- الإعلانات -

ایک عہد کی سرگزشت، جمیل اطہر قاضی کی ایک عمدہ تصنیف

riaz-ahmed

جمیل اطہر قاضی کے بارے میں کچھ کہنا کچھ لکھنا آسان نہیں یہ تقریباً نصف صدی کا قصہ ہے۔ دو چار برس کی بات نہیں۔قاضی صاحب مرنجان مرنج شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہمیشہ بڑی محبت و خلوص سے ملتے ہیں کبھی اپنی بات منوانے کے لیے نہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں نہ کوئی حربہ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ ان کا کمال ہے کہ اس کے باوجود وہ اپنی بات منوا ہی لیتے ہیں۔دیانت، شرافت اور صحافت انہیں وراثت میں ملی ہے ان کے والد محترم اور ان کے چچا بھی صحافت سے وابستہ تھے۔ اس طرح اگر یہ کہوں کہ وہ ایک خاندانی صحافی ہیں تو غلط نہ ہوگا یا یہ کہ صحافت انہیں گھٹی میں پلائی گئی ہے۔
جمیل صاحب کا شمار اب ملک کے چند انتہائی سنجیدہ، منجھے ہوئے اور پیشہ ورانہ اپروچ کے حامل صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحقیقی کاوشؔ ؔ ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ پاکستانی صحافت کا ایک بہت اہم باب ہے جو 616 صفحات پرمشتمل ہے۔ یہ شعبہ صحافت میں جمیل اطہر جیسے سکہ بند صحافی کے ذاتی مشاہدات و مطالعات کا حاصل ہے۔ جمیل صاحب نے بڑا انصاف یہ کیا کہ پاکستانی صحافت کے وہ خاموش کردار جو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے حوالے سے یوں انتہائی قابل قدر ہیں کہ انہوں نے صحافتی اقدار اور پیشے کا معیار قائم کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دیں، ان کی طویل کاوشوں کو بھی ریکارڈ کردیا ہے۔
جمیل اطہر قاضی تو خود ایک عہد ہیں انہوں نے اپنی کتاب کا نام بھی سوچ بچار کے بعد ہی رکھا ہے۔ انہوں نے صحافت کی ابتدا بطور اخبار فروش یعنی اخباری ہاکر کے طور پر کی۔ انہوں نے بتدریج اس مقام تک پہنچنے میں، جس پر آج وہ فائز ہیں بڑی محنت و جاں فشانی سے کام لیا ہے یقیناً ان کی یہ سرگزشت ان کی صحافت سے عہد کی سرگزشت بھی ہے۔ جمیل اطہر صاحب نے لمحہ لمحہ قدم قدم صحافت کے میدان میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔
مشتاق احمد قریشی کہتے ہیں کہ جمیل اطہر قاضی صاحب عہد کے بڑے پابند ہیں ۔وہ جو عہد کرتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے وہ ضرور پورا کریں اور کرتے بھی ہیں۔میرے سامنے ایک بہت ہی خوب صورت بلکہ حسین و جمیل کتاب کھلی ہوئی ہے۔ اسے جناب جمیل اطہر صاحب نے بڑے ہی خوب صورت انداز میں شائع کیا ہے ۔یہ کتاب یوں تو بقول جمیل صاحب، ان کی وہ یادداشتیں اور مضامین ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً مختلف شخصیات کے بارے میں تحریر کیے تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مضامین صحافت سے وابستہ افراد کے لیے اور نوواردان صحافت کے لیے (وہ نوجوان جو یونیورسٹیوں سے صحافت کی ڈگری لے کر نکل رہے ہیں) ان کی راہ متعین کرنے کے لیے صحافت کے نشیب و فراز سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک بہترین اور آسان نسخہ ہے۔پروفیسر رفعت مظہر لکھتے ہیں کہ جمیل اطہرقاضی کی’’ایک عہد کی سرگزشت’’پڑھ کریوں لگا کہ یہ اْس شخص کی داستانِ حیات ہے جس نے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں120 روپے تنخواہ پرکوچہ صحافت میں قدم رکھااورپھر اپنی محنت ،ریاضت اورماں کی دعاؤں سے آسمانِ صحافت کی رفعتوں کو چھولیا۔ وہ آج چار اخبارات کامالک ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی آپ بیتی ہے جو نہ صرف قومی سیاسی تاریخ کاشاہد ہے بلکہ اسے معروف ترین قومی شخصیات کے قرب نے ایساصیقل کیاکہ اْس نے باتوں ہی باتوں میں پاکستان کی مستندتاریخ رقم کرڈالی۔ڈاکٹر مجاہد منصوری نے بالکل درست لکھا۔ ’’ایک عہد کی سرگزشت’’ تاریخِ صحافت پر تحقیقی کام کرنے والے پی ایچ ڈی، ایم فِل سکالرز اور ایم اے کے طلباء کے لیے بہت مفید ریفرنس بْک کے طور پر صحافتی تاریخ کے لٹریچر میں انتہائی مفید اضافہ ہے’’۔جمیل اطہر صاحب کی یہ کتاب 108 بچھڑے ہوؤں کی عملی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں علمائے کرام ،اخبارات کے مدیران ،کارکن صحافی ،اساتذہ کرام ،سیاستدان ،روحانی شخصیات ، احباب ،اخبار فروش رہنماء، بیوروکریٹس اور شعراء کرام شامل ہیں۔
ان کی کتاب ظاہری حسن ہی نہیں بلکہ باطنی حسن بھی رکھتی ہے جمیل اطہر قاضی صاحب ایک منجھے ہوئے صحافی اور اہل قلم ہیں۔ انہیں لفظوں کی نشست و برخاست کا خوب سلیقہ ہے (جو انہیں ان کے والد سے ورثے میں ملا ہے)۔ ان کی تحریر کے حسن کو ان کے خوب صورت جملوں نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کی تمام تر تحریریں ان کی صحافیانہ زندگی سے متعلق ہیں لیکن ان کے انداز بیان کا کمال ہے کہ جب ان کا قاری ان کی کسی تحریر کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ اس کے دلچسپ اور موثر انداز کے باعث تحریر کو پوری طرح پڑھنے میں از خود محو ہوجاتا ہے اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ کب مضمون شروع ہو کر ختم ہوا۔ چھوٹے چھوٹے فقروں خوب صورت جملوں نے کتاب کے باطنی حسن کو زندہ کردیا ہے۔
اس طرح ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ تاریخ صحافت پر تحقیقی کام کرنے والے پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالرز اور ایم اے کے طلبہ کیلئے بہت مفید ریفرنس بک کے طور پر صحافتی تاریخ کے لٹریچر میں انتہائی مفید اضافہ ہے۔ پیشہ صحافت میں میری عمر کے صحافیوں میں کون نہیں جانتا کہ جناب جمیل اطہر اقبال وقائد کے تصور پاکستان پر گہرا یقین رکھنے والے کہنہ مشق وہ صحافی ہیں جو کارکن سے کامیاب مالک بنے۔ لیکن وہ تاریخ مرتب کرتے وقت نہ کہنہ مشق کارکن صحافیوں کو بھولے۔ پھر انہوں نے اس پر نظریاتی چپقلش اور اختلاف کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیا۔ اساتذہ و طلبہ صحافت اور کارکن صحافی جمیل اطہر صاحب کی اس تحقیقی کاوش سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کتاب ایک عہد کی سرگزشت کی کیا اہمیت وقعت ہے۔ یقیناً وہ وقت دور نہیں کہ اس کتاب کو صحافت کے نصاب میں شامل کر دیا جائے میں جمیل بھائی کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔