- الإعلانات -

ن لیگی حکومت اور پیٹرولیم مصنوعات کی بے لگام قیمتیں

آج یہ خبر یقیناًجہاں ہر پاکستانی کے لئے باعث حیرانگی ہے تووہیں پریشا نی و مسا ئل میں اضافے کی بھی بنیادوجہ ہے کہ مُلک میں تبدیلی کے خواہاں عوام پر ن لیگ کی آکسیجن لگی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ کرکے ا یک بار پھر مُلک میں مہنگا ئی کا طوفان برپاکردیاہے اِس طرح پیٹرولیم مصنوعات کے اضافے کے ہاتھوں مہنگا ئی کے منوں پہاڑ تلے دبے عوام تلملا کر رہ گئے ہیں حکمران ہیں کہ وہ مہنگا ئی کے ہاتھوں گھائل عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کو تیار ہی نہیں ہیں اِن کا تو بس نہیں چل رہاہے کہ یہ مہنگا ئی کے ہاتھوں عوام کو زندہ درگور ہی کردیں، حالانکہ اِن دِنوں جبکہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب تر ہے اور مُلک میں اگلے متوقعہ عام انتخابات 2018ء ہو نے کو ہیں ایسے میں ن لیگی حکومت کا عوام کو فلاح اور بہبود اور مُلکی ترقی اور خوشحالی کے نام پر تبدیلی کا نعرہ لگا کر پچھلے دوچار ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متواتر بے لگام اضافے کا اعلان کیا جاناسراسر عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے،آج ن لیگ ہو کہ پی پی پی اور پی ٹی آئی سب ہی الیکشن کی تیاریوں میں مگن ہیں سب ایک دوسرے کو ہتیلی لگا کر اپنا الو سیدھا کررہے ہیں سب کھانچے بنا کر پیسے بٹورنے اور کام کے نام پر کمیشن لینے میں ہی میں مرے جارہے ہیں سب نے وفاقی اور صوبا ئی اداروں میں اپنے من پسند افسران اور کارندے تعینات کرکے ٹیڈرز کی شکل میں نکلنے والے جاب ورکس کو جیب ورکس بنانے میں لگارکھا ہے سب پرسنٹیج اور کمیشن پر کام کررہے ہیں اداروں سے تنخوا ہیں بھی لے رہے ہیں تو جاب ورکس کی صورت میں نکلنے والے ٹھیکیداری ترقی اور مرمتی منصوبوں کو جیب ورکس بنا کر کمیشن بھی لے رہے ہیں مُلک کو حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے بیوروکرٹیس اور چیلے چپاٹوں نے بنانا اسٹیٹ بنا لیاہے افسران کی لوٹ مار سے وفاقی اور صوبائی ادارے مالی اعتبار سے تباہ ہورہے ہیں کسی کو اپنی لوٹ کھسوٹ کے سا منے مُلک اور عوام کی پریشا نیوں اور مشکلات اور مسائل کے حل کا احساس نہیں ہے وفاق اور پنجاب میں ن لیگ اور کے پی کے میں پی ٹی آئی غسل کرپشن سے لفت اُٹھارہیں تو سندھ میں پی پی پی ہے کہ وہ سندھ کی ترقی کا ستر ارب کا سارا بجٹ سینیٹ اور عام انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ میں لگا کر وفاق میں اگلی حکومت بنا نے کی کھلم کھلا دعویدار بن رہی ہے بلوچستان کا تو اللہ ہی حافظ ہے یہ بیچارہ تو کر بار ہی کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھوں لٹاہے اور لٹتا ہی رہے گا اِس طرح کرپٹ حکمرانوں نے عوام کو سب نے بے لگام مہنگا ئی اور مسائل وپریشا نیوں سے دو چارکرکے سیراب نما عوا می خوشحالی اور ترقی کے لئے تبدیلی کے نعرے میں پھنسا رکھا ہے اور اپنے مزے لوٹ کر چلتے بن رہے ہیں۔ہمارے حکمران ہم پر ہر ماہ اور پندرواڑہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ کرکے مہنگا ئی کے طوفان یو ں ہی برپاکرتے رہیں رہیں گے؟ جس کے جوا ب میں استاد فیروز نے کہاں ہاں ، چھوٹو تبدیلی کبھی نہیںآئے گی،کیو ں کہ اشرافیہ کا طبقہ نہیں چاہتاہے کہ مُلک میں تبدیلی کا درغربت کے مارے عوام کیلئے کھلے اور عوام کے حالاتِ زندگی بہتر ہوں اور ہم عوام بھی تو نہیں چاہتے ہیں کہ تبدیلی آئے اور ہمارے حالاتِ زندگی بھی بدلیں ،ہمارے بھی آنگن میں خوشحالی اور چاندکی چاندنی اُترے ، ہمارے بچوں کا مستقبل بھی بہتر ہو ، ہمیں بھی اچھی آسائش زندگی میسر ہو اور ہمیں بھی اشرافیہ کی طرح تمام بنیادی حقوق میسر آئیں ، یاد رکھو ! جب تک عوام خود سے مُلک میں حقیقی تبدیلی کے لئے اپنی راہ متعین کرکے نہیں اُٹھیں گے اور انقلاب کیلئے نہیں نکلیں گے تب تک مُلک میں تبدیلی محض ایک سیرا ب اور خواب ہی رہے گی ، اور عوام کا یہ سمجھ لینا کہ اپنے موجودہ حکمرا نوں اورسیاستدانوں کے پیچھے بھاگتے رہنے سے مُلک میں تبدیلی آئی گی تو یہ عوام کی وہ بڑی غلطی ہے جو پچھلے ستر سالوں سے عوام کے دماغ میں گھر کرچکی ہے، عوام یاد رکھیں! آج اگر اِن کی یہ سوچ ہے کہ اشرافیہ کا طبقہ مُلک میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے کو ئی دائمی تبدیلی لا ئے گا تو یہ پاکستانی عوام اِس صدی کی سب سے بڑی بھول اور غلطی ہے اَب جس کا ازالہ سِوا ئے عوام کے کو ئی اورنہیں کرسکتاہے سوچیں ! کہ اگر مُلک میں عوام کے بنیادی حقوق کے حوالوں سے اشرافیہ کے ہاتھوں تبدیلی آنی ہوتی تواَب تک آچکی ہوتی مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ عوام نے بھی کبھی نہیں چاہاکہ حقیقی معنوں میں تبدیلی آئے اور اشرافیہ کو کیا بڑی ہے کہ وہ عوام کو تمام بنیادی حقوق اِس کی دہلیز پر پہنچا کر اپنا حقِ حکمرا نی گنوا دیں۔ آج مُلک طول و ارض میں عوامی حقوق اور حقیقی خوشحالی کا نعرہ لگا نے والے عوام کو ایک یہ نقطہ بھی ضرور اپنے ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اَب تبدیلی کیلئے عوام کو ہی کچھ کرنا ہوگا ورنہ یہ حکمران اور سیاستدان تو عوام کو تبدیلی کی گھٹی اور دلفریب اور دلکش نعرے سے ہی بہلاتے رہیں گے اِس لئے کہ گزشتہ ستر سالوں سے ہمارے اشرافیہ کے مٹھی بھر طبقے (حکمرانوں سیاستدانوں اور چمچہ گیر بیوروکرٹیس) کے پاس ایک ایسی گیدڑ سینگی ہے کہ جس نے عوام کو یہ گیڈر سِینگی سُنگھا دی ہے اور عوام اُن کے ہی پیچھے وفادر جا نور کی طرح بھاگ رہے ہیں،تو استاد جی ! میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اِن سے گیدڑسینگی چھین نہیں سکتے ہیں؟ اوہ اللہ کے بندے گیدڑِسینگی عوام کے ہاتھ لگنا ہی تو تبدیلی ہے اور چھوٹوہمارے حکمران ، سیاستدان اور اِن کے اِدھر اُدھر کے لگے لپٹے چمچے اور خوشامدی کیو ں کریہ چا ہیں گے کہ اِن کے ہاتھ لگی گیدڑسینگی عوام کے ہاتھ لگے اور اِن کی ڈگڈگی پر ناچنے والا بندر اِن کی گرفت سے نکل جا ئے اورپھر بعد میں متحد اور منظم ہوکر اِنہیں ہی نچا نے لگے ؟ یا د رکھو کہ جس روز ہمارے مفادپرست سیاستدانوں کی عوام کو نچا نے والی ڈگڈگی اور اپناگرویدہ بنا نے والی گیدڑ سِینگی عوام کے ہتھے لگ گئی سمجھو کہ اُسی روز تبدیلی آجا ئے گی؟ مگرایسا کرناجب تک عوام خود نہیں چاہیں گے کہ مُلک میں اِن کے بھی ا چھے دن پھرنے کے لئے تبدیلی آئے تو پھر تبدیلی آئے گی ورنہ نہیں آئے گی۔