- الإعلانات -

بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ اور پاکستان کے خلاف الزام تراشی

riaz-ahmed

بھارت ایک ایسا ملک ہے جس نے کبھی اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا بلکہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں پاکستان کے خلاف الزام تراشی نہ کی ہو اور تخریب کاری دہشت گری کی کاروائیاں نہ کی ہوں۔بھارت میں دہشت گردی کی جتنے واقعات ہوئے اس نے پاکستان کو ہی مورد الزام ٹھہرایا مگر جب تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ ان میں تو ”ہندو دہشت گرد“ ملوث تھے۔سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاو¿ں سمیت دیگر واقعات میںبھارت ملوث رہا جس کا اقرار خودبھارتی افسران نے کیا۔
کچھ عرصہ قبل بھارتی وزارت برائے داخلہ کے ایک سابق افسر نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ اور ممبئی حملے حکومت نے خود کروائے تھے۔وزارت داخلہ کے سابق افسر آر وی ایس مانی نے یہ انکشاف عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں کیا۔آر وی ایس مانی نے تفتیشی ٹیم کے افسر کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کروائے گئے دونوں حملوں کا مقصد دہشت گردی کے قوانین میں سخت ترامیم کے لئے ماحول سازگار کرنا تھا۔ 2001ء میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والا حملہ ملک میں رائج بدنام زمانہ قانون ”پوٹا“ جب کہ 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملے ”یو اے پی اے “ قانون میں ترامیم کرکے اسے مزید سخت بنانے کے لیے کرائے گئے تھے۔اس انکشاف کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ انڈیا نے ہمیشہ پاکستان پر الزام تراشی کی۔ممبئی حملوں میں زندہ پکڑے جانے والے اجمل قصاب کو انڈیا نے عجلت میں پھانسی کیوں دی؟حالانکہ جب پاکستانی وکیلوں کا وفد جرح کے لئے انڈیا گیا تھا تو انڈیا نے اجمل قصاب سے جرح کرنے والوں سے بھی جرح نہیں کرنے دی تھی۔
بھارت کی انسانی حقوق کی معروف کارکن اور ممتاز مصنفہ ارون دھتی رائے نے 13دسمبر 2001ءکو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بارے میں ایک کتاب کے تعارفی نوٹ میں حکومت سے اس حملے سے متعلق 13 سوالات پوچھے ہیں۔ پہلے سوال میں کہا ہے کہ اس حملے سے 4 ماہ قبل حکومت اور پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے۔ 12 دسمبر 2001ءکو اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے باضابطہ طور پر ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوسکتا ہے اور 13دسمبر کو یہ حملہ ہوگیا۔ سخت سکیورٹی حصار کے بیچ کس طرح ایک کار جس میں بم نصب تھا، پارلیمنٹ کمپلیکس کے اندر داخل ہوئی اور دھماکے سے پھٹ گئی؟ حملے کے چند دنوں بعد دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے یہ کہا تھا کہ یہ مشترکہ طور پر لشکر طیبہ اور جیش محمد نامی جنگجو تنظیموں کی کارروائی ہے۔ ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ دلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ’محمد‘ نامی شخص جو IC-814 ہوائی جہاز کو اغوا کرنے میں بھی ملوث تھا، اس حملے میں ملوث ہے جسے بعد میں سی بی آئی نے بری کر دیا تھا۔ پولیس نے ان ثبوتوںکو مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ عدالت میں بطور ثبوت کےوںپیش نہیں کی گئی اور عوام کو بھی یہ ریکارڈنگ کیوں نہیں دکھائی گئی۔ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ پر حملے کی آج تک سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں دکھائی، جس سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔بھارتی پولیس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان اور جہادی تنظیموں پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا اور بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث بھی نہیں ہونے دی۔ آج تک بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ حملے میں ملوث ان پانچ حملہ آوروں کے نام نہیں بتائے۔ ان سوالات کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس کیوں ملتوی کردیا گیا۔
چند دن بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں اورحکومت نے 5 لاکھ بھارتی فوجیوں کو پاکستان بھارت سرحد پر تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ بھارتی فوجیوںکو 13دسمبر سے قبل ہی تعینات کر دیا گیا تھا؟ پارلیمنٹ پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا افضل گورو سابق عسکریت پسند تھا جس سے بھارتی فوجیوں خاص طور پر ٹاسک فورس کا باقاعدہ رابطہ تھا۔ سکیورٹی فورسز اس حقیقت کی کیسے وضاحت کریں گی کہ انکی زیر نگرانی ایک شخص اتنی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کیسے کر سکتا ہے۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں اتنی بڑی کارروائی کیلئے ایک ایسے شخص پر کیسے اعتماد کرسکتی ہیں جو بھارتی سپیشل ٹاسک فورس سے رابطے میں ہو۔ بھارتی پولیس کے کمشنر ایس ایم شنگری نے حملے کے چھ دن بعد ہلاک ہونیوالے ایک حملہ آور کی شناخت محمد یاسین فتح محمد عرف ابوحمزہ کے طور پر کی اور اس کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا گیا تھا۔ جبکہ یاسین کو نومبر 2000ءمیں ممبئی میں گرفتار کر کے اسے کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیاتھا۔ اگر وہ پولیس کی حراست میں تھا تو وہ حملے کے دوران کیسے ہلاک ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد ی کا مرکز پاکستان نہیں بھارت ہے جہاں مسلمانوں کے علاوہ سکھ، عیسائی اور نچلی ذات کے ہندو بھی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ خود اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے تربیتی کیمپ موجود ہیں جہاں مسلمانوں پر حملوں کے لئے ہندووں کو بم دھماکوں اور دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ بھارت اس طرح کا جھوٹا پروپیگنڈہ اور بے بنیاد الزام تراشی کرکے اپنا دہشت گردی والا مذموم چہرہ چھپانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارت جانے والے تحقیقاتی کمیشن نے بھی پاکستان واپسی پر واضح طور پر یہ بات کہی ہے کہ انڈیا کے الزامات میں سرے سے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاو¿ں اور مکہ مسجد دھماکوں سمیت دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں خود ہندو انتہا پسند تنظیمیں ملوث رہی ہیں۔ یہ سب باتیں حقائق منظر عام پر آنے کے بعد انڈیا کس منہ سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کرتا ہے۔ستیش ورما کے انکشاف سے بھارت سے یکطرفہ دوستی کی پینگیں بڑھانے اور پاکستانی دریاو¿ں پر ڈیموں کی تعمیر پر خاموشی اختیار کر کے اپنی ہی دریاو¿ں سے پیدا کردہ بجلی خریدنے کی کوششیں کرنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔بھارت چانکیائی سیاست پر عمل پیرا ہے۔وہ دنیا کو دکھانے کیلئے پاکستان سے دوستی کا ڈھونگ رچا رہا ہے لیکن دوسری طرف انڈیا میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔مسلم بستیوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل اور مساجدومدارس کو شہید کیا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے سلسلہ میں پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں بے پناہ پروپیگنڈہ کیا اور پاکستانی حکمرانوں پر دباو¿ ڈال کر مذہبی رہنماو¿ں کو جیلوں میں قید کروا دیا جو ابھی تک سزائیں بھگت رہے ہیں لیکن اب ساری باتیں کھل کر دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بھارت خود اپنے ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کرواتا ہے اور پھر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا جاتاہے۔ حکمرانوں کو کسی قسم کے دباو¿کا شکار ہونے کی بجائے ملکی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دینی چاہئی۔