- الإعلانات -

سولہ دسمبر۔۔ننھے شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی

uzair-column

آج سولہ دسمبر کا دن نامعلوم کتنے تاریخی خدوخال اپنے اندر پوشیدہ رکھے ہوئے ہے مگر جس سانحے کو ایک سال مکمل ہونے جارہا ہے ۔اس کے لہو کی خوشبو ابھی تک سانسوں میں تحلیل ہے ۔ماﺅں کے آنسو آنکھوں میں تھمتے نہیں ہیں وہ کیسے لمحات تھے جب انہوں نے صبح سویرے اپنے پیارے لخت جگروں ،دل کے ٹکڑوں ،آنکھوں کے تاروں،دل کے سہاروں اورمستقبل کے معماروں کو کس کس طرح لاڈ پیار کرکے اٹھایا تھا ۔کسی ماں نے اپنے دل کے ٹکڑے کو ماتھے سے چوما ،کسی نے اپنے بڑھاپے کے سہارے کو اٹھانے کیلئے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر پھیر کر لاڈ پیار سے اٹھایا ،کتنے ناز ونخرے تھے کہ اٹھانے کیلئے ماں نے بوسے دے دے کر بچوں کو راضی کیا۔یونیفارم تیار تھی ،ہنیگر پر استری ہوئی کپڑے لٹک رہے تھے ،بیٹا جلدی جلدی کرو ،سکول کودیر ہورہی ہے ،دانتوں پر برش کرو،منہ ہاتھ دھولو،اچھی طرح کنگا کرو،منہ پرکریم لگاﺅ،دیکھو تمہاری ماما نے کتنے اچھے طریقے سے تمہاری یونیفارم تیار کرکے رکھی ہوئی ہے ،جوتے بیٹا آپ کے پالش ہیں ،یہ لو ٹائی لگاﺅ ،بیگ تمہارا تیار ہے ،کتابیں اپنی چیک کرلو،جلدی سے کرو،وقت تھوڑا ہے ،اسی تیاری میں ماں اپنے نورنظر کو ہاتھوں سے ناشتہ بھی کراتی رہی ،سکول جانے سے پہلے نصیحتیں بھی کرتی رہی ،لاڈ پیاربھی کیا ،پاپا بھی اٹھ گئے ،انہوں نے بھی کہا کہ شاباش میرے نونہالو جلدی جلدی سے تیار ہونا ،محنت سے پڑھنا،ملک کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں ہے ،تم نے ہی بڑے ہوکر اس کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ،تم اس قوم کے ہونہار سپوت ہو ۔سب کی نظریں تم پر ہیں ،محنت سے تعلیم حاصل کرنا ،بڑے آدمی بننا ،مگرشاید انہیں اس چیز کا علم ہی نہیں تھا کہ ماں جو آج اپنے بیٹے کو ناشتہ کرا رہی ہے شاید پھر یہ لمحات اسے نصیب نہ ہوں ،کئی ماﺅں نے تو جلدی جلدی کرکے اپنے سپنوں کے راجوں کو سکول روانہ کردیا ،دل بھر کے کلیجے سے بھی نہیں لگایا ،اس طرح چوما بھی نہیں کیونکہ سکول جانے کا وقت نزدیک آرہا تھا ،بچے خوشی خوشی ننھے منے ہاتھوں سے ٹاٹا کرتے لہراتے جھومتے سکول کو روانہ ہوئے ،مائیں دروازوں میں کھڑی انہیں الوداع کررہی تھیں اس آس کے ساتھ کہ بیٹا چھٹی کرکے واپس آئیگا ،پھر کئی ماﺅں نے اچھے اچھے کھانے پکائے کہ آج اس کا لخت جگر بغیر ناشتے کے چلا گیا ہے جب آئیگا تو اسے بھوک لگی ہوگی اس لیے لنچ کے وقت ہر چیز گرما گرم رکھی تاکہ بیٹے کو آتے ہوئے انتظار نہ کرناپڑے ،مگر یہاں تو شاید قسمت میں سدا کا انتظار لکھا جاچکا تھا ،ابھی معصوم ننھے منے فرشتے ،دنیا ومافیہا کے مسائل سے بے غم اپنے مستقبل کے متلاشی سکول میں داخل ہوئے تھے کہ بس اچانک قیامت ٹوٹنا شروع ہوگئی ،دہشتگرد نامعلوم کس طرح سکول میں داخل ہوگئے اور انہوں نے ان ننھے فرشتوں کو شہید کرنا شروع کردیا ۔شاباش ہے ان بہادر جری ماﺅں کے معصوم بچوں پر جنہوں نے اس ملک کی خاطر اپنی جان قربان کردی ۔ان کے صاف ستھرے یونیفارم خون میں لت پت ہوچکے تھے ،ماں جو دروازے پر انتظار کررہی تھی ان کا بیٹا آج انہیں ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ چکا تھا ۔مگر اس الوداع کہنے میں وہ شہادت کے اس اعلیٰ منصب پر فائز ہوا جس کی ہر مسلمان آرزو کرتا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ اسے شہادت کے عظیم درجے پر بلند فرما ۔کتنے معصوم بچوں کو شہید کرکے دہشتگردوں نے سکول میں خون کی ندی بہا دی پھر آخر کار دہشتگرد اپنے انجام کار کو پہنچے مگر وہ منظر دل ہلا دینے والا تھا جب والدین اپنے پیارے پیارے معصوم فرشتوں کو تلاش کرنے کیلئے دیوانہ وار آگے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔ان کا کلیجہ پھٹ کر منہ کو آرہا تھا ۔ہر ایک کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس کو اپنے لخت جگر کے بارے میں پتہ چل جائے ۔سولہ دسمبر 2014ءکو جن بچوں نے جام شہادت نوش کیا ان کی اس قربانی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ۔پھر ان کی قربانیاں رنگ لانا شروع ہوئیں ۔ملک میں پاک فوج نے دہشتگردوں پر زمین تنگ کردی ۔ملک امن کا گہوارہ بننا شروع ہوگیا ،آج وہ مائیں جنہیں شاید یہ لازمی دکھ ہوگا کہ ان کا بیٹا جس نے ابھی زندگی کی بہاریں بھی نہیں دیکھی تھیں ماں کی تو خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھتی وہ اس کے بڑھاپے کا سہارا بنتا ۔مگر شہید ہونیوالے ننھے منے شہداءتو اس پوری قوم کا سہارا بھی بنے ،سہرا بھی بنے وہ پوری قوم کے ایسے زندہ و جاویداں دولہا راجے ہیں جنہیں مورخ تاقیامت تک سنہروے حروف میں یاد رکھے گا ۔اے پی ایس کے طلباءکی قربانی نے پورے ملک میںایک واضح طور پر پیغام دیدیا کہ دہشتگردوں کیلئے اس سرزمین پر کوئی جگہ نہیں ،ان کا معصوم لہو ضرور رنگ لائیگا ۔آج امن وامان قائم ہورہا ہے وہ ان ماﺅں کے بچوں کی قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے ۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کورکمانڈرز کانفرنس میں واضح طور پر کہا ہے کہ ننھے شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ جس طرح ننھے شہداءکا خون رنگ لارہا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔آج قوم کا بچہ بچہ دہشتگردی اور دہشتگردوں کیخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہے ۔