- الإعلانات -

ایشیاءکا مسئلہ…. کشمیر یا بیروزگاری؟

sadar-adeel

 کیا دونوں ممالک اب اس بات کا شعور حاصل کرچکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا مستقبل کسی تیسری طاقت کی شرارت کی وجہ سے حل نہیں ہوپارہا یا عوام کو پست رکھنے میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔ اس سوال کاجواب تو آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔ البتہ پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کا اسلام آباد میں منعقد ہونا اس کانفرنس میں شامل ہونے والوں کی طرف سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہے۔ اس کانفرنس کے بنیادی مقاصدمیں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ نمائندگان ایشیاءمیں ابھرتی ہوئی دہشت گردی کے نظریے پر قابو پانے کیلئے مل بیٹھیں جس کامرکز افغانستان میں موجود لاقانونیت اور غیر ملکیوں کی بدنیتی ہے۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام ممالک دہشت گردوں کے ٹھکانوں ، ان کے مالی روابط اور حامیوں پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاو ن کرتے ہوئے قابو پائیں گے ۔ تقریباً 43 نکاتی اعلامیہ میں جو بات سامنے آئی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایشیاءمیں موجود ممالک کی علاقائی سلامتی، آزادی ، اتحاد کی عزت کرنا جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج ہے ۔2۔ ایشیاء میں موجود ریاستوں کی داخلی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرنا۔3۔ انسانی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت دیکھتے ہوئے پرامن افغانستان کیلئے کوششیں کرنا تاکہ اس کے اثرات پورے علاقے پر مرتب ہوں۔4۔ کانفرنس میں ایساف کی افغانستان امن بحالی کیلئے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی فورسز کو ٹرینگ اورمدد کے حوالے سے کردار کو سراہا گیا۔5۔ پاکستان اور ایران کی کوششوں اور مہمان نوازی کو سراہا گیا کہ کثیر تعداد میں افغان مہاجرین کو ان دونوں ممالک نے جگہ دی۔ 6۔ بین الاقوامی برادری کو یاد دہانی کروائی گئی کہ 2017ءتک افغانستان میں قائم قومی اتحادی حکومت کی مالی مدد کرنا۔7۔ القاعدہ ، داعش جیسے متشدد گروپوں کا بین الاقوامی تعاون سے قلع قمع کرنا ۔8۔ پرامن افغانستان اور پرامن خطے کےلئے تمام طالبان گروپوں کا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کرنا۔9۔ قومی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر منشیات ، غیر قانونی اسلحہ سمگلنگ سے فائدہ حاصل کرنے والے دہشت گردوں کی پہچان اور ان سے برتاﺅ کی تدابیر اختیار کرنا۔10۔ آرٹیکل 20 اور 21 کے تحت متفقہ طورپر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 2016 ءکے پہلے حصے میں بیجنگ میں ہارٹ آف ایشیاءسے منسلک سینئر افسروں کی ایک میٹنگ کا انعقاد ۔11۔ سرمائے کا پیدا کرنا اور اس کا استعمال علاقے میں موجود قدرتی وسائل اور افرادی قوت کو دیکھتے ہوئے تاکہ معاشی حوالے سے خطے کو فائدہ ہو۔12 افغان نوجوان اور خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور علاقائی ممالک کا افغانستان سے باہمی تجارت کا پروان چڑھانا ۔13۔ افغانستان کو تجارتی حب سمجھتے ہوئے علاقائی تجارت پرغورکرنا اور تجارتی راستوں کی منصوبہ سازی کرنا ۔8 اور 9دسمبر کو ایک طرف ایشیاء میں موجودممالک کی افرادی قوت کے استعمال پر زور دیا گی ساتھ ہی وسائل کی پہچان اور منصفانہ تقسیم کیلئے ایک ایسا ذہن بنایا گیا کہ خطے میں بسنے والی انسانیت آج اکیسویں صدی میں رہتے ہوں۔ جسمانی و روحانی ترقیاں حاصل کرسکے۔ اگر بیروزگار افراد معاشی تنگدستی کی وجہ سے ترقی کیلئے کردار ادا نہیں کرسکتے تو کم ازکم وہ دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ضرور ہوسکتے ہیں۔ اگر پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس میں دہشت گردی سے نجات کیلئے منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے تو معاشی استحصال کو ترجیح بنیادوں پر حل نہ کرنا مزید دہشت گردی کاباعث بن سکتا ہے۔ اگر اس کانفرنس کے مقاصد میں سے علاقائی معاشی صورتحال پر کچھ نہ کچھ پیشرفت ہو جائے تویقیناً یہ خطہ مغربی بلاک کیلئے نفسیاتی خطرہ ضرور ہوسکتا ہے۔ ہارف آف ایشیاء کانفرنس کی اہمیت اوپر بیان کیے گئے پہرائے میں تو ایک طرف لیکن سشما سوراج کی آمد اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کرگئی ہے۔ تحریر کے شروع میں جو سوال رکھا گیا اس کا جواب تو حقیقی بنیادوں پر آئندہ سامنے آئے گا کیونکہ جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات ہونا شروع ہوئی تو ملک میں موجود سیاسی و مذہبی جماعتوں نے پاک بھارت دشمنی کے حل کیلئے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کا اولین نقطہ بیان کیا ۔ پاکستان اوربھارت میں بسنے والی اقوام کے ہاںترجیحات میں کیا شامل ہے اس کا ادراک زمین حقائق کو سامنے رکھ کر ضرور کرناچاہیے۔ اگر دونوں طرف سے مسئلہ کشمیر لوگوں کیلئے بیروزگاری سے زیادہ اہم ہے تو دونوں طرف کی حکومتوں کوترجیح بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف جانا چاہیے اگر غربت و افلاس اہم مسئلہ ہے تو ذہنی یکسوئی کے ساتھ پاکستان اور بھارت کو اپنے عوام کو زندگیوں میں بہتری کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے نہیں تو پھر یہ بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوگی پھر شکوہ کسی تیسری طاقت سے کیا کرنا۔