- الإعلانات -

16دسمبر۔۔۔ننھے شہیدوں کو سلام

uzair-column

آرمی پبلک سکول کے سانحے کو آج ایک سال مکمل ہونے جارہا ہے ۔گذشتہ سال کے 16دسمبر کویاد کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔مگر ان بہادر بچوں کو بھی خراج عقیدت اورخراج تحسین پیش کرنے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے دہشتگردوں کا کس طرح مقابلہ کیا ۔جب معصوم بچوں کو سفاک بھیڑیوں نے نشانہ بنایا معصوم فرشتوں کے لہو سے زمین کو سرخ کیا ۔ایک قیامت خیز منظر تھا کہ ماؤں نے اپنے لالوں کو تیار کرکے سکول بھیجا تھا ۔مگر جب وہ انہیں واپس ملے تو وہ صاف ستھری سکول کی یونیفارم خون میں رنگی ہوئی تھی ۔کتابیں بکھڑی پڑی تھیں یوں لگ رہا تھا کہ یہ معصوم کونپلیں جن کودہشتگردوں نے مسلنے اور کچلنے کی کوشش کی وہ سورہے ہیں ۔معصوموں کا خون پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ ماں پریشان نہ ہونا ۔ہم نے تو مادر وطن کیلئے اپنا لہو قربان کیا ہے ۔آج اس وطن کی جڑوں میں ہمارا لہو ہے ۔ہم وطن کو اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں تم خفا نہ ہونا ،تم نے تو ہمیں تیار کرکے بھیجا تھا ہاں آج ہم وطن پر قربان ہونے کیلئے تیار ہوئے تھے ۔ماں رونا نہیں ،دہشتگردوں کو پیغام دیا کہ ہمارے سپوتوں نے وطن کی آن بلند رکھنے کیلئے قربانی دی ،آج ہی سے ان وطن دشمنوں کیلئے الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ماں ہمارا لہو رنگ لائیگا۔ملک میں امن وامان قائم ہوگا ۔وطن ترقی کرے گا ،دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا جائیگا،ہمارا قیمتی لہو کسی صورت رائیگاں نہیں جائیگا ۔ماں تم بڑا دل رکھنا جب جب ہماری یاد آئے وطن میں قیام امن کیلئے دست دعا بلند کرنا ،تمہیں صبر آئیگا،تمہارا دل خوش ہوگا،آج جب وطن خوشی کا گہوارہ بن رہا ہے ان خوشیوں میں ہمارا لہو شامل ہے ۔دہشتگرد یہ نہ سمجھیں کہ وہ کامیاب ہوگئے ہیں ۔ان کے آخری دن آن پہنچے ہیں ماں بس تم صرف انتظار کرنا ۔آنکھوں میں آنسو نہ لنا ،کف افسوس نہ ملنا،ہم تمہارا نام بلند کریں گے ۔اپنے والد کی آن کی پگڑی کا شملہ بھی بلند رکھیں گے ،آج کی قربانی کل کے امن کی نوید دے رہی ہے ۔ماں دیکھنا اب دہشتگردوں پر زمین کس طرح تنگ کردی جائے گی ۔پھر کچھ اسی طرح ہوا آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کررکھ دی ۔شمالی،جنوبی وزیرستان جو شرپسندوں کے گڑھ تھے ۔پاک فوج نے بہادرانہ کارروائیاں کرتے ہوئے وطن دشمن عناصر کا خاتمہ کردیا۔متعدد کیفر کردار تک پہنچے ،گرفتارہوئے ،تحقیقات ہوئیں ،نامعلوم کتنے ماسٹر مائنڈ پکڑے گئے ،آج اے پی ایس کے سانحہ کوجوسال مکمل ہوا اس ایک سال پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج نے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملادئیے پھر پوری قوم دہشتگردی اوردہشتگردوں کیخلاف متحد ہوگئی ۔پاک فوج کیساتھ کندھا سے کندھا ملاکرکھڑی ہوگئی ۔فوج اور حکومت ھبی ایک پیر نظر آئے ۔دیکھا ماں ہمارے خون کی قربانی کانتیجہ ۔اس پاک سرزمین پر اب کوئی دہشتگرد نہیں بچے گا ۔ہمارے دوست،ہمارے ساتھی ،ہمارے کلاس فیلوز اسی طرح سکول جارہے ہیں ان کے حوصلے بلند ہیں ان کے عزائم میں کوئی متزلزل نہیں آیا ۔ماں میرے کلاس فیلوز کے تو ویسے بھی حوصلے بلند ہیں ۔مگر تم انہیں اورحوصلہ دینا کہ ہم نے ان کے بہتر مستقبل کیلئے اپنی جانیں نچھاورکردی ہیں ماں تم خوش نصیب ماؤں میں سے ہو کہ تم نے ان شیر بہادروں کو جنم دیا ۔جنہوں نے وطن پر آنچ نہ آنے دی اوراپنے وطن کی مٹی کی حفاظت کیلئے جانیں قربانی کردیں ۔16دسمبر ہر سال آئیگا مگر ہر دن دہشتگردوں کیلئے ہمیشہ ایک پیغام لیکر آئے گا کہ اس وطن کے معصوم فرشتے بھی ہر لمحہ تیار ہیں ۔دہشتگردوں تم نے معصوموں کو شہید کردیا ۔مگر ان ننھے شہیدوں نے تمہارے مذموم عزائم خاک میں ملا دئیے ۔تخریب کارو تمہیں ہر جانب شرمندگی کا ہی سامنا کرنا پڑے گا ۔اس دھرتی سے تمہیں ختم کردیا جائیگا ۔ہمارے نام تاقیامت تک زندہ رہیں گے ،ہماری مائیں فخر سے سراٹھا کر زندگی گزاریں گی ۔ہمارے معاشرے میں ہمارا ایک مقام ہوگا ۔مورخ ہماری قربانیاں سنہرے حروف میں لکھے گا ۔مگر تمہارے لیے دو لفظ بھلے کے بھی نہیں بولے گا ۔ماں تم حوصلہ رکھو ۔جب تک اس وطن میں تمہاری جیسی جی دار مائیں موجود ہیں ۔کوئی دشمن بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ماں تم نے ہی تو کہا تھا کہ اصل ماں ہمارا وطن ہے ۔تو ہم نے تو اپنی ماں کی حفاظت کرنا تھی ۔ماں کی حفاظت کیلئے جان کی قربانی دینا کوئی مہنگا سودا نہیں ۔ہمارا وطن قائم ودائم رہے ۔بس ہماری قربانی کی یہی منزل ہے ۔اے وطن تجھے سلام ۔۔پاک فوج تجھے سلام ۔۔۔ماں تیری عظمت کو سلام ۔۔۔!