- الإعلانات -

تامل عوام سے ’مودی حکومت‘ کا قصاب نما انتقام

بھارت کی مرکزی حکومت جس کی باگ ڈورآرایس ایس کے’کارسیوک مودی’ کے ہاتھوں میں ہے’اْسے گزشتہ انتخابات میں جہاں بھارت کی اوربھی کئی ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،وہاں تامل ناڈوریاست میں بھی بی جے پی کوبڑی عبرت ناک شکست کامنہ دیکھنا پڑا تھا’مطلب یہ ہے کہ تامل ریاست میں نئی دہلی حکومت کا سکہ توچلتا ہے‘مگر اْس کی آئینی اور قانونی رٹ وہاں نام کوبھی دکھائی نہیں دیتی’پوری تامل ریاست میں جوجتنا بڑا اور طاقتورہے اورجتنے تامل علاقہ میں اْس کے حمائتی اورہمدرد موجود ہیں’ وہ صرف اْسی ‘طاقتور’ کی بات مانتے ہیں’تامل علاقہ بھر کے مجسٹریٹس’ججز اورپولیس کے اہلکارکووہاں کوئی پوچھتا تک نہیں’علاقہ کا’بڑا’ طاقتورگروہ جوفیصلہ کر دے’سب اْسی کی بات مانتے ہیں’ یہ پوراعلاقہ سوشلسٹ قوم پرستوں کاعلاقہ ہے’جونئی دہلی حکومت سے اپنی علیحدہ آزاد ریاست منوانے کیلئے ایک عرصہ سے کبھی مسلح جدوجہد کرنے پربھی اترآتا ہے بھارتی سیکورٹی فورسنزسے بھی کئی بارتامل قوم پرست عسکریت پسند نبردآزما ہوچکے ہیں’نئی دہلی حکومت سے گزشتہ 70 برسوں میں تامل قوم پرستوں کی کبھی نہیں بنی’یہ پوراعلاقہ قدرتی دولت سے مالامال ہے’ زیرزمین یہاں قدرت کی ہر نعمت بڑی وافرمقدارمیں پائی جاتی ہے’مجال ہے جوکبھی علاقہ کے زورآورتامل سرداروں کی مرضی کے خلاف اْنہوں نے اپنے علاقہ کے کسی حصہ پرنئی دہلی حکومت کی ایماء پرکسی بھی ماہرینِ ارضیات سمیت زمین میں چھپے قدرتی وسائل کوتلاش کرنے والے ملکی یاعالمی ماہرین کواپنے علاقہ میں قد م تک بھی رکھنے دیاہو’تامل اڈوریاست کیاصل باشندوں کی نئی دہلی حکومت سے علیحدگی کی جدوجہد اپنی جگہ ایک حقیقت سہی! لیکن نئی دہلی کے اقتدارِاعلیٰ کے حکام کے دل اِس قدر چھوٹے اور اتنے تنگ ہونگے؟ اِس کا اندازہ ہم پاکستانیوں کوتو پہلے ہی سے ہے’مگر’ مغربی انسانی حقوق کے ماہرین کواصل میں شائد اب پتہ چلا ہوگا،جب تامل ناڈوریاست بھرکے کئی اہم حصوں میں خطرناک وباء ڈینگی’پھیلی ہے اوراب تک کی اطلاعات کے مطابق 12000 سے زائد کے قریب تامل عوام اِس خطرناک وبا ء کا شکار ہوچکے ہیں اِس نازک اور حساس موقع پرنئی دہلی کی مرکزی حکومت نے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں’کیا وزیراعظم نریندرامودی صرف سینٹرل بھارت کے وزیراعظم ہیں؟اْن کا کیا یہ اولین فریضہ نہیں بنتا کہ وہ تامل ریاست میں پھیلنے والی ‘ڈینگی وباء ‘ کا فورا نوٹس لیں اورتامل عوام سے اپنے ہربغض وعناد کو بالا ئے طاق رکھ کر کہ گزشتہ عام انتخابات میں اْنہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دئیے تھے اِس لئے اْنہیں اِس انتہائی خطرناک ڈینگی وباء کا شکار بننے کیلئے تنہا چھوڑدیا جائے’مسٹرمودی انسان بنیں! اْن سے یوں ووٹ نہ دینے کا انتقام تونہ لیں’نئی دہلی حکومت کی ستم ظریفی کی حد ہی ہوگئی’عالمی میڈیا 20000 سے زائد ڈینگی کے متاثرین کی تعدادکی تشہیر کررہا ہے’ جبکہ بھارتی میڈیا کویہ تعداد سرکاری طور پر 40 کے قریب بتاتے ہوئے شرم آنی چاہیئے’تامل ریاست میں پھیلنے والی ڈینگی کی وباء نے بھارتی اشرافیہ کے اْن طبقات میں بے چینی کی کیفیت پیدا کرنے میں اِتنی دیر کیوں لگادی؟ جو کئی این جی اوز چلا کربیرونِ ملک سے لاکھوں کی تعداد میں ڈالرزبطورفنڈز حاصل کرتی ہیں آرایس ایس کی سیاسی شاخ بی جے پی نے بھارتی جمہوریت کا چہرہ کتنا داغدار کردیا ہے’نجانے بھارتی جمہوری اشرافیہ کس نشے میں بدمست بے خبری کے عالم میں خوابِ خرگوش کے خراٹے لے رہی ہے’ تامل ناڈو میں زندگی سسک رہی ہے ڈینگی وباء کے بڑھتے ہوئے موت کے سائے اْنہیں اپنے حصار میں لینے کیلئے بڑھ رہے ہیں ہے کوئی جو اْن کی فوری مدد کیلئے پہنچے؟وہ چیخ رہے ہیں اْن کی درد بھری آواز کوئی سننے کیلئے تیارہی نہیں’نئی دہلی حکومت انصاف بالکل نہیں کررہی’اگر وہ برابراور یکساں انصاف کررہی ہوتی توہمیں یہ کالم نہ لکھنا پڑتا کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ حزبِ اختلاف کے کئی نامور اورممتازبھارتی رہنماؤں نے مرکزی حکومت پر زور دینا شروع کردیا ہے کہ مودی حکومت فوری طور پرتامل ناڈوریاست کے متاثرہ علاقوں میں ڈینگی وباء کے خاتمے کیلئے ایک ٹیم روانہ کرئے جس ٹیم کے ساتھ ڈینگی وباء پر دسترس رکھنے والے ڈاکٹروں اوردیگر پیرامیڈیکل اسٹاف کوبھی جتنی جلد ہوسکے وہاں پر روانہ کیا جائے’یقیناًآج نہیں تو کل دیش کی متحرک سماجی تنظیمیں مودی حکومت سے یہ ضرور پوچھیں گی اگرکل کلاں کہیں تامل ناڈو ریاست میں ڈینگی وباء سے انسانیت کے کسی بڑے حصے کا کوئی ناقابلِ تلافی نقصان ہوگیا؟ تو مودی سرکارکو اِس کا تسلی بخش جواب دینا ہوگا کہ اْن کی حکومت نے کیوں بروقت ڈینگی وباء کی اطلاع پرخاطرخواہ ہنگامی اقدامات نہیں اْٹھائے؟اورکیوں مجرمانہ تاخیر برتی گئی؟ کیا اِس ‘مجرمانہ تاخیر’ کا یہ مطلب تونہیں ہے چونکہ مودی سرکار کو تامل ناڈو سے اکثریت سے ووٹ نہیں ملے تواْنہیں اِسلائق نہیں سمجھا گیا کہ اْن کی صحت کی بنیادی سہولتوں کی پکار سے مودی سرکار نے اپنے کان بند کرکے اْن سے تاریخ کا ایک بڑا ہی سفاکانہ انتقام لیا ہے’ معلوم تو ایسا ہی دیتا ہے۔