جمہوریت میں اگرعوام اب بھی کوئی تشنگی یا کمی بیشی چاہتے ہیں کسی قسم کی تبدیلی کے خواہش مند ہیں اِس کا فیصلہ بھی بلاآخرملکی عوام نے ہی خودکرنا ہے آئین وقانون کی تشریح وتوضیح ملک کی عدالتِ عظمیٰ کی آئینی ذمہ داری ہے’ملک کے سبھی قومی ادارے ملکی آئین کے تابعِ فرمان ہیں’اعلیٰ عدالتوں کا احترام ہرقومی ادارے کا آئینی فرض ہے’گزشتہ پانچ برس کی جمہوری حکومت کی مجموعی کارکردگی کیسی رہی؟عوام کی امنگوں کے مطابق رہی یا سیاسی مصلحتوں کا شکار رہی؟اندرونی وبیرونی امن وامان کی صورتحال کوبہترطورپر چلانے میں موجودہ حکومت کی اتھارٹی کو کسی نے چیلنج کیا یا نہیں؟ اِن سب سوالوں کے جواب آئندہ ہونے والے عام انتخابات پر منحصر ہے لیکن یہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ مذہبی شدت پسندوں کو جنہیں ہم ‘جنونی’ نہیں کہہ سکتے اْن مذہبی پریشر گروپس نے گزشتہ برس 2017 ماہِ نومبر میں حکومت کو خاصا’ٹف ٹائم’دیا مثلاًپارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں اور ایوانِ پالا نے ایک ایسے بل کی منظوری دی جسے’تحریکِ لبیک یارسول ﷺنے عوام کے پریشر سے یکسر مسترد کردیا گو بعد میں عوامی پریشر کے سامنے حکومت کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے ہی پڑے ایک وفاقی وزیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا یہ عوام کا مطالبہ تھا یہاں یہ سب کچھ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جن مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوام کو سڑکوں پر لانے کی غرض سے راولپنڈی میں دھرنا دے رکھا تھا یہ مقام جہاں وہ کئی روز سے بیٹھے ہوئے تھے راولپنڈی اور اسلام آباد جڑواں شہروں کے داخلے فیض آباد بائی پاس کو اْنہوں نے یوں سمجھیں ہائی جیک کیا ہوا تھا کسی قیمت پر اْس مقام سے ہٹنے کو تیار نہ تھے جس سے حکومت اور عام پاکستانیوں کا اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آنے جانے پر شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا تھا حکومت نے بھی دھرنا دینے والی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی بات سننے میں دیر کی یوں معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے ہی چلے گئے یہ خالصتا ایک مذہبی حساس مسئلہ تھا جسے پہلے روز ہی نمٹا دیا جانا چاہیئے تھا حکومت نے معاملہ کی سنگینی کا احساس نہیں کیا اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو اِس انتہائی حساس دینی مسئلہ کو پْرامن طور پر فورا حل کرنے کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائی اور ایک معینہ مدت کے دوران دھرنا کے مقام کو تبدیل کرنے اور عوامی شاہراہ کو کھولنے کی اشد ضرورت کو بحال کرنے کا حکم دیا یوں ایک بار پھر حالات مزید انارکی کی طرف بڑھتے نظرآئے اِس سارے معاملے میں مزید شدت اور سنگینی اْس وقت اور بڑھنے لگی جب حکومت نے مقامی پولیس اور پنجاب پولیس کے دستوں کی مدد سے دھرنا ختم کرنے کی اپنی سی ٹھان لی ایسے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حساس عسکری سیکورٹی اداروں کی رپورٹس پر ملک کے اندرکسی بھی قسم کی بدامنی کو مزید پھیلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کیا حکومتی اعلیٰ سطحی ذمہ داروں کو اپنے اعتماد میں لے کر دھرنے کے شرکاء پر طاقت استعمال کرنے کی بجائے افہمام وتفہیم کا راستہ اختیار کرنے احکامات دئیے فوج کے چند افسران چند گاڑیوں میں جب دھرنے کے مقام پر پہنچے تو مقامی پولیس اور پنجاب پولیس کے دستے پیچھے ہٹ گئے دھرنے کے شرکاء نے فوجی حکام کو اپنے درمیان پاکر پاکستان فوج زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردئیے، بین السطور جو کچھ بھی عرض کیا گیا ہے ،یہاں اِس کی غرض وغایت صرف یہی بنی کہ جہاں کسی بھی معاملے میں پاکستانی فوج جب کبھی بھی متحرک ہوتی ہے عین ایسا ہی دیکھا گیا ہے کہ بلا کسی مطلب بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ پاکستانی فوج کی ساکھ کو مجروح کرنے کی اپنی بدنیتی کے ساتھ ہمیں اپنی سازشوں میں مصروف نظرآتی ہے عقل کے اندھوں کو کیا نظرنہیں آرہا ہے کہ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ’ کے نام پر مر مٹنے والے متوالوں پر اگر اْس روز حکومتی پالیسی کے تحت اندھا دھند سختی برتی جاتی تو ملک بھر میں ایک نہ ختم ہونے والا مذہبی بھونچال نہیں آجاتا ‘را’ کی شائد یہی مرضی تھی اندرونی طور پر پاکستان کوعدم استحکام دیکھنے کی خواہشمند ‘را’ کے ایسے سارے خواب پاکستانی فوج نے چکنا چور کردئیے’ اب جب ‘را’ کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تو’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ’ کے مصداق ‘را’ نے دسمبر2017 میں پاکستانی فوج اور ملکی سپریم انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کو نشانے پر رکھ کر اپنے ‘پے رول’ پر بھارتی صحافیوں کو استعمال کیا اور ایسے زہریلے مواد پر مبنی مضامین شائع کروائے، جن کا واحد مقصد یہی رہا کہ ‘فیض آباد دھرنے’کے پیچھے شائد کوئی سازش تھی؟ پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اِس بارے میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ بارہا ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو تشفی بخش جوابات دیکر اْنہیں برابر مطمئن کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر بپھرے ہوئے مظاہرین میں گھل مل کر اْنہیں آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے پر پْرامن طور پر رضامند کرنے کا اہم قومی فریضہ ادا کیا ہے اگر پاکستان کے ازلی وابدی دشمنوں کو پاکستانی فوج کا یہ وطن پر ستانہ کردار پسند نہیں تو وہ اپنی مستی میں گم رہیں’’را‘‘ کا پاکستان،پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈا مہم سے نہ پاکستان کو نقصان پہنچ سکے گا نہ افواجِ پاکستان کو اور نہ ہی’’را‘‘ کی منہ زور سازشوں کے خلاف ہمہ وقت کمر بستہ آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں کبھی ماند پڑیں گی۔
***