- الإعلانات -

افغانستان میں ناکامی کا امریکی اعتراف

امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار)نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک رپورٹ امریکی کانگریس، محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھیجی ہے جس میں اعتراف کیا کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے اور امریکہ کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ اس کے مقابل ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔سگار کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں بم حملوں کے اعداد و شمار 2012 کی نسبت 3 گنا زیادہ ہیں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا جب کہ سپا ہیوں کو ہلاک کیا جانا تقریباً روز مرہ کا معمول ہے۔ گزشتہ 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کا سامنا اس بات پر ہے کہ عوامی مفادات کے معاملے پر افغان حکومت بالکل دور ہو چکی۔ کانگریس کو پیش حالیہ رپورٹ میں سگار نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ گزشتہ برس اگست میں نئی افغان پالیسی کے بعد طالبان کیخلاف امریکی فضائی حملوں اور خصوصی آپریشنز میں اضافہ ہوا۔اکتوبر 2017ء میں امریکہ نے افغانستان میں 653 مرتبہ گولہ بارود گرایا جو 2012ء کے بعد سب سے زیادہ تھا جبکہ اکتوبر 2016ء کے مقابلے میں اس میں 3 گناہ اضافہ ہوا لیکن رپورٹ میں خبر دار کیا گیا کہ ان تمام کارروائیوں کے باوجود آبادی پر افغان حکومت کے کنٹرول میں اضافہ اب تک نہیں ہوسکا۔ رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ فورسز کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں سے شہریوں کی ہلاکت افغان حکومت کی حمایت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جبکہ اس سے طالبان کی حمایت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔سگار رپورٹ میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ یکم جنوری 2017ء سے 30 ستمبر 2017ء تک اندازاً 8 ہزار سے زائد شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی ۔ اکتوبر اور نومبر عام شہریوں کیلئے سب سے بدترین مہینے تھے۔ افغانستان میں امریکہ کی زیرِ قیادت اتحادی افواج نے جن طالبان کو شکست دینے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کیے وہ اب ملک کے 70 فیصد علاقوں میں کھلے عام سرگرم ہیں اور صرف 30 فیصد علاقے افغان حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ کیسے 2014ء میں افغانستان سے غیرملکی فوج کے انخلا کے بعد علاقوں پر طالبان کا اثرونفوذ بڑھا یا ان علاقوں کو ان سے خطرہ لاحق ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ منشیات پر کنٹرول کے لیے 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم دی گئی لیکن اس کے باوجود گزشتہ سال افغانستان میں افیم کی پیداوار میں 87 فیصد اضافہ ہوا اور پوست کے زیر کاشت رقبے میں بھی 63 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اعداد وشمار کے مطابق سن 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ افغان فورسز کی تعمیرنو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے لئے امریکہ نے افغانستان کو 110 ارب ڈالر دئے جس کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اس وقت نہ منشیات ختم ہوئے نہ اس ملک کی فوج میں کوئی جان آئی نہ ہی اقتصادی حالات درست ہوئے بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان کی حالت پہلے سے بدتر ہوگئی ہے۔ اگر افغانستان میں امریکہ کے تمام تر اخراجات شامل کرلیے جائیں تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔اگر افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کا جائزہ لیں تو 2001 میں 1300 امریکی فوجی افغانستان میں اتارے گئے تھے اور اگست 2010 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور اب بھی 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ اس کے باجود افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا، نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی، آخر کیوں؟ دنیا کی طاقتور ترین افواج اس ملک میں کیا کررہی ہیں کہیں دہشت گردوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں پالنے کی پالیسی پر تو گامزن نہیں؟!رپورٹ کے مطابق 66 کروڑ ڈالر کی 630 آرمرڈ وہیکل اور 49کروڑ کے 20 کارگو جہاز جو امریکہ نے افغانستان کو دیئے تھے، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہوگئے کیا اس سلسلے میں بھی پاکستان قصوروار ہے؟ یا اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی اور افغان حکام پر عائد ہوتی ہے؟امریکی صدر نے افغانستان میں امریکہ کی فوجی اور سفارتی حکمت عملی کی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان کے سرتھوپنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ امریکہ نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کا بھرپور موقع فراہم کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر متوازن اور متنازعہ شخصیت کے مالک ہیں اور ان کی پالیسیوں سے امن نہیں بلکہ ایک نئی جنگ مسلط ہونے جا رہی ہے۔ امریکہ پاکستان کا دوست نما دشمن ثابت ہوا ہے جس نے بھارت کو شاباش دیکر ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔افغانستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسی ایک نئے گرینڈ گیم پلان کا ابتدائیہ ہے۔ پاکستان آرمی نے محدود وسائل کے باوجود دہشتگردوں کیخلاف نہایت جامع اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے سوات، خیبر ایجنسی، باجوڑ، بونیر، لوئر دیر، مہمند ایجنسی، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیر ستان، راجگال، شاوال، سندھ، بلوچستان، سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کامیاب آپریشن کرکے پاک وطن کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کردیا جبکہ دنیا کا سب سے بڑا دعوے دار امریکہ نے اربوں ڈالر اور دنیا کے جدید ترین اسلحے سے لیس افواج افغانستان میں تعینات کرنے کے باوجود اس ملک کو دسیوں دہشت گرد تنظیموں کے حوالے کرکے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کررہاہے۔