- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر کا حل صرف حق خود ارادیت

پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے۔بھارتی وزیراعظم نے پھر وہی رٹ لگا رکھی ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارتی قیادت کا یہ طرزعمل نیا نہیں۔ جب بھارتی لیڈر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر کشمیر سمیت تمام مسائل پر جامع مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے جب جموں وکشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ آپ کو یاد رکھنا ہوگا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘۔ من موہن سنگھ کا یہ کہنا کہ ’’ خوشحال پاکستان بھارت کے مفاد میں ہے۔ ہم پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں‘‘۔ بالکل خوشحال پاکستان بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے لیکن یہ خوشحالی کب اور کیسے آئے گی؟ اس پربھارت خاموش ہے۔ جب تک بھارتی حکمران اٹوٹ انگ کی رٹ نہیں چھوڑتے، پاکستان خوشحال ہو سکتا ہے اور نہ ہی بھارت اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں بڑی طاقتوں نے بھی کبھی اپنا مثبت اور صحیح کردار ادا نہیں کیا۔یہی وجہ سے کہ ہندوستان اپنی پوری طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچل دینا چاہتا ہے۔ہندوستانی حکومت عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمران پاکستان پرکشمیر میں دہشت گردی کا بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں۔ ہندوستانی حکمرانو ں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی قوم آزادی کے حصول پر تل جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کو آزادی کے حصول سے نہیں روک سکتی۔ کشمیری آزادی کی تلاش میں سرکردہ ہیں اور وہ اس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ اس میں بڑے تو بڑے جوان، عورتیں، بچے سبھی شامل ہیں۔ہندوستان اپنی آٹھ لاکھ فوج کر استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روک نہیں سکا اور وہ زیادہ دیر تک طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا۔بھارت پر واضح رہنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیئے بغیر جمہوریت کا چیمپئن نہیں بن سکتا۔ بھارت کو جلد یا بدیر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنا ہوگا۔ جن میں یہ طے کیا گیا ہے کہ ایک غیر جانبدار، منصفانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ بھارت ان قراردادوں کو قصہ پارنیہ قرار دے کر اس مسئلے کے حل سے پہلو تہی کر رہا ہے۔ بھارت کا اصرار ہے کہ اس مسئلے کو طے کرنے کے لیے دوطرفہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہ بات شملہ معاہدے کا حصہ بھی ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت اول تو مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہی نہیں یا پھر مذاکرات میں وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ حق خود ارادیت کیلئے کشمیریوں کی جدوجہد جائز ہے کیونکہ اقوام متحدہ نے بھی 5 جنوری 1949ء کویہ حق تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔ پاکستان و بھارت نے اس قرارداد کو تسلیم کیا مگر بھارت بدنیتی کی بناء پر نت نئے بہانوں سے رائے شماری کو ٹال رہا ہے۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی بھی ایک عرصے سے بھارت کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد کو طاقت کے بل پر دبانے میں ہر سطح پر ناکام ہو چکا ہے۔ مسئلہ کشمیر توڑے گئے وعدے کا مسئلہ ہے ۔ اگر بھارت اپنا وعدہ پورا کر دے تو مسئلہ کشمیر خود بخود ختم ہو جائیگا۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے جہاں بھارت ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے وہاں خطے کے دوسرے ممالک بھی سکون کا سانس لے سکیں گے۔14 اگست 1947ء کو برطانوی فرماں رواؤں اور ہندوؤں نے باہمی منصوبہ بندی کر کے کشمیر کی تقسیم کو متنازعہ بنایا۔ تقسیم کے اصول کے مطابق جن ریاستوں کے حکمران شہزادے تھے انہیں تین طرح کا حق دیا گیا۔ بھارت سے الحاق کر لیں، پاکستان سے الحاق کر لیں یا پھر ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے رہیں۔ لیکن پنڈت جواہر لال نہرو کی سازش کی وجہ سے یہ تجویز کیا گیا کہ ایسی ریاستوں میں جہاں حکمرانوں کا عقیدہ ریاست کے اکثریتی مذہبی عقائد سے مختلف ہے وہاں ریفرنڈم کرادیا جائے۔ حیدر آباد اور جونا گڑھ میں مسلمان حکمران تھے اور ان کے ریاستی باشندوں کی اکثریت ہندو تھی۔ وہاں نہرو کے اصول کے مطابق ریفرنڈم میں ہندو اکثریت نے بھارت کے ساتھ شمولیت کی توثیق کر دی۔ کشمیر میں نوعیت بالکل الٹ تھی۔ یہاں مہاراجہ ہندو تھا اور ریاست میں عوام مسلمان تھی۔بھارت کا اس بات کا اندازہ تھا کہ اہل کشمیر آزادانہ استصواب رائے میں بھارت سے الحاق کا فیصلہ نہیں ہونے دیں گے اس نے استصواب رائے سے بچنے کیلئے کئی عذر پر مبنی کئی تاولیں گھڑیں۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا اور جب اس عالمی ادارے نے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو دے دیا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی کاروائی بھی جاری رکھی۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی برقرار ہیں۔ بھارت نے ابتداء میں تو ان قراردادوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا۔