- الإعلانات -

یورپ سے امریکہ تک ایک ہی نعرہ ۔۔۔فری کشمیر

نہال ہاشمی کو اپنے کیے کی سزا مل ہی گئی۔یہ ہونا تھا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا کیوں کہ نون لیگ نے جو اَنت مچا رکھی ہے اس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اپنا تقدس برقرار رکھنے کیلئے اقدامات اٹھاتی رہے۔اس فیصلے سے نون لیگ کے ان شِکروں کو بھی پیغام گیا ہو گا جو صبح شام عدلیہ اور پانامہ کا فیصلہ سنانے والے معزز ججز کے وقار پر براہ راست حملے کر رہے ہیں۔امید ہے کہ نون لیگ کے سنجیدہ حلقے اگر کوئی ہیں تو وہ طلال، دانیال پرویز اور خواجہ سعد جیسے شِکروں کی بدزبانی کا نوٹس ضرور لیں گے۔ایسے ہی کئی نون لیگی رہنما ہیں جو پاک فوج کو بھی اس معاملے میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔اب چلتے ہیں ذرا اصل موضوع کی طرف کہ کس طرح کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کر رہے ہیں۔26جنوری کو جب مودی حکومت یومِ جمہوریہ منا رہی تھی تو دنیا بھر کے کئی اہم دارالحکومتوں میں کشمیری اور سکھ اسے بلیک ڈے کے طور پر منا رہے تھے۔پہلی بار ایسا ہوا کہ بھارت سے علیحدگی چاہنے والوں کا جوش جذبہ دیدنی تھا اور جگہ جگہ فری کشمیر،فری خالصتان اور فری ناگالینڈکے مطالبے سامنے آئے۔جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے والی مودی انتظامیہ نے کئی دہائیوں بعد مقبوضہ کشمیر میں یومِ جمہوریہ پہلی مرتبہ روایتی مقام بخشی سٹیڈیم کی بجائے سخت سکیورٹی حصار والے امر سنگھ کلب گرانڈ میں منانے پر مجبور ہوئی۔کشمیر پولیس کے سربراہ منیر خان کے مطابق اِن تقریبات کا انعقاد ایک چیلنج تھا۔پولیس سربراہ نے ایک دن قبل ہی ایک الرٹ جاری کیا تھا جسکے مطابق مہاراشٹرا کے پونا شہر کی18سالہ سادیہ انوار شیخ نامی خود کش حملہ آور کشمیر میں کوئی حملہ کرنے والی ہیں۔اس الرٹ کے بعد پورے سرینگر کو ایک دن قبل ہی سیل کر دیا گیا اور امرسنگھ کلب گراؤنڈ کے گرد تین کلو میٹر کے دائرے کی ناکہ بندی کر دی گئی۔کشمیر میں فون ، انٹرنیٹ اور شاہراہوں سے گزرنے پر پابندی تھی۔حریت پسند رہنماؤں، سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو گھروں یا جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔اس سب کچھ کے بعد اگر ترنگا لہرانا ممکن ہوا تو پھر مودی حکومت کو سوچنا چاہیے کہ اٹوٹ اِنگ کا دعویٰ کیا ہوا۔بھارت سمجھتا ہے کہ ان اقدامات سے وہ کشمیریوں کی آواز دبانے میں کامیاب ہو جائے گا تو پھر اس وہم کے ازالے کیلئے انہیں کسی بھگوان کے در پر جانا چاہیے۔جیلیں اور نظربندیاں جسموں کو تو پابند کر سکتی ہیں لیکن سوچ اور نظریے کو قید نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کے یوم جمہوریہ پر پوری وادی جیل کا منظر ضرور پیش کر رہی تھی لیکن کشمیریوں کی دل کی آواز پوری دنیا میں مظاہروں کی شکل میں گونج رہی تھی۔غیر ملکی میڈیا ان مظاہروں کو دکھاتا رہا۔برطانیہ اٹلی امریکہ ،بلجیم کے شہر برسلز اور کئی دیگر ممالک میں زبردست احتجاج ہوا۔لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا اور یوم سیاہ منایا گیا جسمیں سیکڑوں کشمیریوں اور سکھوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر اور مشرقی پنجاب میں بھارتی مظالم کی مذمت کی اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے ۔احتجاج میں شریک سکھ مظاہرین نے خالصتان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر برٹش فرینڈز آف کشمیر کی جانب سے فری کشمیر کی مہم کا آغاز بھی ہوا۔جس کا نعرہ ہے بھارت کشمیر چھوڑ دو۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ بھارت کی متعدد ریاستوں خالصتان، ناگا لینڈ، مانی پور میں بھی بھارتی حکومت ظلم و ستم کررہی ہے اور ان خطوں میں بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان یورپ دوستی فیڈریشن کیزیر اہتمام بلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کار ریلی نکالی گئی۔ ریلی برسلز کی مشہور یادگار آٹومیئم سے شروع ہو کر برسلزاسکوائر پر اختتام پذیر ہوئی جس میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے علاوہ سکھ، شودر، انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔شرکاء نے اپنی گاڑیوں پرآزاد آسام،آزاد خالصتان، مقبوضہ کشمیر کی آزادی، اقلیتوں پر ظلم و بربریت بند کرو والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔یہ اپنی نوعیت کی پہلی ریلی تھی جسکا مقصد عالمی سطح پر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا تھا۔اٹلی بریشیا میں حسبِ سابق اس سال بھی کشمیری بھایوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے پاکستانی کمیونٹی کی نماندہ تنظیمات نے ایک بہت بڑا احتجاج آرگنائز کیا ہے وہاں فری کشمیر( Free Kashmeer ) پبلسٹی مہم کا آغاز کیا گیا ،جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کی مختلف روٹس پر چلنے والی بسوں پر فری کشمیر کے اشتہارات آویزاں کیے گئے۔مقصد وہی ایک کہ دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جائے۔فری کشمیر،فری خالصتان اور فری ناگا لینڈ مہم یورپ کے بعد امریکہ بھی پہنچ گئی۔ واشنگٹن کی سڑکوں پر فری کشمیر کے نعروں سے سجی گاڑیاں امریکی شہریوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔امریکہ سے ایک دوست نے ان کے ویڈیو کلپ وٹس اپ کیے تو دیکھ کر اطمینان ہواکہ کشمیری تنہا نہیں ہیں۔ا’دھر واشنگٹن میں ہندوستانی سفارتخانے کے باہر پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے مظاہرہ بھی کیا۔ان سطور کے ذریعے ہم کشمیری بھائیوں سے یہی کہتے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم تمہارے ساتھ ہے ،دو دن بعد5فروری ہے،اس دن کو پاکستانی یوم یکجہتی کشمیر کے طور مناتے ہیں اور اپنے عزم کو دوہراتے ہیں۔آخر میں بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کی سن لیجیے کہ اگلے دن انہوں نے اپنے ایک بیان فرمایاکہ پاکستان ہماری نرمی اور شرافت کا غلط مطلب نہ لے۔یہ بھی کہا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول پر فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔4 روز قبل بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس اور پاک رینجرز کے درمیان فلیگ میٹنگ میں یہ طے پایا تھا کہ ایل او سی پر کوئی اشتعال انگیزی یا جارحیت نہیں کی جائیگی تاہم یقین دہانی کے باوجود پاک فوج فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری طرف بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز( BSF) کا دعویٰ سنئے جو راج ناتھ سنگھ کی امن پسندی کا بھانڈہ پھوڑ رہا ہے۔بی ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے اس نے جموں میں ایل او سی کے ا’س پار حالیہ دنوں میں9ہزارمارٹرگولے فائرکیے ہیں۔یہ دعویٰ بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ایک طرف بی جے پی کے لیڈروں کے اپنی امن پسندی کے دعوے تھمنے کا نام نہیں لیتے جبکہ دوسری طرف اس کا ایک سکیورٹی ادارہ سینہ چوڑا کر کے کہتا ہے کہ چند روز میں اس نے ہزاروں گولے داغے ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے بھارتی فوج مودی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے اور لائن آف کنٹرول پر محاذ گرم رکھے ہوئے ہے۔
***