- الإعلانات -

سانحہ روغان

گاؤں روغان میانوالی سے 77 کلومیٹر جبکہ کالاباغ سے28کلومیٹر کے فاصلے پر کالاباغ شکردرہ روڈ پر واقع ہے۔اس گاؤں میں کبھی قتل نہیں ہوا تھا لیکن شومئی قسمت 20جنوری 2018ء کو تقریباً سوا سات بجے رات تبی سر کے نواحی گاؤں روغان میں دل خراش واقعہ پیش آیا۔سجاد حیدر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گھر موجود تھا۔ اچانک ایک سفاک اور جابر شخص اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سجاد حیدر کے گھر گھس گیا اورچند لمحوں میں سجاد حیدر ، اس کی والدہ ، بیوی اور اس کی بیٹی کو لقمہ اجل بنایا۔عندیہ قتل یہ تھی کہ قاتلوں نے سجاد حیدر سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا لیکن انھوں نے انکار کیا تھا۔ سجاد حیدر کی بیٹی کی منگنی اس کے بھتیجے روحیل سے ہوئی تھی۔اس رنجش پر قاتلوں نے04 بے گناہ افراد کو قتل کردیا۔حضور کریم ﷺ نے فرمایا کہ "ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔”
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد میرے جگر میں
اؒ لحمد اللہ ہم مسلمان ہیں ۔تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو تمام جسم اضطراب کا شکار ہوتاہے۔ سانحہ روغان کے بارے میں جس کو بھی معلوم ہوا ہے ،اس نے اس واقعہ کی بھرپورمذمت کی۔ ہر مسلمان نے درد محسوس کیا اور اس کا اظہار بھی کیا۔جنازے میں بڑی تعداد نے شرکت کی اوررسم قل پر بھی ہزاروں افراد شریک ہوئے۔پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ایک گھر سے بیک وقت چار جنازے اٹھناانتہائی تکلیف لمحات ہوتے ہیں۔اللہ رب العزت ایسے صورتحال سے دشمن کو بھی محفوظ رکھے۔ چاروں مقتولین بے گناہ قتل ہوئے ،اس لئے یہ چاروں مقتولین شہید ہیں۔شہدائے روغان کے آخری رسومات بھی ادا ہوگئیں۔ سجاد حیدر شہید کے پانچ بچے جن میں قرۃ العین عینی جماعت ہشتم کی طالبہ، باسط ہشمل جماعت ہفتم ،محمد وصی الرحمن جماعت چہارم ، محمد منیب الرحمن جماعت دوم اور محمد شہیر الرحمن نرسری کا طالب علم ہے۔ان معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین قتل ہوئے ۔پھولوں جیسی زیست تھی ، چند لمحوں میں کانٹوں میں بدل گئی۔ہنستے ہوئے چہرے ،رونے میں بدل گئے،ان کے مسکراہٹ ، سسکیوں میں بدل گئے۔ان کی خوشی، دائمی غم میں بدل گئی۔ ان کی خوشحالی ، بد حالی میں بدل گئی۔ کیا یہ بچے پوری زندگی اس لمحے کو بھول جائیں گے؟ نہیں ، نہیں ۔۔ ۔۔ ۔۔نہیں اس بھیانک اور بربریت کو قطعی بھول نہیں سکیں گے۔اس کے بعد جب بھی خوشی کا کوئی تہوارآئے گا،ہر بچہ اپنی ماں کے پاس جائے گا اور اپنے باپ کے قریب ہوجائے گا۔ہر بچہ اپنی ماں کے گود میں بیٹھ جائے گا اور ہر بچہ اپنے باپ کے ساتھ اٹھکیلیاں کرے گا۔ہر بچہ اپنے ماں باپ کی پیار سے لطف اندوز ہوگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔بتا !شہیر،منیب، وصی ، باسط اور عینی اپنے ماں باپ کو کہاں ڈھونڈیں گے؟وہ وقت کیسا ہوگا جب کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں کھیلے گا اورشہیر ریت پر کھیلے گا،جب کوئی بچہ اپنے والد کے ساتھ ناز ونخرے کرے گا تو منیب مٹی کے گروندے بنائے گا ۔اللہ پاک کسی بچے کو یتیم نہ کرے ۔یہ انتہائی تکلیف دہ زیست ہوتی ہے۔پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر شہداء روغان کی خبر اور ییتم بچوں کی تصاویر وائرل ہوئیں تو بعض سیاسی اور مذہبی افراد نے گاؤں روغان کا رخ کیا ۔انھوں نے یتیم بچوں کے ساتھ تصاویر بنواکر بس اللہ اللہ خیر سلا۔ زبانی جمع تفریق کرکے یتیم بچوں کی کوئی مدد نہیں کی۔خالی دعووں اور اعلانات سے کچھ نہیں بنتا ۔خالی خول اعلانات سے یتیم بچوں کو تکلیف ہوگی اور یہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔اگرکسی نے واقعی اللہ رب العزت اور رسول اللہ کی رضا کیلئے مدد کرنی ہے تو ایسی مدد کریں کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔بخاری شریف کی حدیث ہے ۔” حضور ﷺ نے اپنی دو انگلیاں برابر کرکے فرمایا کہ کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا شخص جنت میں مجھ سے اتنا قریب ہوگا جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔” قارئین کرام!سانحہ روغان کے شہداء کے یتیم بچوں کو آپ کی مالی ، قانونی اور اخلاقی مدد کی ضرورت ہے۔یتیم بچوں کی مدد سے آپ سے اللہ رب العزت اور رسول اللہ ﷺخوش ہونگے اور انشاء اللہ آپ کو جنت میں حضور اکرم ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔ کرنسی کے چند نوٹوں کے بدلے میں حضوراکرمﷺ کا قرب اور جنت نصیب ہوجائے تو یہ بہت بڑے منافع کی تجارت ہے۔