- الإعلانات -

حکومت ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کرے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے صحافی اور طلباء وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ ملک کے ادارے ہیں، سب کا مقصد ملک کی بہتری ہے، فوج اور عدلیہ کے ساتھ بیک ڈور بات چیت نہیں ہو رہی، رستے آئین نے بنا دیئے ہیں، بات چیت سامنے ہوتی ہے،شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی پارٹی فورم پر نہیں ہوئی،سینٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار سے ہٹ کر ووٹ دینے والے کا احتساب عوام کریں گے،عوام جس جماعت کے حق میں فیصلہ کریں گے وہ حکومت بنا لے گی،نوازشریف کو پہلے بھی سزا ہوئی تھی پھر بھی وزیراعظم بنے، کسی کو ایک دن، کسی کو پوری زندگی کیلئے نااہل قراردیا گیا، عجیب فیصلے ہیں، نگران وزیراعظم کیلئے اچھے نام ذہن میں موجود ہیں، اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کریں گے، کوئی ادارہ کسی امیدوار کے حق میں دھاندلی کیوں کرے گا، الیکشن میں ہر امیدوار کامیابی کیلئے اپنا اپناز ور لگائے گاآپ میں اتحاد نہیں پھر بھی ہم ویج ایوارڈکا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔جرنلسٹ تنظیمیں اتحاد پیدا کریں تا کہ صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو،ویج ایوارڈ کا مسئلہ حل کریں گے،صحافیوں اور میڈیا مالکان کے تحفظات دور کرنے کیلئے مریم اورنگزیب کو ذمہ داری سونپ دی ہے،مسلم لیگ (ن) کے علاوہ باقی لیگی دھڑے تانگہ پارٹیاں ہیں۔مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جسے عوام میں پزیرائی حاصل ہے، باقی لیگی دھڑے تانگہ پارٹیاں ہیں۔الیکشن میں نتائج سب کے سامنے آ جائیں گے اور پتہ چل جائے گا کہ کس نے کام کیا اور کس نے تنقید کی۔ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے ہر امید الیکشن جیتنے کیلئے زور لگاتا ہے کوئی ادارہ دھاندلی نہیں کرنے دیتا۔ 2013کی نگران حکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا کام قوم کے سامنے آ چکا ہے وزیراعظم نے کہا کہ نا اہلی معاہدے کی مدت عدلیہ نے طے کرنی ہے وہ کسی کو ایک ماہ، کسی کو دو ماہ اور کسی کو ایک سال کی نااہلی معاملات عدلیہ ہی حل کرے گی۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے نا اہل قرار دیا تھا لیکن پارٹی صدارت سے نہیں۔ نواز شریف کو ہائی جیکر بنا کر باہر بھیج دیا گیا تھا، وہ پھر واپس آ گئے، اب پانامہ سے فیصلہ شروع ہو کراقامہ پر آ گیا ہے،اب عوام کارکردگی پر فیصلہ کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں صوبوں میں ایم پی ایز اور وفاق میں ایم این ایز نے ووٹ دینے ہیں جو اپنا ضمیر بیچے گااسے بعد میں دیکھیں گے۔ پاکستان میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ان کا اپنا نقطہ نظر ہے لیکن ہمارے خیال میں ملک اسی وقت ترقی کرسکتا ہے جب اس کے اندر سیاسی استحکام ہو، اس وقت کئی مسائل سراٹھائے دکھائی دے رہے ہیں جن میں دہشت گردی سرفہرست ہے، مکار دشمن پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے طرح طرح کی سازشیں کررہا ہے ، سرحدی کشیدگی بھی اپنی جگہ جوں کی توں ہے ۔حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف صف آراء ہیں جس سے ہر طرف ہلچل دکھائی دیتی ہے۔ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلتی تو اس طرح کے مسائل پیدا نہ ہوتے ۔ حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے مسائل کو حل کیا جائے۔ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت سیاسی عدم استحکام ہے ، عدالتوں پر تنقید سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
پروگرام’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کی دوررس گفتگو
چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان اور چیئرمین روز نیوز ایس کے نیازی نے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہشاید اپوزیشن کو ناکامی نظر آرہی ہے اس لیے سکون میں ہے،سینیٹ الیکشن کیلئے لوگوں کی خرید و فروخت جاری ہے،آصف زرداری پیسوں سے ووٹ خرید رہے ہیں،آصف زرداری نے2ووٹ خرید لیے،ایک کو خرید رہے ہیں،ملک میں ہارس ٹریڈنگ بڑھی ہے کم نہیں ہوئی،اگر ادارے ٹھیک ہوں تو کرپشن نہیں ہوسکتی،جب تک ادارے میں سے کوئی ملا نہ ہو تو کرپشن نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عاصم پر کرپشن کے بڑے الزامات ہیں مگر پھر عہدہ دیدیا گیا،رانا ثنا اللہ ہر معاملے کو سازش قرار دیتے ہیں،جب بھی کوئی خبر دی جائے وہ مستند ہو اور اس کا ثبوت ہو،اینکر پرسن دلیری سے بات کر رہا ہے،ہوسکتا ہے کچھ پاس ہو،پنجاب پولیس کی وردی بدل کر ظلم کیا گیا ہے،پنجاب پولیس کی وردی اب ڈاکیا کی وردی لگتی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے تاریخی قدم اٹھایا ہے،ملکی تاریخ میں پہلی بار غلط خبر پر چیف جسٹس نے نوٹس لیا،پی بی اے اور پیمرا نے کوڈ آف کنڈکٹ بنا رکھے ہیں،چیف جسٹس پاکستان خود کو بھی بابا رحمتے کہہ چکے ہیں،چیف جسٹس نے خود کہا تھا میں میڈیا مالکان اور صحافیوں کو مدد کیلئے بلارہا ہوں،میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے،اگر ایک ستون دوسرے ستون سے سہارا مانگے تو مضائقہ نہیں،چیف جسٹس پاکستان کو بابا رحمتے کہہ کر نہیں بلانا چاہیے،میڈیا میں بہت سی جھوٹی خبریں دی جاتی ہیں،دوسروں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں،الزام لگائے جاتے ہیں،چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا،اب معاملے کو یوں نہیں چھوڑیں گے،اب ہوا میں خبر نہیں دی جاسکتی،اس کی اب پکڑ بھی ہوگی،چیف جسٹس تسلی کے ساتھ اینکر پرسن کو موقع دینا چاہتے ہیں،سوسائٹی میں جھوٹی خبر کے خلاف سخت ردعمل آیا ہے،معاشرے میں آگاہی آرہی ہے تو اس کو مثبت لینا چاہیے،روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘میں گفتگوکرتے ہوئے جسٹس (ر)وجیہہ الدین نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل62ون ایف میں نااہلی کی مدت مقرر نہیں ہے،آئین و قانون کے بارے میں بتانا عدلیہ کا کام ہے،اگر میں ابھی صادق و امین نہیں تو کیا گارنٹی ہے کہ میں کل صادق و امین ہو جاؤں گا،چیف جسٹس کو ایسی کیا جلدی تھی کہ اس کیس کیلئے بینچ بناتے،چیف جسٹس پاکستان کو اس معاملے سے دور رہنا چاہیے تھا،5رکنی بینچ میں وہ2ججز بھی شامل ہیں جنہوں نے نواز شریف کو نااہل کیا،یہ کس طرح کا بینچ ہے،آپ کرنا کیا چاہ رہے ہیں،حدیبیہ کیس کو میعاد کی بنیاد پر پلٹا دیا گیا اور اخبارات کو کوریج سے روک دیا،ایسے فیصلوں سے نواز شریف کی باتوں کو فروغ مل رہا ہے۔ قانون دان احمد رضا قصور ی نے کہا ہے کہ اگر کوئی صادق اور امین نہیں رہتا تو وہ آرٹیکل62ون ایف کے تحت نااہل ہوتا ہے،اگر آئین آپ کو نااہل رہتا ہے تو سب لاؤ میں آپ کیسے اہل ہوسکتے ہیں،اگر آئین نے کسی کو نااہل کیا تو آپ سب لاء کے تحت اسے کیسے اہل کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ نے نااہل ہونے والے سب لوگوں کو بلایا،نیب قوانین کے تحت پلی بارگین ہوتی ہے مگر10سال سزا قائم رہتی ہے،ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کسی کو2ماہ کیلئے نااہل کردیں اور پھر بحال،میرے مطابق کم از کم5سال کی نااہلی ہوگی،راؤ انوار ماورائے عدالت کئی افراد کے قتل میں ملوث ہے،اگر کوئی قانون کے شکنجے میں آجائے تو پھر وہ بچ نہیں پاتا،ریاست کے جہاز کو ساحل پر لانے کیلئے قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ ایس کے نیازی کے خیالات جہاں دوررس نتائج کے حامل ہیں وہاں اس امر کا عکاس بھی ہے کہ وہ سیاسی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کی رائے ایک صائب رائے ہے جس پر عمل کرکے ملک کو بحران سے نکالا سکتا ہے۔پروگرام سچی بات میں جسٹس (ر)وجیہہ الدین اور قانون دان احمد رضا قصور ی نے بھی جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ موجودہ حالات کے تناظر میں بے کم وکاست ہیں،سردار خان نیازی کی گفتگو دورس نتائج کی حامل ہے۔