- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر ، سب سے پرانا حل طلب مسئلہ

مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس کے نام ایک خط میں کہاہے کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پْرانا حل طلب مسئلہ ہے۔ جس طرح کوسوو اور مشرقی تیمور کے مسئلوں کو حل کرنے کے لیے عالمی ادارے نے مداخلت کی ، اسی طرح مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ادارے کی مداخلت ناگزیر بن گئی ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے عام لوگوں کے جلسے جلوسوں اور پْرامن مظاہروں پربھارتی قابض فورسز کی طرف سے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جارہا ہے۔ اپنے جائز حقوق کی بازیابی کے لیے کشمیریوں کے پرامن مظاہروں پر پیلٹ گن کا بے تحاشا استعمال کرکے ہماری نوجوان نسل کو جسمانی طور پر معذور اور آنکھوں کی روشنی سے محروم کیا جارہا ہے جبکہ تعذیب خانوں میں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آئے روز سخت ترین کرفیو اور پابندیوں کے نفاذ سے عام لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔سیاسی رہنماؤں اور عام نو جوانوں کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں نظربند کیا جارہا ہے۔سید علی گیلانی نے سیکریٹری جنرل کو ریاستی عوام کی طرف سے مطالبہ کیا کہ وہ قتل وغارت، گرفتاریوں، پرتشدد کارروائیوں، عفت مآب خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں اورسیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی جیسی انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا از خود مشاہدہ کرنے کے لیے اپنا ایک نمائندہ وفد علاقے کے دورے کے لیے نامزد کریں اور بھارتی حکومت پر دورے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔انہوں نے کشمیری عوام کا یہ مطالبہ دہرایا کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث بھارتی فورسز کو قرارواقعی سزا دلوانے کے لیے یہاں جنگی جرائم کا ٹریبونل قائم کریں۔حریت چیئرمین نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کومسئلہ کشمیر کو عالمی ادارے کی طرف سے منظورشدہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ادارہ دیگر تنازعات کی طرح اس دیرینہ انسانی مسئلے کو بھی جلد از جلد حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی پورے خطے کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے اور جب تک اس مسئلے کو پْرامن طریقے سے حل نہیں کیا جاتا ، یہ خطرہ بدستورموجود رہے گا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین حل نہ کرایا گیا تو لوگ اقوام متحدہ پر اعتماد کھودیں گے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔ دوسری صورت میں پوری دنیا کے لوگوں کا اقوام متحدہ پر سے اعتماد ختم ہوجائے گا۔ملیحہ لودھی نے کشمیر، فلسطین یا دنیا میں کہیں بھی غیر ملکی تسلط کے زیر اثر زندگی بسر کرنے والے مظلوم انسانوں کی مسلسل حمایت کے عزم کا بھی اظہار کیا۔عالمی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ تنازعات میں شدت آرہی ہے اور نئے خطرات سامنے آرہے ہیں۔ عالمی برادری فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے آگے بڑھے۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر اور فلسطین کوحل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔مسئلہ کشمیر وفلسطین حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔عالمی برادری مسئلہ فلسطین کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔ 1967کی فلسطینی سرحدوں کو بحال کیا جانا چاہئے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت کے ساتھ برسوں سے حل طلب پڑے مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث یہ لاینحل روپ دھارتا جارہا ہے اور برسوں سے اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادیں تشنہ تکمیل پڑی ہیں۔ بھارت ایک طرف مقبوضہ کشمیر پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی سرعام خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث ہے جس کے خلاف پاکستان ایک تواتر سے احتجاج کرتا چلا آرہا ہے۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے ادارے نجانے کیوں کورچشمی اور سرد مہری کا مظاہرہ کررہے ہیں اگر ان کا یہ ہی رویہ رہا تو ان اداروں پر اعتماد اٹھ جائے گا اور ان کا کردار ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گا۔ مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین ان کا منصفانہ حل وقت کا تقاضا ہے جس سے پہلوتہی خطے کے امن کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اوردونوں مسئلوں کو حل کروانے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہ کرے۔ آخر کب تک ظلم و ستم کا یہ بازار گرم رہے گا۔کشمیریوں اور فلسطینیوں پر یہ بربریت جاری رہے گی عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس ضمن میں فعال اور موثر کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے ادراک کو یقینی بنائیں۔ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو ٹائم ٹیبل کے ساتھ مشروط کرے۔ حق خودارادیت کے حصول کے لیے اقوام متحدہ پاکستان و بھارت کو ٹائم ٹیبل دے۔ اقوام متحدہ نے1947ء کو ٹائم ٹیبل کے بغیر قراردادیں منظور کرکے کشمیری عوام کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر ٹائم ٹیبل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام گزشتہ70سال سے بھارتی افواج کے ہاتھوں ظلم و ستم اور ریاستی دہشت گردوں کا شکار ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے یہ خطہ متنازع ہونے کے باعث دنیا کوئی ملک یہاں تعمیر و ترقی، انڈسٹری اور اپنا سرمایہ لگانے کے لیے تیار نہیں۔ یہ نامکمل قراردادیں کشمیری عوام کے محفوظ مستقبل کی ضمانت نہیں دیتی۔ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش نہ کریں بلکہ دونوں ملکوں کو مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے ایک محدود وقت دیں۔