- الإعلانات -

بھارتی توسیع پسندی و حالیہ پیش رفت !

asghar-ali

آٹھ اور نو دسمبر کو اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا ءکانفرنس منعقد ہوئی جس کا افتتاح وزیر اعظم نواز شریف اور افغانستان صدر ” اشرف غنی “ نے کیا ۔ اس کانفرنس میں چودہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور یو این سمیت تیرہ سے زائد عالمی اداروں کے نمائندوں نے حصہ لیا ۔ اس کانفرنس میں افغانستان میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہوئی البتہ ”ہارٹ آف ایشیا ءاستنبول پراسس“ کی اس پانچویں اجلاس میں جو سب سے قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی وہ پاک بھارت تعلقات میں آئی نسبتاً بہتری ہے ۔
بھارتی وزیر خارجہ ” سشما سوراج “ نے وزیر اعظم پاکستان اور خارجہ امور کے مشیر سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ نئے سرے سے شروع کیا جائے گا البتہ اس بار اس کا نام ” کمپری ہینسو بائی لیٹرل ڈئیلاگ “ ہو گا ۔
یاد رہے کہ چھ جنوری 2004 ءکو واجپائی اور مشرف کے مابین اسلام آباد میں سارک سمٹ کی سائیڈ لائن پر ہونے والی بات چیت کے بعد ” کمپوزٹ ڈائیلاگ “ کے عنوان سے بات چیت شروع کی گئی تھی جو ممبئی چھبیس نومبر 2008 ءکو ممبئی میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات کے بعد ختم ہو گئی تھی ۔ اس کے بعد 2012 ءمیں ” ریسیومڈ ڈائیلاگ “ کے نام سے یہ بات چیت شروع کی گئی جو مودی حکومت میں ختم ہو گئی ۔ موجودہ پیش رفت اور ڈائیلاگ کے نام کی تبدیلی پر اگرچہ اکثر حلقوں کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں مگر مجموعی طور پر اس کا خیر مقدم ہی کیا گیا ہے ۔
ایسے میں انسان دوست حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ بھارتی حکمران اپنی دیرینہ منفی روش کو ترک کر کے اس بار تعمیری سوچ کا مظاہرہ کریں گے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کی پوری تاریخ اس امر کی مظہر ہے کہ اس نے اپنے ہمسایہ ملکوں کے خلاف توسیع پسندی پرمبنی پالیسیوں کو ہی اپنی بنیادی حکمتِ عملی بنا رکھا ہے ۔ تبھی تو دہلی سرکار نے سری لنکا میں خانہ جنگی کی ایسی آگ بھڑکائی جو تقریباً 30 برس تک جاری رہی اور جس میں تقریباً ایک لاکھ بے گناہ افراد ہلاک ہوئے۔
اس کے ساتھ بھوٹان ، نیپال ، بنگلہ دیش اور مالدیپ مختلف اوقات میں بھارتی ریشہ دوانیوں کا شکا ر ہوتے رہے ۔ چین کے علاقے©” جنوبی تبت“ کو تاحال بھارت نے ارونا چل پردیش کا نام دے کر اس کے او پر اپنا نا جائز تسلط جما رکھا ہے ۔ مشرقی پاکستان قو ت کے زور پر الگ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ تقسیم ہند کے بنیادی فارمولے کو نظر انداز کرتے ہوئے جونا گڑھ ، مناور ، دکن حیدر آباد اور مقبوضہ کشمیر بھارتی حکمرانوں نے ہڑپ کر رکھے ہیں ۔ تبھی تو جون 2014 ئمیں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ” چندر شیکھر ریڈی “ کی صاحبزادی اور لوک سبھا کی نو منتخب خاتون رکن ” کے کویتا“ نے کہا تھا کہ بھارت نے کشمیر پر قوت کے زور پر قبضہ کر رکھا ہے لہذا بھارت کی بین االاقوامی جغرافیائی سرحدوں کا نئے سرے سے تعین ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازیں گذشتہ 8برس سے بھارت دنیا بھر میں اسلحہ خریداری کرنے والے ملکوں میں سر فہرست ہے ۔
اس صوتحال کے ممکنہ محرکات کا تجزیہ کرتے ماہرین نے کہا کہ 31 جولائی 2014ءکو ریٹائر ہوتے وقت بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان کے خلاف انتہائی نا زیبا زبان استعمال کی اور اس کے اگلے ہی روز نئے بھارتی فوجی سربراہ ” جنرل سوہاگ “ نے بھی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں پاکستان کی بابت شدید دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا۔ پھر 12 اگست کو مودی نے لداخ میں بھارتی فوجیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ پاک فوج روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکی ہے “ظاہر ہے ایسی اشتعال انگیز زبان کا تصور بھی کسی مہذب ملک کے سربراہ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے بعد 28 ستمبر کو مودی نے نیویارک میں اسرائیلی وزیر اعظم ” نیتن یاہو “ سے ملاقات کی ۔ باخبر ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے بھارتی وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ پاکستان کے خلاف ”اسرائیلی ماڈل“ اختیار کیا جائے ۔ علاوہ ازیں انڈیا کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ” اجیت ڈووال “ نے کئی بار کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف” جارحانہ دفاع“ کی پالیسی پر عمل کرے گا ۔ موصوف نے اس ضمن میں ”Offensive Defense “ کے الفاظ استعمال کیے ۔
گذشتہ کچھ عرصے کے حالات و اقعات پر نگاہ ڈالیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے اجیت ڈووال کی جارحیت پر مبنی پالیسی پر باقاعدہ عمل شروع کر رکھا ہے جس کا اعتراف خود بعض بھارتی حلقے بھی کر رہے ہیں تبھی تو انڈین ایکسپریس کے سابق چیف ایڈیٹر ”شیکھر گپتا “ نے اپنی تحریر ” National Intrest : Disarming Kashmir “ میں کہا ہے کہ ” یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ گذشتہ ایک عشرے میں انڈین آرمی کے پاس خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے حوالے سے ویٹو کا اختیار آ چکا ہے ۔ اسی وجہ سے نہ صرف کشمیر میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ رہی بلکہ سیاچن کا مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکا ۔“یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ دوسری جانب وطنِ عزیز کی بعض شخصیات نے افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے کا گویا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔
بہرکیف امید کی جانی چاہیے کہ امریکہ سمیت عالمی برادری اور خود پاکستانی میڈیا بھی اس ضمن میں تعمیری روش اپنائے گا تا کہ علاقائی اور عالمی امن کو تقویت مل سکے ۔