- الإعلانات -

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور سشما سوراج

rana-baqi

سشما سوراج اسلام آباد میں افغانستان کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے بعد نئی دہلی واپس پہنچیں تو ہر طرف ایک ہاہاکار مچی تھی ۔ بھارتی میڈیا تجزیہ نگاروں کی فوج ظفر موج کے علاوہ کانگریس پارٹی اور خود حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی عسکریت پسند تنظیموںبشمول راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے رہنما ﺅں نے اُنہیں آڑے ہاتھ لیتے ہوئے اُن پر سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی کہ اُن کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران بھارتی ترنگا پرچم کس بھول بھُلیّاں میں کھو گیا تھا۔ اُن کے نقاد تسلسل سے یہ الزام دھراتے رہے کہ وہ اسلام آباد میں بھارت کا وقار قائم رکھنے میں نہ صرف ناکام رہی ہیں بلکہ توہینِ پرچم کی مرتکب بھی ہوئی ہیں ۔ چنانچہ نئی دہلی واپسی پر اُنہوں نے پریس سے خطاب کرنے کے بجائے انٹر نیٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں بھارتی پرچم سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی دوطرفہ اجلاس نہیں تھاجس میں بھارتی پرچم کی موجودگی ضروی ہوتی ۔غالباً اِس ٹویٹ میں اُنہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان سے اُن کی میٹنگ محض ایک کرٹسی کال تھی۔ محترمہ سشما سوراج ٹویٹ لکھتے وقت شاید اِس اَمر کو بھول گئیں کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے وزیر خارجہ بھی ہیں جبکہ سرتاج عزیز محض اُن کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔اگر یہ دوطرفہ میٹنگ نہیں تھی تو پھر اُن کے دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ کیوں جاری کیا گیا ؟ یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے وزیر خارجہ کا عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے سرتاج عزیز جناب نواز شریف کی جنبش اُبرو کے بغیر کسی مشترکہ اعلامیہ کو جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہیںچنانچہ سشما سوراج کی وزیراعظم سے ملاقات کا تذکرہ مشترکہ اعلامیہ کے شروع میں ہی کیا گیا ہے۔ دریں اثنا ، یہ اَمر باعث اطمینان ہے کہ سشما سوراج کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تمام امور بشمول جموں و کشمیر، سیاچین ، وولر بیراج، سر کریک ، معاشی و تجارتی تعاون ، انسداد دہشت گردی وغیرہ پر خارجہ امور کے سیکریٹری لیول پر جامع دوطرفہ ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کا انعقاد کوئی نئی بات نہیں ہے ۔پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان بشمول جموں و کشمیر جامع مذاکرات مکمل ہوتے رہے ہیں لیکن بھارت اپنے مفاد کے سوا کسی مسئلے بل خصوص کشمیر پر مذاکرات سے پہلو تہی کر لیتا ہے۔ چند ماہ قبل بھی بھارت نے کشمیر کو اٹوٹ کہتے ہوئے محض اِس لئے سیکریٹری لیول مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دینا اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے نئی دہلی میں کشمیری رہنماﺅں سے بات چیت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر پر بات چیت کا نئے سرے سے ڈول کر دراصل بھارت افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے تجارت کےلئے واہگہ ، جلال آباد زمینی راستہ کھولنے کی سہولت کا متلاشی ہے اور اِسی مقصد کےلئے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شمولیت کےلئے بھارت نے نریندر مودی ، نواز شریف پیرس ملاقات میں بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستان بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ سشما سوراج بڑی دھڑلے والی خاتون ہیں چنانچہ سوشل میڈیا میں اُن کی جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کی وڈیو کے چرچے اتنے پاپولر ہوئے کہ اُن کی محترمہ مریم نواز شریف اور خود جناب نواز شریف سے ملاقاتوں کی خبریں پس پشت چلی گئیں ۔ سشما سوراج جب جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کےلئے آئیں تو اُنہوں نے تمام سفارتی پروٹوکال کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر بڑی گرم جوشی سے جناب سرتاج عزیز کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چند سیکنڈوں تک تو پروٹوکال اور سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکاروں کو مبہُوت کرکے رکھ دیا لیکن بات گولڈن جھپی تک نہ پہنچ سکی چنانچہ سشما سوراج نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ وڈیو کیمرے آن ہیں وہ پیچھے ہٹ گئیں اور ہاتھ جوڑ کر ہندوانہ پروٹوکال کا انداز اختیار کر لیا جبکہ جناب سرتاج عزیر ہاتھ ہلاتے ہی رہ گئے کہ یہ کیا ہوا ہے ۔ البتہ امیتاب بچن اور زینت امان کی مشہور فلم لاوارث کے ایک خوبصورت گانے کی یاد ضرور تازہ ہوگئی یعنی "کب کے بچھڑے ہوئے ہم آج کہاں آ کے ملے” ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں جناب سرتاج عزیز نے ممبئی حملوں سے متعلق پاکستانی عدالتوں میںمقدمات کے جلد فیصلے کرنے کا تذکرہ تو کر دیا لیکن بھارت میں سمجھوتہ ایکپریس میں پاکستانی شہریوں کے قتل عام سے متعلق تذکرہ کرنا بھول گئے جس پر کچھ سیاسی حلقوں بشمول شیریں مزاری نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ جمیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نریندر مودی سے نواز شریف کی ملاقات اور سشما سوراج کے دورہ پاکستان میں بھارت کےساتھ کیا طے پایا گیا ہے پر قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
اندریں حالات ،بھارت ایک جانب تو چین پاکستان تجارتی راہداری منصوبے کی مخالفت میں پیش پیش ہے تو دوسری جانب وہ اپنی تجارت کو زمینی روٹ کے ذریعے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن یہ توقع رکھنا کہ جموں و کشمیر پر بات چیت کے دوران بھارت اٹوٹ انگ سے ہٹ کر کوئی اور موقف اختیار کرے گا ناقابل فہم بات ہے۔ کشمیر کنٹرول لائین کے حوالے سے جولائی 1972 میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی اور پاکستانی وزیراعظم ذوافقار علی بھٹو کے درمیان ہونے والا دو طرفہ شملہ معاہدہ جس میں دونوں ملکوں کے درمیان اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کی بات کی گئی تھی پر سیکریٹری لیول بات چیت کے متعدد دور منعقد ہونے کے باوجود بھارت مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلئے رضامند نہیں ہوا تھا اور ایٹمی طاقت کے زور پر پاکستان کو دبامہ چاہتا تھا۔بھارت کی ہٹ دھرمی کا تذکرہ سابق وزیراعظم پاکستان کے دورہ چین کے اختتا م پر مئی 1976 میں بیجنگ سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں بھی بخوبی کہا گیا ہے۔ ” وزیراعظم پاکستان نے چینی وزیراعظم کو بتایا کہ شملہ معاہدے کے تحت تمام معاملات پر مطلوبہ پراسس مکمل کر لیا گیا ہے ۔ صرف جموں و کشمیر کا تنازعہ جسے پُر امن طریقے سے اقوام متحدہ کی حق خودارادیت کی قرارداد جسے پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا تھا کےمطابق دونوں ملکوں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے حوالے سے تعلقات مکمل طور پر معمول پر لانے کےلئے حل کیا جانا رہ گیا ہے ۔ مشترکیہ اعلامیہ میں چینی وزیراعظم کی جانب سے بھی کہا گیا تھا کہ چینی حکومت اور عوام پاکستان کی قومی آزادی ، علاقائی سلامتی ، اقتدارِ اعلیٰ اور جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے رہیں گے ۔
چنانچہ بھارت کی یہ عادت کبھی نہیں بدلے گی کہ وہ اپنی جدوجہد کے تسلسل سے اپنے مفاد کے حامل مسائل کو حل کرنے کےلئے تو پیش پیش رہتا ہے لیکن جموں و کشمیر کے عوام کو حق خوداردیت دینے گریزاں ہے ۔ بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ یہ بات زور دیکر کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں کوئی بھی حکومت ہو وہ کشمیر کنٹرول لائین سے ہٹ کر کشمیر پر کبھی کوئی معاہدہ نہیں کریگی۔ ہمارے اداروں کو حالات سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ ختم شد