- الإعلانات -

سانحہ اے پی ایس اور سندھ حکومت کی قرارداد

zia

پاکستان کے ہر دلعزیز صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ حکومت گزشتہ سات سال سے قائم ہے گزشتہ وفاقی حکومت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی تھی لیکن اتنے بڑے مینڈیٹ کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی میں امن قائم کرنے میں یکسر ناکام رہی جسکے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت وفاق میں قائم ہوگئی۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی بڑھتی وارداتوں کے باعث عوامی دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر کراچی میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا اور کراچی آپریشن کا کپتان وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو وزیراعظم نواز شریف نے مقرر کیا ۔ سالہا سال کی ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور کرپشن کے ناسور پر رینجرز نے دن رات محنت کرکے قابو پایا اور کراچی کے عوام نے سکھ کا سانس لیا ، یہی حقائق ہیں کوئی مانے یا نہ مانے لیکن کراچی میں امن قائم ہوا اوردیرپا امن کے لئے جاری اقدامات کا تسلسل ناگزیر ہے ورنہ سارے کا سارا کیادھرا ضائع ہو جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام اقدامات کا ثمر ازسرنو حاصل کیاجاسکتا ہے لیکن اگر عوام کا بھروسہ ختم ہو جائے تو اسکو واپس لانا مشکل ہوتا ہے ۔ اگر عوام کا موجودہ نظام سے اعتماد اٹھ گیا تو مشکل ہو جائے گی۔ اس لئے ایسی صورتحال کو پیدا نہیں کرنا چاہیے لیکن کراچی آپریشن کے کپتان جو کہ ایک منتخب حکومت کے وزیراعلیٰ ہیں نے ایسی ہی صورتحال اس وقت پیدا کی جب کراچی میں عوام کو سکھ کا سانس دینے والے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو لٹکایا گیا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سندھ حکومت نے سندھ اسمبلی سے ایک قرارداد پاس کرائی جس کے تحت کراچی میں رینجرز صرف ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان اور فرقہ وارانہ کلنگ سے متعلق اختیارات حاصل ہونگے۔ دہشت گردوں کی مالی اعانت یا سہولت فراہم کرنے کے شک کی بنیاد پر کسی شخص حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جائے گا نظر بندی کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سے تحریری اجازت لینا ہوگی۔ تمام شواہد موجود ہونے کے باوجودوزیراعلیٰ سندھ کا اختیارہوگا کہ وہ نظر بندی کی تجویز کو منظور یا مسترد کردیں ۔ چیف سیکرٹری سندھ کی اجازت کے بغیر رینجرز سرکاری ادارے پرچھاپہ نہیں مارسکتی۔ پہلی شق کے مطابق رینجرز سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی معاونت بھی نہیں کرسکتی۔ اگر سندھ حکومت کی اس قرارداد کی صاف الفاظ میں تشریح کی جائے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ جمہوری نمائندے اس پاک وطن کے ساتھ جو مرضی کھلواڑ کریں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جمہوری حکومت کو غیرجانبدار احتسابی اداروں کی ضرورت نہیں۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور،کرپٹ افراد اگر جمہوری نمائندوں کے دست و بازو بن جائیں تو وہ مکمل محفوظ ہو جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ کی مرضی کے ساتھ انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی پولیس کو جانبدار بنا دیتی ہے اس لئے جمہوری چھتری تلے جرائم پیشہ افراد کو پولیس سے پہلے ہی تحفظ حاصل ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے عام آدمی جو کہ غریب ہو وہ ممبر اسمبلی نہیں بن سکتا اور حق حلال کی کمائی کرنے والے کبھی بھی اپنی دولت داؤ پر نہیں لگاتے ماسوائے ان لوگوں کے جو کہ خاندانی طورپر اچھی پوزیشن میں ہیں اور عوام سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں کمی کی قرارداد منظور کرکے کراچی کے عوام کو حکمرانوں پر عدم اطمینان اورموجودہ نظام پر سے اعتماد اٹھنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جب بطور وفاقی وزیر داخلہ چارج سنبھالا تو کچھ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب ملک میں بہتری آئے گی اور ملک سے لاقانونیت کا راج ختم ہوگا ۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات اور پولیس کی سرزنش نے اس امید کو تقویت دی لیکن سندھ حکومت کے اقدام نے ثابت کردیا کہ وفاقی وزیر داخلہ صرف اور صرف اسلام آباد کے وزیر داخلہ ہیں ان کا سندھ میں کوئی اختیار نہیں ہم اس پہلوکو آئینی بیان کریںیا سادہ الفاظ میں لکھیں لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد آئین و قانون کے مطابق امن و امان کے حوالے سے وفاق کے اختیارات انتہائی محدود ہوگئے ہیں اور جو اختیارات وفاق کے پاس موجود ہیں ۔وہ سیاسی مصلحت کے پیش نظر استعمال نہیں کیے جارہے تو کیا وفاق بھی سندھ حکومت کی قرارداد سے خوش ہے اگر ایسا ہے تو پھر یقیناً یہ ملک آئینی و سیاسی بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر حکومت سندھ سانحہ اے پی ایس والے دن ہی رینجرز کے اختیارات میں کمی کرے تو یہ اقدام کن عناصرکیلئے حوصلہ افزا ہوگا ۔ ڈاکٹرعاصم کے بعد متعدد وزراء سمیت سیاسی شخصیات پربھی ہاتھ ڈالاجاتا تھا لیکن رینجرز کے ساتھ باندھنا بھی لمحہ فکریہ ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کو ممکن بھی بنانا تھا ورنہ پاکستان پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہوتی اس کا اندازہ عوام خود لگائے۔ اب اگر بالا تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو گہری سوچ رکھنے والے ملک میںآئینی و سیاسی بحران میں اضافہ ضرور دیکھ رہے ہونگے۔سندھ میں اس وقت لاقانونیت کی جوتلوار لٹک رہی ہے اگر سیاسی و عسکری قیادت نے مل بیٹھ کر اس مسئلے کو غیرجانبداری سے حل نہ کیا تو مسائل بڑھیں گے ۔ جمہوریت ملک و قوم کو فائدہ پہنچانے اور عوام کو حقوق دلانے کیلئے ہوتی ہے لیکن سندھ حکومت کے اقدام کے تمام جمہوری فوائد پر سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد جمہوریت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے اب اس کو کیسے ہونا ہے اس بارے میں سیاسی و عسکری قیادت مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں اور اس معاملے کو طول نہ دیا جائے ورنہ عوام میں مایوسی بڑھے گی۔