- الإعلانات -

جناب وزیراعظم پاکستانی کر کٹ کو بچالیجئے

amjiad

پاکستانی کرکٹ ذلت ورسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبکیاں کھارہی ہے۔ مگر پاکستانی کرکٹ کا یہ المنا ک انجام روز روشن کی طرح عیاں تھا۔ نوشتہ ءدیوار تھا۔ پاکستانی کرکٹ کے ٹھیکے دار بڑے منجھے ہوئے شکاری ہیں۔ اُن کا نشانہ چوکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس دن پاکستانی کرکٹ کی ڈوبتی ناﺅ جناب نجم سیٹھی اور بعد میں نواب صاحب کے سپرد کر دی گئی۔ وہ دن اور آج کا دن ہر روز غیور پاکستانی قوم کے کرکٹ سے جڑے زخموں پر نمک پاشی ہوتی رہی۔بلکہ کا لا نمک چھڑ کا جاتا رہا۔ گزشتہ سال پاکستانی ٹیم نے ایشیا کپ کا فائنل بنگلہ دیش ٹیم کے خلاف جیتا تو بنگلہ دیش کی پاکستان دشمن وزیراعظم حسینہ واجد فائنل میں تقسیم انعامات کی تقریب کو اپنے سینڈل سے ٹھوکر مار کر سٹیڈیم سے چلی گئیں۔ یہ ایک طرح سے پاکستانی جیت اور پاکستانی ٹیم پر ذلت اور رسوائی کا پہلا بھر پور وار تھا۔ کرکٹ کے ٹھیکے داروں کو یہ ذلت و رسوائی راس آئی اور پھر بنگلہ دیش پاکستان کا مختصر دورہ کرنے کاوعدہ کر کے صاف مُکر گیا یوں پاکستانی حکام کو منتیں ترلے کروانے کے باوجود پاکستانی کرکٹ کے کشکول میں آخری وقت تھوک دیا۔ پاکستانی قوم نجم سیٹھی اور شہریا ر سے سوال کرتی ہے کہ وہ آخر کیوں وطن کی عزت کو داﺅ پر لگا رہے ہیں۔کھیلیں اور باقی تمام سرگرمیاں عزت کے لئے ہی کی جاتی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کے یہ ٹھیکے دار وقومی عزت ووقار کی نفی کرکے کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پاکستانی کرکٹ کے یہ دونوں ٹھیکے دار دو تین ہفتے پہلے جب بغیر کسی دعوت کے ممبئی جاپہنچے تھے۔ تو جو سلوک ہندوستانی میزبانوں نے ان کے ساتھ کیا، پوری پاکستانی قوم کا دل اس بے عزتی پر خون کے آنسو رورہاہے۔ چونکہ یہ سلوک چڑیا والے نجم سیٹھی اور ملک کی عزت ووقار کو بار بار خاک میں ملانے والے شہر یار خان سے نہیں بلکہ پاکستان کے نمائندوں سے ہوا۔ یہ سب کچھ اس قدر ذلت آمیز تھا کہ وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان نے بروقت اور بھرپور ردِعمل دیا۔ چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ بھارت کے ہاتھوں اور کتنے منہ کب تک کالے کرواتے رہو گے پاکستانی قوم کے دل کی آواز تھی۔ مگر کرکٹ کے نواب صاحب نے اُسی دن چوہدری نثار علی خان کا ذکر کتنی حقارت سے کیا ۔ اُسی دن وزیراعظم ہاﺅس سے کرکٹ حکام پر پابندی لگادی گئی۔ کہ بھارت سے کرکٹ تعلقات ومعاملات پر بات نہ کی جائے۔اور حکومت کی منظوری کے بغیر معاملات پر پیش رفت نہ کی جائے۔ چڑیوں والی سرکار تو بھارت کے متنازعہ دورے پر ممبئی میں شیو سینا کے ہاتھوں درگت اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہاتھوں اخلاقیات کی پامالی حتیٰ کہ ملنے سے انکار پر ممبئی سے ہی متحدہ عرب امارات سدھار گئی۔ اور اس کے بعد آج تک نجم سیٹھی صاحب نے کرکٹ معاملات پر چُپ سادھ رکھی ہے۔مگر نواب صاحب کی بولتی ہے کہ بند ہونے میں نہیں آرہی۔ وہ کبھی بھارت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں۔ پھر خود ہی اس الٹی میٹم میں 12 گھنٹے کا اضافہ کرتے ہیں۔ اور پھر تمام حدیں کراس کرتے ہوئے جناب وزیراعظم کے ساتھ بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات میں کرکٹ کے معاملات پر بات نہ ہونے کو افسوس ناک قرار دیتے ہیں۔اور پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ ہم 3,4 دن اور بھارتی جواب کا انتظار کرلیں گے۔ اور پھر خود ہی انگلش جائلز کلارک کے سامنے روتے ہیں۔ اور یوں ہر جگہ میرے پیارے وطن کی عزت ووقار کو بٹے پہ بٹہ لگائے چلے جاتے ہیں۔جناب وزیراعظم آپ سے لاکھ اختلافات کے باوجود کوئی پاکستانی بھی اس یقین محکم پر دورائے نہیں رکھتا کہ آپ کو وطن عزیز کی عزت ووقار اور مفادہر شے سے عزیز تر ہے۔ خدا کےلئے کرکٹ معاملات پر توجہ دیجئے۔ آپ کے پاس بہترین لوگ موجود ہیں۔ یقین کیجئے آپ اس Resolve اور Courage کے مالک ہیں جس نے 1998 ءمیں پاکستان کو دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بنا دیا تھا۔ ضربِ عضب اور وطن عزیز کو ہر طرح کے جرائم سے پاک کرنے کے لئے آپ کی کمٹمنٹ قابل ستائش ہے۔ کھیلوں کا شعبہ بھی آپ کی ایسی ہی کمٹمنٹ کا تقاضہ کرتا ہے۔کرکٹ ، ہاکی اور دیگر تقریباََ سبھی کھیلوں میں تنزلی اور بد انتظامی نے وطن عزیز کا خوبصورت روش چہرہ پیلا زرد کردیا ہے۔ اُس کو سُرخ وسفید اور روشن بنادیں۔ شہریار، نجم سیٹھی اینڈ کونے پاکستانی کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان تو پہنچا یا ہے ہی حکومت کی رٹ اور گورنس کے معاملات کو بھی دھند لا بنادیا ہے۔کرکٹ کی موجودہ حالت کے بارے میں فقط ایک لطیفہ پیش خدمت ہے۔ پنجاب کا ایک مشہور رنگیلا حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک آنکھ سے کانا تھا۔ ایک دن اس کو کیا شوق چرایا کہ بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لئے گلیوں اور بازاروں میں نکل کھڑا ہوا۔ صبح کا وقت تھا۔ ایک تندور پر رش دیکھ کر وہ لائن میں لگ گیا۔ چونکہ اُس کا مقصد نان خریدنے کا نہ تھا۔ اس لئے ایک دو مرتبہ اُس نے لائن سے آگے نکل کر تندور تک پہنچنے کی کوشش کی۔ تندورچی بدتمیز بھی تھا اور رش کی وجہ سے غصے میں بھرا بیٹھا تھا۔ اُس نے جب رنجیت سنگھ کو دیکھا کہ لائن توڑ رہا ہے تو لوہے کی کنڈی سے رنجیت سنگھ کو ٹھوکر دی اور کہا کہ پیچھے ہٹ او کانے لائن مت توڑ۔ مہاراجہ رنجت سنگھ نے بہت بے عزتی محسوس کی اور فوراََ واپس چلا گیا۔ محل میں جاتے ہی اُس نے پہلا حکم دیا کہ اس تندورچی کو مہاراجہ کے دربار وعدالت میں پیش کیا جائے۔ کچھ ہی دیر میں سرکاری اہلکار اس تندورچی کو پابجولاں پکڑ لائے۔ مہاراجہ نے اس تندورچی پر مختلف الزمات لگائے اور سزائے موت دے دی۔ تندورچی بہت رویا پیٹا ، معافی، ترلے کیے مگر بے سود۔ جب اہلکار اس کو دربار سے گھسیٹ کرلے جانے لگے تو وہ بڑبڑایا کہ مجھے پہلے ہی پتا تھا ۔ یہ بات سن کر مہاراجہ سنگھ نے اہلکاروںکو روکا اور تندورچی سے کہا کہ تمہیں پہلے سے کیا پتا تھا۔ تو اس نے رو رو کر عرض کی کہ جناب مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ میرا آج کا دن انتہائی درد ناک گزرے گا کیونکہ سویرے سویرے ایک کانا متھے لگا تھا اور مجھے یقین تھا کہ آج کا دن صیحح نہ گزرے گا۔وزیراعظم صاحب کرکٹ کی ناﺅ نجم سیٹھی اور شہریار کے حوالے کی گئی تو پوری قوم کو یقین تھا کہ یہ کرکٹ کی ناﺅ کو بیچ منجدھار ڈبوئیں گے اور انہوں نے سچ کر دکھایا۔ جناب وزیراعظم آپ کرکٹ اور ہاکی کو کسی ائیرمارشل نورخان کے حوالے کردیں۔ آپ کی ٹیم میں کئی ائیرمارشل نورخان موجود ہیں مثلاََ آپ کے سیکرٹری فواد حسن فواد روزانہ ایک گھنٹہ اگر کرکٹ معاملات کو دیکھ لیں تو کرکٹ کا سنہری دور واپس آسکتا ہے۔