- الإعلانات -

صحافت کا منصب

قصور کی ننھی زینب کو جس درندگی کا نشانہ بنایا گیااس نے ہر دل کو افسردہ کر دیا ۔توقع کی جاتی ہے کہ زینب قتل کیس میں ملزم عمران علی کی گرفتاری کے بعد یہ کیس جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا اسی دوران ایک ٹی وی چینل کے ایک اینکر کی ملزم کے بینک اکاؤنٹس کے متعلق خبر سامنے آگئی جو درست ثابت نہ ہو سکی۔مذکورہ اینکر کے اس ہوش ربا انکشاف پر ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور اس خبر کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس خبر سے یہ کیس ڈی ٹریک ہوتا دکھائی دینے لگا ۔اس موقع پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس نثار نے بروقت نوٹس لے کر معاملے کو مزید الجھنے سے بچا لیا۔سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس میں نجی ٹی وی کے اینکر کی جانب سے دعوؤں کا ثبوت پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اتوار کے روز ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سربراہی میں الزامات کی تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی بنا دی جبکہ قتل کیس کی تفتیش دس روز میں مکمل کر کے چالان پیش کرنے کی ہدائت کی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز ا لاحسن اور جسٹس منظور ملک پرمشتمل فل بینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی،مذکورہ اینکر،زینب کے والد ،آئی جی پنجاب ،ڈی جی فرانزک،میڈیا مالکان اور سنئیرصحافی بھی پیش ہوئے۔عدالت نے زینب کے والد اور وکیل کو میڈیا پر بیانات دینے سے روک دیا۔چیف جسٹس نے میڈیا کے ذمہ داران سے رائے لی سبھی اس نکتے پر متفق نظر آئے کہ ہر ادارے کی طرح میڈیا بھی حدود و قیود کا پابند ہے اور اگر کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے اس کے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئیے۔آزادی کا مطلب بے مہار آزادی نہیں ۔واقعات کی سنگینی اور سنجیدگی کو نظر انداز کر کے ان پر مختلف قسم کی طبع آزمائیاں حالات کو مزید گنجلک بنا دیتی ہیں ۔الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر متضاد خبروں ،حالات و واقعات کو توڑمروڑ کر پیش کرنے اور ذاتی خیال آرائی سے ایک نئی تمثیل بنانے کے بہت سنگین نتائج ظاہرہو سکتے تھے ۔صحافی کا فرض ہے کہ وہ صرف سچ سامنے لائے اور داستان طرازی سے مکمل پرہیز کرے ۔کسی بھی حساس مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے سوچ بچار سے کام لے اور سنسنی کا عنصر تلاش کرکے رائی کا پہاڑ بنانے سے گریز کی پالیسی اپنائے۔ کئی خیر خواہ مذکورہ اینکر سے ہمدردی جتاتے ہوئے رطب ا للسان ہیں کہ اگر انہوں نے یہ بات کہہ دی تو کونسا ظلم کیا اور اس سے کونسی قیامت آگئی۔وہ کیوں معذرت کریں ۔ہمارے صحافی خبریں دیتے بھی ہیں کھبی غلط خبر بھی چلی جاتی ہے ان کے اس بیانیے سے ماضی میں سابقہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کہی یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی۔صحافیوں کو مصلحتوں کا شکار ہونا زیب نہیں دیتا اور اپنے طبقے کے کسی دوست کی غلطی اور غلط روئیے کی محض اپنے طبقے سے تعلق کی بنا پرحمایت و تائید نہیں کرنی چاہیے تا کہ مستقبل میں ایسی دانستہ غلطی کسی سے بھی سرزد نہ ہو۔ صحافت ایک آئینہ ہے جس میں سماج ،قوم اور ملک کی جھلک نظر آتی ہے ۔اس کے اثرات سیاست،سماج ،معاشرے اور ملک و قوم پر دور رس ہیں ۔آج صحافت لوگوں کی بصارت اور سماعت کا مترادف بن چکی ہے ۔صحافت عوام اور حکومت کے درمیان ایک طرح کے رابطے کا کام دیتی ہے اور دو طرفہ حقوق و فرائض سے آگاہی دلاتی ،معاشرتی اور قومی شعور کو اجاگر کرتی اور یوں سماج کے بدلتے ہوئے حالات میں رہنمائی بخشتی ہے۔یہ معاشرتی اور سماجی برائیوں کی نشاندہی کر کے اصلاح قوم و معاشرت کا اہم کام انجام دیتی ہے لیکن وطن عزیز کے تین ستون پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہیں اور چوتھے ستون یعنی صحافت کی بد حالی کے اسباب بھی وہی ہیں جنہوں نے ہماری انتظامیہ کو بدعنوان ،مقننہ کو بے بس اور عدلیہ کو روبہ زوال کر رکھا ہے۔آئین میں ایگزیکٹو،مقننہ،پارلیمان اور عدلیہ کے اختیارات واضع طور پر طے کر دئیے گئے ہیں اس کے باوجود تینوں ستونوں کے سربراہ اور ان سے و ابستہ افراد اپنے اپنے ادارے کو اقتدار اعلیٰ کا حامل سمجھتے ہیں۔میڈیا بھی چوتھا ستون تصور ہوتا ہے اور آئین میں اس کے اختیارات نہ ہونے کے باوجودپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد خود کو دوسرے ستونوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ہمارے ہاں آج الیکٹرانک اور سوشل میڈیا جیسے دونوں ذرائع ابلاغ انتشارو ابہام پھیلانے میں اپنا منفی کردار ادا کر رہے ہیں ۔بلاشبہ دونوں میڈیم کی فعالیت و موثریت اپنی جگہ لیکن کسی بھی چیز کا منفی استعمال بذات خود خطرناک ہے اگر موجودہ حقیقت حال دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا مفاد پرستی اور کمرشلائزیشن کا شکار ہو کرصحافتی اقدار سے دور جا رہا ہے۔تا ہم دنیا کے ہر شعبے میں اچھے اور برے انسان موجود ہیں ،تاریکیوں کے جزیرے میں روشنی کی کرنیں بھی موجود ہوتی ہیں ۔آج بھی سنجیدہ صحافت مثبت اقدار اور حیات بخش پیغام کے پودوں کی آبیاری میں مصروف ہے۔باضمیر صحافی آج بھی کلمہ حق کہنے میں مصروف ہیں جو سچ کی خاظر اپنی ترقیوں اور ملازمتوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتے۔اسی طرح پیشہ ورانہ دیانت کے حامل صحافی صحیح اور درست خبریں لانے کیلئے جنگی میدانوں میں بے خوف و خطر گھس جاتے ہیں اور جان تک کی پرواہ نہیں کرتے۔محکمانہ بد عنوانیوں اور اخلاقی سکینڈلوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں حادثات کا شکار ہونے کی پرواہ نہیں کرتے۔یہی رخ خوبصورت اور قابل ستائش ہے۔ہمارے ہاں سوشل میڈیا پرکچے اور کم علم اذہان نے اس میڈیم کو وار زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ہمارے الیکٹرک چینلز پر بھی ایک دوسرے کی تضحیک کے سامان اس انداز سے دکھائے جاتے ہیں جو محض ذلت اور خواری کا شاہکار ہوتے ہیں ۔یہ صرف مطلوبہ انداز کی ہی کوریج ہے۔چینلز کی کوریج دن رات جاری رہتی ہے اگر آپ آدھی رات کو اٹھیں اور ٹی وی کا بٹن آن کریں تو وہی کچھ بار بار دہرایا جا رہا ہوتا ہے جودن کو دیکھ چکے ہیں ۔یہان زیادہ تر داخلی ابتری کو ہی موضوع سخن بنایا جاتا ہے۔میڈیا پر صرف لفاظی اور مبالغہ آرائی روشن خیال سوچ کے فوائد سے دور کر دیتی ہے۔
نوچتے رہتے ہیں اپنے ہی بدن کی بوٹیاں
حاسدوں کوخود ہی اپنا میزباں ہونا پڑا
گفتگو کرنا بھی ایک فن ہے ۔اچھی گفتگو کی صلاحیت ایک نعمت خدا وندی ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر ضروری گفتگو سے خاموشی ہی بہتر ہے ایسی معلومات اور خبروں کا نشر نہ کرنا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہوتا ہے جن سے فساد اور بگاڑ کے پیدا ہونے کا امکان ہو۔ درست اور بروقت رپورٹنگ ہی صحافیوں کیلئے ریاضت اور عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔کھرے اور سچے صحافیوں کا مشن ہی سچ کو آگے پہنچانا،عوام کی قوت گویائی بن جانا،عوام کو زبان دینا ،ہر کسی کے جائز موقف کی حفاظت کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس کے وقار کی دھجیاں اڑا کر اپنے اور ادارے کیلئے بھی شرمساری کا باعث بننا۔اختلاف رائے انسانی فطرت کا حصہ تو ضرور ہے لیکن عام طور پر اس کے جواب طعنے،طنزاور منفی القابات کی سنگ زنی ہوتی ہی نظر آتی ہے اور پھر نوبت تلخی ،بد مزگی اور بدتمیزی تک پہنچ جاتی ہے۔مہذب انسان اپنی رائے دلیل یا تنقید کو بھی تہذیب کے دائرے سے باہر نہیں جانے دیتے لیکن طعنوں اور غصیلے فقروں کی بارش آپ کی شخصیت کا امیج مجروع کرنے کا باعث بنے گی اور بدمزگی ہی پیدا ہو گی۔من پسند مذہبی ، سیاسی اور عسکری عقائد و نظریات کے بل بوتے پر مخالفین کو بے دم کرنا یہاں محبوب ترین مشغلہ ہے۔در اصل اس شعبے کی تعلیم و تربیت سے مجرمانہ بے اعتنائی برتی گئی۔ٹاک شو اینکر کیلئے تو کوئی معیار مقرر نہیں۔اس کا صحافیانہ پس منظر ہو تو اچھی بات نہ بھی ہو تو کام چلے گا۔