- الإعلانات -

منفی سیاست امن و استحکام اور ترقی کیلئے سودمند نہیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مظفر آباد میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 364 دن سیاست کیلئے ہوسکتے ہیں لیکن یوم یکجہتی کشمیر کے دن ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے ہمیں جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیر بھائیوں کی مشکلات کا ادراک ہے ۔ کشمیر کی جدوجہد میں آپ کیلئے نہیں بلکہ دوسو سات ملین پاکستانی بھی آپ کے شانہ بشانہ ہیں ملک میں سیاسی اختلافات موجود ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پر سب اکٹھے ہیں کشمیر پالیسی ہمارے سینوں میں محفوظ ہے اور اس کیلئے تحریر کی ضرورت نہیں پاکستان کی تاریخ میں بہت سی سیاسی جماعتیں برسراقتدار آئیں جن آمریتوں کے ادوار بھی شامل رہے لیکن مسئلہ کشمیر پر کبھی بھی دورائے نہیں رہی دوسری طرف سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے مظفر آباد میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہے ، مقبوضہ کشمیر کے بچے ، مجاہدین، بیٹے، بیٹیاں اکیلئے نہ سمجھنا ہمارے دلوں کی دھڑکن آپ کے ساتھ ہے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر میاں نواز شریف نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ میرے ہاتھ صاف ہیں ادھر سے نا اہل ہوگیا ادھر کیلئے تو نہیں نا اہلی نہ ہوتی تو چند سال میں ہر نوجوان برسر روزگار ہوتا ووٹ کو عزت نہ دی گئی تو پاکستان بیٹھ جائے گا، کوئی فیصلہ کشمیریوں سے رشتہ نہیں توڑ سکتا ، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف دھرتی کیلئے ناسور بن چکے ہیں شریف برادران اپنی بادشاہت کو مضبوط کرنے کیلئے ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اب لڑنا پڑے گا ان کو نکالنا پڑے گا اب اگر نواز شریف کو چھوڑ دیا تو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا ۔ جاتی امراء والوں کو کشمیریوں کا غم نہیں چاروں صوبوں میں حکومت بنائیں گے اب کوئی آمر حکومت کی طرف نہیں دیکھ سکتا ۔ نواز شریف آزاد کشمیر جاکر بھی مودی کا نام نہیں لیتے منافقت کرتے ہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی نظر میں وزیراعظم کو ہر طرح کرپشن کرنے کی اجازت ہے میاں صاحب کے تصور جمہوریت میں وزیراعظم قانون سے بالاتر ہے نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں اس طرح کے بیانات سے سیاسی منظرنامہ ابرآلود ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے ۔ حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ چلانے اور اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کی بجائے جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہے جس سے سیاست میں تناؤ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے جو جمہوریت کیلئے سود مند قرار نہیں دیا جاسکتا ، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز نہ کیا جو لمحہ فکریہ ہے ۔ جمہوریت کا تقاضا تو یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں آنے والے انتخابات کے پیش نظر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے لائیں اور اس کی تیاری کیلئے خود کو مصروف عمل رکھیں اور عوام کو بتائیں کہ اگر وہ اقتدار میں آگئیں تو ان کا تعلیمی نظام کیا ہوگا ، صحت کا پروگرام کیسا ہوگا ۔ پیپلز پارٹی اپنی نئی سوچ عوام کو بتائے ، تحریک انصاف اور دوسری پارٹیاں اپنے عملی پروگرام کو واضح کریں ۔ مسلم لیگ(ن) عوام الناس کو بتائے کہ وہ اگلے پانچ سال کے دوران ملک و قوم کیلئے کیا کرے گی۔ بڑی سیاسی جماعتوں کیلئے یہ بھی مناسب ہوگا کہ وہ ان چہروں کو عوام سے روشناس کرائیں جو اقتدار کی صورت میں ملک کے مستقبل کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھائیں گے ۔ عوام کی سیاسی اور ذہنی تربیت بھی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے وہ گالی گلوچ اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے او غیر اخلاقی ہتھکنڈوں سے پوائنٹ سکورنگ کی منفی سیاست سے باہر نکلیں اور قوم کو ایسا لائحہ عمل دیں جو اسے امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کی بلندیوں تک لے جائے ۔ سیاست میں رواداری، اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سیاستدانوں کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے دنیا کو کیا پیغام دیں گے ، منفی سیاست کے رجحان سے باہر نکل کر ہی ملک و قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ سیاست میں عدم رواداری کے باعث افراتفری دکھائی دیتی ہے اور سیاست دان آپس میں الجھے دکھائی دے رہے ہیں جو جمہوریت کیلئے سود مند نہیں ہے۔ سیاست میں ٹھہراؤ اور برداشت کا ہونا ازحد ضروری ہوا کرتا ہے۔ جب تک برداشت کے جمہوری کلچر کو نہیں اپنایا جائے گا صورتحال جوں کی توں رہے گی اور ہمارا جمہوری رویہ سوالیہ نشان بنا دکھائی دیتا رہے گا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ آپس کی تلخیاں بھلا ملک اور قوم کیلئے سوچیں، الیکشن کی آمد آمد ہے اپنے اپنے منشور کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
عسکری قیادت کا حوصلہ افزاء پیغام
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد کی منزل کامیابی ہے۔ بھارتی قابض فورسز کے مظالم کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں دبا سکتے ، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ 2016ء میں بھارت نے 382 مرتبہ اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا ۔ بھارت نے 2014ء میں 315 اور 2015ء میں 248 بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی بھارت کی ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔2017 سے اب تک بھارت 1881 بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے کشمیریوں کو نشانہ بنانا بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نہیں دبایا جاسکتا۔ وانی شہادت کے بعد 515 کشمیری شہید اور 21ہزار متاثر ہوئے اور 73 افراد نابینا ہوئے جبکہ 11ہزار 864 اندھے ہونے کے قریب ہیں ۔ 757 خواتین بے آبروہوئیں،65 ہزار گھردکانیں اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ۔ 1989 سے اب تک 95 ہزار کشمیری زندگی سے محروم ہیں بھارتی درندگی اور مظالم پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے اداروں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہتا ہے لیکن بھارتی جارحیت اور مخاصمانہ رویہ مسائل کے حل کے راستے میں رکاوٹ ہے بھارت سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کے تناظر میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دے اور ظلم و بربریت سے باز رہے ۔ پاکستان کی امن پسندی کو بھارت کمزوری نہ گردانے پاکستان صبروتحمل کا مظاہرہ کررہا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل کا حل بات چیت سے نکلے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی رکاوٹ ہے ، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ اب وقت کا یہ تقاضا ہے کہ بھارت اس مسئلہ کا حل نکالے اور خطے کے امن کو خراب نہ کرے ۔ بھارت ایک طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا کیونکہ عسکری قیادت کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارتی مظالم کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرائے خطے کا امن اس کے بغیر ممکن نہیں۔