- الإعلانات -

آرمی پبلک اسکول کے شہدائ

azmat-shir

پاکستان اپنے وجود میں آنے کے بعد سے سازشوں کا شکار رہا ہے اس میں ہمارا مشرقی پڑوسی پاکستان اور مسلمان دشمنی میں منفرد اعزاز رکھتا ہے اس کی نفسیاتی ساخت میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ہمارا شمالی پڑوسی کے بھی کسی تاریخی مغالطے کا شکار رہا ہے اور ان کی لیڈر شپ پاکستان کے حوالے بے سروپا تحفظات رکھتی ہے اور ہندوستان کی ہلا شیری سے بھی افغانستان کے ان بے سروپا تحفظات کو مہمیز ملتی رہی ہے اسی کا شاخسانہ 1947ءمیں پاکستان کے خلاف صرف ایک ووٹ تھا اور وہ افغانستان کا ووٹ تھا پاکستان کی تمام تر مثبت کوششوں کے باوجود بھی یہ نام نہاد اور غیرمنطقی تحفظات بر قرار رکھے گئے اور پاکستان کی پالیسی آپ کی جانب مثبت رہی آپ پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کا مطالعہ فرما لیجئے جس میں افغانستان کو پاکستان جانب سے جو مراعات دی گئی اس کا دنیا میں کہیں اور تصور بھی محال ہے کاش کوئی افغان لیڈر ہندوستان اورنیپال کے درمیاں ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کا مطالعہ فرما لیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ پاکستان نے آپ کو کس قدر مراعات دے رکھی ہیں جس سے پاکستان کا بے حد اقتصادی نقصان ہوتا ہے ٹی وی پر ایک افغان اہلکار یہ فرماتے پائے گئے کہ ان کے پاس ایران کا ٹرانزٹ آپشن موجود ہے تو ان کی خدمت میں گزارش ہے جس طرح اخوت کے رشتے سے پاکستان نے آنکھیں موند رکھی ہیں اور پاکستان میں افغان تاجروں نے اودھم مچا رکھا ہےیہ سہولت صرف پاکستان نے ہی آپ کو دے رکھی ہے ذرا یہ دوسرا آپشن استعمال کر کے دیکھ لیں تو سمجھ آ جائے گی اس کے علاوہ پاکستانی عوام نے بے حد و حساب قربانیاں دیں جس سے پاکستان کا امن تہ و بالا ہو گیا روس کے افغانستان میں در آنے کے بعد پاکستان نے 35 لاکھ افغان بھائیوں کے لئے در و دل وا کردئے اس حد تک کہ پاکستان کا اپنا قومی وجود داﺅ پر لگ گیا پاکستانیوں کے کاروبار سمٹ گئے اور افغانیوں کے کاروبار پھیل گئے پاکستان میں دھماکوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا سینکڑوں معصوم پاکستانی دہشت گردی اور بم دھماکوں کا شکار ہوئے اس میں افغانستان کی اس وقت کی حکومت مکمل طور پر ملوث رہی اور اس سے پاکستان کا معاشرہ شدید متاثر ہوا مقامی ٹرانسپورٹ تباہ ہو کے رہ گئی پاکستان میں اس سے پہلے 12 بور کی شاٹ گن بہت بڑا ہتھیار سمجھا جا تا تھا ہیروئن کا نام تک کسی کو معلوم نہیں تھا پھر کیا ہوا ان تمام چیزوں کا ایک سیلاب آگیا کلاشنکوف اور ہیروئن کا کلچر عام ہو گیا ہتھیاروں کی عام دستیابی سے اندرون پاکستان میں امن و امان شدید متاثر ہوا عام افغان بھی اس ابتلاءکے دور میں شدید متاثر ہوا اس دوراں ہندوستان روس اور افغان حکومت کے ہم رکاب رہا اور تمام سازشوں میں برابر کاشریک ایک طرف پاکستان کی بے شمار قربانیوں کے باوجود افغان مقتدر آج بھی اسی پالیسی پر کار بند ہیں ریاست پاکستان نے پاکستان میں برپا دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ضرب عضب کی ابتدائ کی تو دہشت گرد افغانستان فرار ہو کر افغان حکومت کے سایہ عاطفت میں چلے گئے اور افغان حکومت نے ان کو نہ صرف پناہ اور امداد فراہم کی بلکہ پاکستان میں تخریب کاری کے لئے ہندوستانی را اور افغان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان کو استعمال کرنا شروع کیا اور پاکستان اور اللہ کے ان باغی خوارج جن کو نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کلا ب النار یعنی جہنم کے کتے قرار دیا ہے نے آرمی پبلک اسکول میں معصوم فرشتہ صفت بچوں اور ان کے اساتذہ کو بہیمانہ انداز سے شہید کردیا جو پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے اس ظلم کی جدید تاریخ میں مثال نہیں ملتی اس دوران یہ مجرم افغانستان میں موجود ہندوستانی سرکاری اہلکاروں سے رابطے میں تھے ا ن شہیدوں نے اپنی قربانیاں پیش کرکے اس قوم پر احسان کیا اور پاکستانیوں کے جذبوں کو جلا بخشی یہ شہید ہمارے پھول ہیں ہمارے چاند ستارے ہیں اور اللہ کے مقرب جنات النعیم کے مکیں ہیں اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ہم ہندوستانی اور افغان قیادت پر واضح کرنا چاہتے ہیں جو کھیل خطے میں آپ نے شروع کر رکھا ہے اور آپ نے داعش کے لیڈروں سے ملاقاتیں اور ان کو خطے میں لانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اس کے نہایت دور رس اور بھیانک نتائج نکلنے کے بہت امکانات ہیں یہ آگ جس کو پاکستان نے اپنے لہو کی دیوار سے روک رکھا ہے کل کلاں یہ آگے نکل گئی تو آپ بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا کسی کو معلوم نہیں شاید غزوہ ہند تک بات چلی جائے آئیے ملکر دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں امن اور انسان کی فلاح ہی اسلام کا پیغام ہے رب کریم کے حضور دست بہ دعا ہیں اللہ ان عظیم شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے قوم آپ کو نہ بھولی ہے نہ ہی بھولے گی آپ سدا ہمارے دلوں میں رہیں گےاور دعا گو ہیں کہ اللہ رب جلیل لواحقین کو اس نقصان عظیم پر صبر کی توفیق عطا فرمائے آمیں ثم امین ۔