- الإعلانات -

کسان بھی لگ گئے لائن میں

yasir-khan

چاچا فضل دین بہت تھوڑے زرعی رقبے کا مالک ہے دوسرے کسانوں کی طرح اس کی کپاس کی فصل بھی اس دفعہ سیلاب کے پانیوں اور بیماریوں کی وجہ سے متاثرہ تھی،وہ ان دنوں بڑا ہی پریشان رہتا ہے کیونکہ اس کی اوسط فی قلعہ بہت ہی کم تھی بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی۔اس کا اپنا خرچ کردہ روپیہ بھی و اپس آنے کی امید اب کم ہی تھی،بیج،کیڑے مارادویات اور ٹیوب ویل کا مہنگا پا نے لگا نے کے تمام مراحل اس نے بڑی ہی مشکل سے ادھار کی رقم سے پورے کئے تھے،اسے یہ اخراجات پورے کر نے کی خاطر مزید ادھار کی رقم لینا پڑے گی وہ یہ سوچ کر پریشان ہوجاتا،پھر اسے کسی نے بتایا کہ حکومت نے ایک زرعی پیکج کا اعلان کر رکھا ہے جن کسانوں کی فصل سیلاب یا بیماری کی وجہ سے خراب ہوئی ہے انھیں چا ر ہزار سے پانچ ہزار روپیہ فی قلعہ کے حساب سے مالی امداد مل رہی ہے ،چا چا فضل دین نے بھی معلومات حاصل کر کے پٹواریوں کے پاس اپنا نام بھی متاثرہ کسانوں کی لسٹ میں ڈال دیا۔دو ماہ ہو نے کو آئے،چا چا فضل دین اپنے گاؤں سے ہر ہفتہ اپنی رقم کے حصول کی خاطر پٹوار خا نے جاتا ہے مگرپٹواری صاحبان اسے یہ کہ کر واپس بھیج دیتے ہیں کہ تمہارا نمبر ابھی نہیں آیا،حالانکہ اس کے ساتھ کے کئی بڑے کسان ایک بھاری رقم کب کے وصول کر چکے ہیں،اس آخری چکر پر تو اسے ایک نئی بات ہی بتائی گئی کہ تمہارا چیک بن گیا ہے بڑے شہر کے کسی بڑے افسر نے آنا ہے جو سب کسانوں کو چیک تقسیم کرے گا ،بڑی تقریب ہوگی،اخبار ٹی وی والے آئیں گے اور سب کو چیک مل جائیں گے۔چا چا فضل دین اب تو امیدی اور نا امیدی کی سولی پر لٹک رہا تھا کیونکہ اس کے بقول اب تو وہ پٹوار خا نے کے چکر لگا لگا کر تھک چکا ہے اور اب تو اس کی گندم کی بوائی کا وقت بھی ہاتھ سے نکلا جارہا ہے،وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے لائن میں لگ لگ کر اکتا چکا ہے اور اس عمر میں اب مزید لائن میں لگنا اس کے بس کی بات نہیں رہی۔حکومت کی طرف سے کسانوں کو لائن میں لگا کر اس طرح بھیک دینے سے تو بہتر تھا کہ کوئی بہتر زرعی پالیسی سامنے لائی جاتی،زرعی اصلاحات کے نام پر ہر سال کروڑوں روپیہ حکومتی اللوں تللوں پر تو ضائع کر دئے جاتے ہیں مگر کسان تک ان نام نہاد زرعی اصلاحات کے کچھ بھی ثمرات نہیں پہنچ پاتے،نتیجا چا چا فضل دین جیسے غریب کسانوں کی حالت زار جوں کی توں رہتی ہے۔چاہئے تو یہہ تھا حکومت بہتر زرعی اصلاحات لاتی،چھوٹے کسانوں کو بجلی کی مد میں سبسڈی دی جاتی،اگرچہ پانی دستیابی شائد نہری علاقوں کا اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو مگر مہاڑ اور اس جیسے ہارڈ ایریاز کے کسان جہاں ٹیوب ویل کے مہنگے پانی سے فصلوں کو سیراب کیا جاتا ہے وہاں سب سے بڑا فصلات پر اٹھنے والا خرچ پانی کا ہی ہے۔اگر بجلی کے فلیٹ ریٹس پر کسانوں کو پانی دستیاب ہو تو ان کیلئے بہت بڑی سہولت ہوگی،چا چا فضل دین کا تعلق بھی اسی ہارڈ ایریا سے ہے،جہاں بجلی کے ریٹس اتنے زیادہ ہیں کہ خدا کی پناہ،ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود کہ بلوچستان کے ہارڈ ایریاز کو دی گئی فلیٹ ریٹس کی سہولت پنجاب کے مہاڑ اور ہارڈ ایریاز کو بھی دی جائے،اس کے باوجود حکومت آئے روز نت نائے ہتھکنڈوں سے اس میں روڑے اٹکا رہی ہے۔سستی بجلی کے ساتھ ساتھ کسانوں کو کھاد اور بیچ کی سستے داموں فراہمی شائد ایک بہت بڑا ریلیف ہوتی،مگر کھاد اور بیج ،بوائی کے دنوں میں اس قدر مہنگے کر دئے جا تے ہیں یا مافیاز کی طرف سے ان کی اس قدر خود ساختہ قلت پیدا کر دی جاتی ہے کہ کسان بیچارہ مجبورا انتہائی مہنگے داموں کھاد اور بیچ ان مافیاز سے حاصل کر نے پر مجبور ہوتا ہے۔چونکہ پراؤیٹ سیکٹر کے ان مافیاز اورسٹاکسٹ کیلئے کسی قسم کی کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے اس لئے ان دنوں میں یہ اپنی مرضی کرتے ہیں اور مجبور کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔چلو اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ حکومت ایسے حالات میں کسانوں کو نہ تو بجلی کی مد میں کوئی ریلیف دے سکنے کی پوزیشن میں ہے اور نہ کھاد،بیج یا کیڑے مار ادویات کو سستا کر سکتی ہے تو پھر کم از کم ،موجودہ حکمران یہ تو کر سکتے ہیں کہ گندم ،کپاس،چاول جیسی فصلات کے فی من ریٹس تو اتنے مقرر کئے جاسکتے ہیں کہ کسان کی ان فصلات کی بوائی سے لیکر اسے اٹھا نے تک کے اخراجات تو کم از کم اسے واپس مل سکیں تا کہ اسے کچھ نہ کچھ ریلیف تو مل سکے۔اوپر سے کسان پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے تو دوسری طرف اس کی محنت کا پھل اسے مٹی کے مول دیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ حکومت اپنے تمام تر پیکجز اور بڑے اعلانات،اشتہارات اور دعووں کے باوجود اس قابل نہیں ہو پارہی کے زرعی پیداوار کے بہتر احداف کا حصول ممکن بنا یا جاسکے ،یا کم از کم تیزی سے کم ہوتے زرعی رقبے اور مزید علاقوں کو زرعی بنا نے میں مکمل طور پر نا کام نظر آرہی ہے۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم بس نصاب کی کتابوں میں ہی پڑھتے آئے ہیں کہ زراعت ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔مگر کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ چا چا فضل دین جیسے غریب چھوٹے کسان جو دن رات ایک کر کے اپنے خون پسینے کی محنت سے ہمارے لئے اجناس اگاتے ہیں ،ہم نے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان کیلئے ایسی سخت زراعت کش پالیسیاں ترتیب دے رکھی ہیں کہ یہ غریب کسان فاقوں پر مجبور ہیں،انھیں نہ تو بجلی کی مد میں کوئی ریلیف مل رہا ہے،نہ کھاد ،بیج اور کیڑے مار ادویات کی مد میں،کیا حکومت کے پاس کسانوں کو بھیک کی خاطر لائن میں لگا نے کے علاوہ اور کوئی پالیسی نہیں ہے۔