- الإعلانات -

ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس اور افغانستان

syed-rasool-tagovi

 افغانستان میں امن کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے پانچویں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس آٹھ اور نو دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس کے میزبان پاکستان اور افغانستان تھے ۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی شریک ہوئیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں ان کی شرکت اہم تصور کی جارہی تھی ۔ علاوہ ازیں دس دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی جبکہ کل 44 ممالک کے وفود نے شریک ہوکر اس کانفرنس کی اہمیت کو دوچند کردیا ۔ کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق تمام افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کومزید تیز کیاجائے گا۔ پاک افغان وزرائے خارجہ نے بھی میڈیا سے مشترکہ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی خودمختاری اور احترام کیاجائے جبکہ رکن ممالک امن اورمفاہمتی عمل کوآگے بڑھانے کے سلسلے میں تعاون اور اپنا بھرپور کردار اداکریں ۔ انہوں نے بتایا کہ امن کے عمل کوآگے بڑھانے اور پائیدار امن کیلئے طالبان کومذاکرات کی میز پر لاکر بات چیت کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع کیا جائے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے کیلئے مل کرکام کریں۔ ہارٹ آف ایشیاءاستنبول پروسیس کے سلسلے میں اب تک چار کانفرنس منعقد ہوچکی ہیں لیکن نتائج اب تک توقع کے مطابق حاصل نہیں ہو پائے تھے حالانکہ اب تک افغانستان میں امن کی کوئی نہ کوئی شکل ابھر کر سامنے آجانی چاہیے تھی۔حالیہ پانچویںکانفرنس میں جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ہے اگر ان پر حقیقی معنوں میںعملدرآمد شروع کردیا جائے تو جلد پائیدار امن کی صورت گری ہو جائے گی۔ پاکستان کا یہ اصولی موقف ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے ۔ اگر مری بات چیت کا سلسلہ بوجوہ معطل نہ ہوتا تو یقیناً آج افغان میں بہتری کے آثار نمایاں ہوچکے ہوتے۔ پاکستان ایک عرصہ سے کوشاں ہے کہ افغانستان میں فریقین مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی خواہشات کوکمزوری سمجھتے ہوئے اس پار بدنیتی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔خصوصاً سابق صدر حامدکرزئی جسے ذاتی سیاسی مفادات زیادہ عزیز تھے، لہذا وہ نہیں چاہتے تھے کہ طالبان سے بات چیت کرکے ان کا وجود تسلیم کرکیا۔ عبداللہ عبداللہ، حامدکرزئی اور افغان انٹیلی جنس NDS کی شیطانی مثلث پاکستان دشمنی میں بھارتی مفادات کے تابع تھی۔اب بھی یہی شیطانی مثلث بھارتی مفادات کی تابعداری میں ڈاکٹر اشرف غنی کی راہ میں روڑے اٹکانے میں مصروف ہے۔ اس بات کا اندازہ افغان انٹیلی جنس NDS کے سربراہ کے مستعفی ہونے سے لگایا جاسکتا ہے ۔ ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے اختتام کے اگلے روز ہی این ڈی ایس کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کے ساتھ پالیسی اختلافات کے بعد استعفیٰ دے کر پاکستانی موقف کو خود ہی دلدیل فراہم کردی۔ پانچ برس سے این ڈی ایس کے سربراہ رہنے والے رحمت اللہ نبیل نے صدر اشرف غنی کو لکھے جانے والے خط میں لکھا کہ مجھے آپ کی پالیسیوں سے اختلافات ہے۔ رحمت اللہ نبیل کے حوالے سے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وہ پاکستان مخالفت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ جب سے این ڈی ایس کی سربراہی ان کے ہاتھ تھی اس نے نہ صرف پاکستان سے بھاگ کر افغانستان پہنچنے والے دہشت گردوں کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں بلکہ بھارتی ایجنسی ”را“ کی بھی بھرپور معاونت کی۔ پاکستان اس حوالے سے اس وقت حامد کرزئی حکومت کو باربارآگاہ کرتا رہا لیکن موصوف اسے درخور اعتنا نہیں جانتے تھے۔ڈاکٹر اشرف غنی کوبھی ٹھوس شواہد فراہم کئے گئے ہیں کہ کس طرح این ڈی ایس پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔کابل چونکہ اب تک بھارتی لابی کے زیر اثر ہے تو اس سلسلے میں ڈاکٹر غنی کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔پاکستان اور اشرف غنی حکومت ا نٹیلی جنس تعاون پر ہر وقت آمادہ رہتے ہیں بلکہ چند ماہ قبل اس سلسلے میںباقاعدہ بات چیت میں معاملات طے پا گئے تھے مگر این ڈی ایس نے اسے ناکام کردکھایا ۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت این ڈی ایس کے ساتھ مل کر طالبان کے توڑ کیلئے داعش کی راہ ہموارکررہا ہے۔ اب اگر رحمت اللہ نبیل نے استعفیٰ دے دیا یا اسے استعفے پر مجبور کیا گیا ہے تو امید ہے کہ اس سے نمایاںبہتری آئے گی اور پاک افغان حکومتیںمل کر آگے بڑھیں گے۔ ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس کے موقع پر پاکستان ،افغانستان ، امریکہ اورچین کے اعلیٰ سطح وفود کے مشترکہ اجلاس جس میںوزیراعظم پاکستان، صدر اشرف غنی ، چینی اور امریکی نائب وزرائے خارجہ کی شرکت سے توقع ہے کہ اس کے نتیجے میںجہاں افغان امن میں اہم پیشرفت متوقع ہے وہاں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تلخیاں کم اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع بھی ملے گا۔کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر دہشت گردی کے خلاف کابل حکومت کی کوششوں کوسراہا اور افغان صدر کو یقین دلایا کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیںجبکہ ڈاکٹر اشرف غنی نے کہاکہ دہشت گرد دونوں کے دشمن ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کاملک پاکستان سے سیاسی و سماجی تعلقات کے علاوہ ملٹری ٹو ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں میں رابطے بڑھانے کا خواہاں ہے۔دونوں رہنماﺅں نے جس طرح خیر سگالی کا مظاہرہ کیا اور خطے کے امن کیلئے مل کرکام کرنے کا عزم کیا ہے وہ وقت کا تقاضا بھی ہے اورضرورت بھی ۔ کیونکہ پچھلے ایک عشرہ سے جاری دہشت گردی کی جنگ میں دونوںممالک بھاری جانی و مالی نقصان اٹھاچکے ہیں جبکہ بعض مفاد پرست ممالک دونوں میں دوریاں پیدا کرکے دونوںکو ہی عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان سے وابستہ ہے تو افغانستان کا استحکام پاکستان سے جڑاہوا ہے۔ افغان صدر دائیں بائیں کی سازشی تھیوریوں پر کان دھرنے کی بجائے اپنی پہلے دن کی پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے آگے بڑھیں گے تووہ پاکستان کو اپنے ساتھ ہم قدم پائیں گے۔ اسی لئے میاںنواز شریف نے کہاکہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ہمسایوںسے پرامن تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔