- الإعلانات -

بھارتی معیشت بدترین تنزلی کا شکار

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے بی جے پی کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں عوام کا رویہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ آر ایس ایس نے حال ہی میں ایک تین روزہ میٹنگ کا انعقاد کیا تھا جس میں پورے ملک سے سنگھ پریوار کی مختلف تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی تھی۔پارٹی کے صدر امِت شاہ نے عوامی سطح پر کام کرنے والی ان تنظیموں کے نمائندوں کی رپورٹوں کا بہت گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ آر ایس ایس نے پارٹی صدر کو بتایا ہے کہ اقتصادی سست روی، ملازمتیں ختم ہونے، نئے مواقع سمٹنے، بڑے نوٹوں پر پابندی لگانے کا منفی نتیجہ نکلنے اور کسانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی سے عام آدمی کا رویہ حکومت کے بارے میں بدل رہا ہے۔وہ لوگ جو حکومت کے حامی ہیں اب ان پہلوں پر حکومت کی کارکردگی کے بارے سوالات کرنے لگے ہیں۔ نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو اس طرح مشتہر کیا گیا تھا جیسے اس قدم سے لاکھوں اور کروڑوں روپے کے کالے دھن حکومت کی گرفت میں آ جائیں گے اور حکومت کے بہت سے حامی یہ سمجھ رہے تھے کہ اس سے انھیں براہ راست فائدہ پہنچے گا مگر اب اس قدم کی ناکامی کے بعد انھیں لگ رہا ہے کہ حکومت نے انھیں دھوکہ دیا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبے مشکلات میں ہیں۔ زرعی شعبہ بحران سے گزر رہا ہے۔حکومت نے بینکوں میں جمع کی جانے والی رقوم پر شرح سود میں زبردست کمی کر دی ہے لیکن بینک سے لیے جانے والے قرضوں کی شرح سود توقع کے برعکس گھٹ نہیں سکی۔ لاکھوں مکان تیار پڑے ہیں اور ان کا کوئی خریدار نہیں ہے۔ ملک کی کئی بڑی تعمیراتی کمپنیاں دیوالیہ ہوچکی ہیں۔مودی حکومت نے ان گزرے ہوئے تین برسوں میں نعرے تو بہت دیے، لیکن عملی طور پر کسی بڑی تبدیلی کے لیے ابھی تک ایسا کوئی کام نہیں کیا جسے عام آدمی محسوس کر پاتا۔ مودی اور ان کی جماعت نے گزرے ہوئے برسوں میں اپنی حریف جماعتوں کو کرپٹ، نا اہل اور ملک دشمن تک قرار دیا۔ انھوں نے خود کو عوام کے سامنے ایک ایسے مسیحا کے طورپر پیش کیا جو ملک کے تمام مسائل کو یک لخت حل کر دے گا۔انھوں نے عوام کی توقعات اتنی بڑھا دیں کہ وہ ان سے سیاسی معجزے کی امیدیں کرنے لگی۔ آئندہ پارلمیانی انتخابات میں اب محض دو برس باقی ہیں۔ مودی اور ان کے ساتھی امت شاہ آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں لگ چکے ہیں۔انڈیا کی سیاست میں ہندوتوا اس وقت اپنے عروج پر ہے اور اس کی وجہ ہے کہ گزرے ہوئے تین برسوں میں حکومت نے آر ایس ایس کے ہندوتوا کے نظریے پر عمل کیا۔یہ نظریہ حکومت کا رہنما اصول بنتا جارہا تھا۔ اسے ملک کے کئی حلقوں سے زبردست حمایت بھی مل رہی تھی۔ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ نفرت اور مذہبی تنگ نظری کی سیاست سے ملکوں کی تقدیریں تباہ ہو سکتی ہیں، سنور نہیں سکتیں۔عوام کا بھرم رفتہ رفتہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔مودی سیاست کے تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے اپنے پیروں کے نیچے کی زمین کی حرکت محسوس کر لی ہے۔حال میں ان کے رویے میں غیر معولی تبدیلیاں نظر آئی ہیں۔ انھوں نے پچھلے دنوں برما کے دورے میں رنگون میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے مزار پر پھل چڑھائے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وہ مغل بادشاہوں کو کولٹیرے اور ظالم بتاتے تھے۔جاپان کے وزیر اعظم جب احمدآباد آئے تو وہ انھیں 16ویں صدی کی مسجد بھی دکھانے لے گئے۔ کشمیر میں جہاں ہر مسئلے کے حل کے لیے صرف طاقت کا استعمال ہو رہا تھا وہاں اب اچانک انسانیت اور مذاکرات کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔کابینہ میں نئے وزرا شامل کیے گئے ہیں اور کئی وزرا کے قلم دانوں کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔مدھیہ پردیش کے بعد اب کسانوں نے بی جے پی کے اقتدار والی دوسری ریاست راجستھان میں بھی مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں آر ایس ایس سے وابستہ مزدور یونینیں اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والی ہیں۔صنعتی گھرانوں کی ملیکت والا انڈین میڈیا اب بھی اپوزیشن مخالف اور مودی کا حامی ہے لیکن طویل عرصے تک یہ روش وزیر اعظم کی اپنی مقبولیت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔مودی کی مقبولیت اب بھی کافی حد تک برقرار ہے لیکن صرف مودی کی مقبولیت آئندہ پارلیمانی انتحاب جیتنے کی ضامن نہیں ہو سکتی۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی انتہائی مقبولیت کے باوجود بی جے پی 2004 میں شکست فاش سے دو چار ہوئی تھی۔راجستھان ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی زبردست شکست کے بعد بی جے پی میں اندرونی خلفشار شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور جے پور کی سانگانیر اسمبلی سیٹ سے ممبر اسمبلی گھنشیام تیواری نے ریاست اور مرکز کی مودی حکومت پر کئی طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انھوں نے وسندھرا حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سال سے عوام پر نہ صرف مظالم کیے جا رہے ہیں بلکہ پارٹی کارکنان کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بی جے پی کو ضمنی انتخابات میں شکست فاش ہاتھ لگی ہے۔مرکزی حکومت پر ان کی ناراضگی اس لیے تھی کہ کسانوں اور غریبوں کیلئے اس کے ذریعہ کوئی بہتر قدم نہیں اٹھایا گیا۔گھنشیام تیواری نے بی جے پی کی خراب کارکردگی پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چار سال سے عوام پریشان ہے لیکن وسندھرا جی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ انھوں نے حکومت پر بدعنوانی کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ ’’حکومت میں بدعنوانی سے پریشان عوام اور حکومت کے تاناشاہی رویہ کا فائدہ کانگریس پارٹی کو ملا ہے۔‘‘ تیواری کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے اتارے گئے سبھی امیدوار وسندھرا راجے کی پسند کے تھے، اس کے باوجود انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا جس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام میں ناراضگی کا کیا عالم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس انتخاب میں مرکزی قیادت نے انتخابی تشہیر تک سے دوری اختیار کر رکھی تھی۔ یکم فروری کو راجستھان کی تینوں سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج آئے۔ ریاست کی الور اور اجمیر لوک سبھا سیٹ کے ساتھ مانڈل گڑھ اسمبلی سیٹ پر بھی کانگریس نے بی جے پی کو زبردست شکست دی۔ مودی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے تین برس ہو چکے ہیں۔ ان تین برسوں میں ملک کی معیشت مسلسل نیچے گئی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت تین برس میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی۔آنے والی سہ ماہی میں اس شرح کے بھی نیچے جانے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ ملک کی برآمدات گھٹتی جا رہی ہیں۔ صنعتی پیداوار بڑھ نہیں رہی۔ حکومت نئی ملازمتیں نہیں پیدا کر سکی۔
*****