- الإعلانات -

پاکستانی میڈیا میں ’استعماری آقاوں‘ کے زر خرید؟

nasir-raza-kazmi

یقین کیجئے گاذرائع ِ ابلاغ سے وابستہ کوئی بھی فرد ‘ چاہے وہ اِس اہم شعبہ میں نووارد ہو یا سینئر‘ یا پھر وہ اپنے شعبہ ¾ ِ صحافت کا ’ہیرو‘ ہو، یہاں لفظ ’ ہیرو ‘ ہم نے کیوں استعمال کیا؟ ہم یہ بھی لکھ سکتے تھے کہ ذرائع ِ ابلاغ کی وہ شخصیت ’سینئر ترین ممتاز قابل ِ احترام مقام پر فائز ہو ’ہیرو‘ یا تو فلموں کے ہوتے ہیں یا ٹی وی ڈراموں سے اُن کاتعلق ہوتا ہے، لیکن جب سے ملک میں آزادی ¾ ِ اظہار کے نام سے دی جانے والی الیکٹرونک صحافت کے ٹی وی ٹاک شوز کے جمعہ بازار وں میں طرح طرح ٹاک شوز کے” اینکر پرسنز “کی گردنوں میں آئے ہوئے ’سرئیے‘ ہم نے محسوس کیئے اور اُن کی اکڑی ہوئی گردنوں کی ’اٹھانیں ‘ دیکھیںاُن کے رنگا رنگ قیمتی لباسوں کی دل لبھانے والی تراش خراش میں اُنہیں اپنے اردگرد سے بے خبر اُن کی چال میں ایک تکبر ونخوت کا احساس نمایاں دیکھا تو معلوم ہوا کہ کیا یہ’ لوگ‘ یا ایسے’ لوگ‘ ہماری سماجی زندگیوں کے ہمارے رابطہ  ِ عامہ کے ماہرین کہلائے جانے کے مستحق ہوسکتے ہیں ؟ یعنی کیا یہ لوگ” دیانت دار“ صحافی کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟ تقسیم ِ ہند سے قبل اور تقسیم ِ ہند کے بعد کئی دہائی تک ذرائع ِ ابلاغ سے وابستہ حقیقی ’قلمکاروں ‘ کو ہم نے ابھی 15-20 برس قبل ایسی ’لچ پچ زندگی ‘ بسر کرتے کبھی نہیں دیکھا، ٹھیک جناب! آپ صحیح کہتے ہیں کہ اب ’صحافت ‘ بڑی کمرشل از م ہوچکی ہے اور آجکل جس طرح کی صحافت ہورہی ہے تو اِن سے ایسے ہی ’لچ پچ نتائج‘ برآمد ہونگے پیسہ آجانا کوئی بُری بات نہیں صرف شرط یہ ہے کہ یہ پیسہ جائز طریقے سے کمایا جانے والا ہو،کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کی چکاچوند پر کوئی نگرانی چوکی بٹھلانے کا جب کوئی باضابطہ نظام ہی وضع نہیں کیا گیا تو پاکستانی کے ازلی دشمنوں یعنی بھارت بشمول امریکا‘ مغرب اور اسرائیل نے ہمارے الیکٹرونک میڈیا میں سے چند ’ایک ایسوں‘ کو (سوائے روز ٹی وی نیوز کے) اُنہیں ہر قیمت پر گود لے لیا ظاہر ہے کیمرہ نے دکھانا ہے ‘ سیٹ سامنے لگا ہوا ہے، مائیکروفونز لگے ہوئے ہیں، کیمرہ کے سامنے، جب تک کوئی نہیں آئے گا تو یہ سب کچھ بیکار ہے اِن بے جان چیزوں کو خرید کر کوئی کیا تیر مارسکتا ہے ٹی ویژن اسکرینوں پر بحیثیت ِ میزبان یا اینکرپرسنزبننے والوں کو اگر کوئی خرید لے اُس کی ذہنی ’ڈی بریفنگ ‘ کردی جائے اور اُس کو باور کردایا جائے کہ’ اندرون ِ ملک اور بیرون ِ ملک اُس کے اکاونٹس میں ’مقررہ ‘ رقوم میں کبھی کمی نہیں آئے گی دنیا بھر میں وہ جہاں اور جس پُرتعش ملک میں جانا چائے گا وہاں اُس کی مرضی ومنشا کے مطابق اُس کی آوبھگت ہوگی جس کا معاوضہ صر ف اتنا ہے کہ وہ جہاں پر بھی اُٹھے بیٹھے ‘ جس محفل میں جائے محفل پر چھا جائے دنیا کے جس اہم ملک کے سفیر سے وہ جب چاہے مل سکتا ہے اصل میںذرائع ِ ابلاغ ایک ایسا ’حساس‘ مگر ہر کس و ناکس کے نزدیک اِس قدر قابل رسائی کا شعبہ ہے جسے ہر کوئی جب اُس کا دل چاہے اپنا ’شعبہ ‘ کہہ سکتا ہے، اگر آپ پروفیسر ہیں آپ کا دل چاہا کہ کوئی مضمون یا کالم لکھنا چاہیئے لیجئے آپ بھی صحافی بن گئے ‘ انجینئر‘ ڈاکٹرز ‘ اخبارات کے مسلسل قارئین‘اسکولوں کے استاد ‘ چند ایک دن کسی نامور اور مشہور صحافی کے ساتھ وقت گزارنے والے اگر اپنے آپ کو ’صحافی ‘ کہلوانا شروع کردیں تو اُنہیں کوئی کیسے چیلنج کرئے واقعی لکھنا پڑھنا ایک معتبر کام ہے، اگر یہ اہم و حساس کام ہم سبھی لوگ ’معتبرانہ دیانت داری ‘ کے ساتھ انکسارانہ او رعاجزانہ طرز ِ عمل اپنا کر کریں جیسا چند سطروں قبل تحریر کیا گیا کہ پاکستان کی مشرف حکومت نے نجانے اِتنی جلدی میں ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر الیکٹرونک میڈیا کو اِتنی بے لگام آزادی کیوں دیدی؟نتیجے میں پاکستان کو کیا ملا ؟ ہوش ربا دیو قامت ‘ بے تحاشا دولت و طاقت کے نشے میں بد مست چند ڈھیٹ الیکٹرونک میڈیا ہاو¿سنز؟اِسی پر بس نہیں، اُن میڈیا ہاو¿سنز کے چند ’اینکر پرسنز ‘ جو آج 10 برس ہونے کو آئے ابھی تک جنہیں اگر کسی سے کوئی پرخاش ہے تو وہ ہمارے قابل ِفخر عسکری ادارے اور خاص طور پر اُنہیں آئی ایس آئی کا وجود زہریلے کانٹوں کی طرح سے اُن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے گزشتہ دنوں پاکستان بھر میں غالباتین مراحل میں بلدیاتی انتخابات ہوئے 2008ءمیں عام انتخابات ہوئے2013ءمیں عام انتخابات ہوئے سابقہ آرمی چیف جنرل کیانی کے دورمیں ہی اُس وقت کی عسکری قیادت نے ایک تاریخی فیصلہ کیا کہ ’پاکستانی فوج کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ‘ اب جنرل راحیل شریف ہیں فوج اپنا آئینی کام کررہی ہے اور جمہوری ادارہ اپنا سیاسی کام کررہی ہے پاکستانی فوج اور سیاست کو ہمہ وقت ایک پیج پر لانے کی باتیں ہم اور اپنے الیکٹرونک میڈیا پر سنتے ہیں الیکٹرونیک میڈیا کو اپنا جو پیشہ ورانہ کام کرنا ہے اِس کے علاوہ وہ ہر کام کررہی ہے ملک کے ایک مشہور متنازعہ ایکٹر نما اینکر پرسنز اُن کا نام کیا لکھیں ہم نے اتناہی لکھا اور آپ کی زہانت کی داد کہ آپ اُن تک پہنچ گئے، آجکل یہ حضرت جس محفل میں بیٹھتے ہیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو متنازعہ بنانے کی نیت سے لفظوں کے ایسے پینترے بدل رہے ہیں، جیسے وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ ’اِس بار بلدیاتی الیکش میں آئی ایس آئی جو کچھ کرنا چاہتی تھی وہ نہیں کرسکی، نتائج اپنی مرضی سے مرتب کرنے میں آئی ایس آئی کی ایک نہیں چلی؟ چونکہ بقول اُن ’حضرت‘ کے اِس بار ’پاپولر شخصیات کو پالولر ووٹ ملا ‘ بات ہماری بھی سمجھ میں بالکل نہیں آئی کہ اِن کے دماغ میں ہر وقت کیا چلتا رہتا ہے؟ ہمہ وقت تیکھی آنکھوں سے باتیں کرنا ‘ مبہم اشاروں کنایوں سے اپنے ’ جیسوں ‘ اپنے مطلب کی باتیں کرنا جہاں کوئی ایسا نامور اور قابل ِ احترام پاکستانی قوم پر ست صحافی کا اِن ’جیسوں ‘ کی میٹنگ پوائنٹ کے قریب سے گزر ہو تو بلا وجہ ’ قہقہہ ‘ لگادینا ہمیں ایک حوالے سے ایسوں پر ترس آتا ہے چونکہ سوسائٹی نے اِن کا بائیکاٹ کیا ہوتا ہے اور انتہائی افسوس اور دکھ کا مقام یہ ہے اِنہیں اِس عبرت انگیز بائیکاٹ کا بالکل احساس تک نہیں ہوتا ملک کی آئی ایس آئی جیسی اہم سپریم ایجنسی کا کسی بھی عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ،جناب ِ والہ! یہ اکیسیویں صدی کے پاکستان کا سپریم قومی سیکورٹی ادارہ ہے دفاع ِ پاکستان پر اپنی نگائیں چوکسی سے جمائے پاکستان کے دشمنوں کی نیندیں حرام کیئے ہوئے ہے ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر کے دشمن بھی اپنی سی بڑی کوشش کرچکے مگر ‘ ہربار ناکامی ‘ عبرت ناکامی بلکہ شرمناک ناکامی نے اُن کے ہر حربوں کو خاک نشین کیا یقینا ہمارے ملکی میڈیا کی صفوں میں (روز نیوز ٹی وی اور روزنامہ پاکستان اسلام آباد) کے علاوہ کئی بڑے نامور اداروں میں پاکستان دشمن عناصر اہم پوسٹوں پر آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ بڑی تلخ اور کڑوی سچائی ہے ۔