- الإعلانات -

پاکستان کے غریبوں پر مزید 40 ارب روپے کا ناجائز ٹیکس

ejaz-ahmed

حال ہی میں وزیر خزانہ اسحق ڈار نے 313 در آمدی اشیاء پر عائد ڈیوٹی میں 10 اضافے کااعلان کیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ محصولات کی وصولی میں 40ارب کمی کی وجہ سے درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں موجودہ حکومت نے ودہو لڈنگ ٹیکس 0.3فی صد بر قرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نو ٹیفیکیشن کے مطابق دہی،مکھن، پنیر،ڈیری کے اشیاء اور شہدپر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ اننا س، امرود، آم،ما لٹے، پو ٹری،کوکونٹ،بادام، اور کوکوبٹر، پر 10 فی صد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔ نو ٹی فیکیشن کے مطابق واٹر ڈسپنسرمائیکرو ویوز اوون،ائر کنڈیشنز،ریفریجیریٹر کی در آمد پر بھی 10 فی صد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے کو کنگ رینج،سلینگ، پیڈسٹل اور ایگزاسٹ فین کی در آمد سنگ مرمر دوسرے پتھروں اور ان سے بنی اشیاکی در آمد پر بھی 10 فی صد ڈیوٹی ٹیکس لگا دی ہے،جبکہ شیمپو، ٹوتھ پیسٹ،شیونگ آئٹمز، پر فیومز کی در آمد، اور میک اپ کے سامان پر بھی 10 فی صد ڈیوٹی لگا دی ہے ۔وزیر خزانہ کے مطابق 259 در آمدی اشیاء پر 5 فی صد جبکہ 61 پر 10 فی صد ریگو لیٹری ڈیوٹی ؂لگا دی گئی ہے۔گا ڑیوں کی امپو رٹ پر بھی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ سگریٹ کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ تاہم وزیر خزانہ نے کہا کہ عام آدمی کے استعمال کے اشیاء پر کوئی ٹیکس نہیں لگائی گئی۔اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مندرجہ چیزوں میں وہ کونسی آٹیم ہیں جو عام اور متوسط طبقے کے لوگ استعمال نہیں کرتے۔ کیا اس قسم کی بے تُکی باتیں کرنا ملک کے غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی نہیں۔اس میں دہی سے لیکر پیڈسٹل، سیلنگ فین شیونگ کریم ، مر غی ، امرود تک وہ کونسی چیز ہے جو غریب استعمال نہیں کرتے۔انتہائی بے حسی اور غیر ذمہ وارانہ روئے کی بات تو یہ ہے کہ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ٹی وی انٹر ویو میں کہا کہ اس سے جو 40 ارب روپے حا صل ہونگے وہ ضرب عضب اور قبائیلی لوگوں کی با عزت واپسی پر خرچ کئے جائیں گے۔اگر حکومت نے عالمی مالیاتی ایجنسی کے دباؤ پر پاکستان کے غریبوں اور پسے ہوئے طبقات پر ٹیکس لگانا تھا تو اسحق ڈار اُلٹے سیدھی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ سیدھا سادھا ٹیکس کیوں نہیں لگاتے ۔اُلٹے سیدھے باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اصل بات یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ایجنسی نے اُس وقت تک پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں 550ملین ڈالر کی وہ قسط نہیں دینی تھی جب تک وہ عوام پر 40 ارب روپے کا ٹیکس نہ لگائیں ۔ اور یہ کام ایف بی آر کاتھا مگرایف بی آر یہ کام نہ صحیح طریقے سے نہ کر سکی نتیجتاً اسحق ڈار نے بھانے بنا بنا کر مہنگائی، بے روزگاری اور غُربت میں پسے ہوئے طبقات پر مزید 40 ارب روپے کا ٹیکس لگا دیا۔پاکستان کے غریبوں کے مسائل ناواقف وزیر خزانہ صا حب دہی اور دودھ سامان تعیش نہیں بلکہ پاکستان کے غریب ان دونوں میں پانی ملا ملاکر اس سے لسی بناکر اسکے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سالن پکا نا افو رڈ نہیں کر سکتے۔لہذا پورا خاندان آدھا کلو دودھ یا دہی منگوا کر اس سے لسی بنا کر اسکے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔ جہاں تک ٹیکس کی بات ہے تو پاکستانی حاکم جب تک اپنے شاہ خرچیوں کو کم نہیں کریں گے تو حکمران پاکستانی عوام کے سروں پر مزید قرضے لیتے رہیں گے اور مہنگائی ، بے روز گاری اور غُربت میں پسی ہوئی قوم نسل در نسل مقروض ہوتے رہینگے۔ایک طر ف غُربت کی چکی میں پسے ہوئے غریبوں پر ٹیکس لگا یا جا رہا ہے اور دوسری طرف نواز شریف کے رائے ونڈ کی چا ر دیواری پر 35کروڑ اور انکے سیکو رٹی پرمامور اہل کا روں کے لئے اربوں کا بجٹ رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری طر ف لاہور اور پنڈی کے میٹرو جیسے فضول منصوبیوں پر 200 ارب روپے خرچ کئے گئے۔اس وقت پاکستان کے سیاست دانوں اور اشرافیہ کے بین الاقوامی بینکوں میں تقریباً 3500 ارب ڈالر پڑے ہوئے جبکہ پاکستان کا کل قرضہ اسکے بر عکس تقریباًً 100 ارب ڈا لر ہے۔