- الإعلانات -

بینش پرویز۔۔۔بہادری کی ایک مثال

khalid

سانحہ پشاور کو ایک سال بیت گیا۔ کل آرمی پبلک سکول کی یاد میں ملک بھر میں قومی ، صوبائی و عوامی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ سفاک درندوں کے ہاتھوں معصوموں کے خون کی ہولی پر دل درد سے لبریز تو تھا ہی، مگر اس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ اس قوم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا۔ گزشتہ کچھ حالات و واقعات سے لگ رہا تھا کہ شاید ہم آرمی پبلک سکول کے شہداء کو بھول چکے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد جس عزم کے ساتھ پوری قوم متحد ہوئی اور فورسز نے دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے کمر باندھی تھی، لگ رہا تھا کہ اس عزم میں کہیں کوئی جھول آ رہی ہے، کہیں کوئی رکاوٹ آ رہی ہے۔ مگر کل جس طرح قوم کے ان معصوم شہداء کو یاد کیا گیا اس نے ایسے تمام تاثرات کو زائل کر دیا۔یقین ہو گیا کہ قوم اپنے ننھے شہیدوں کو نہیں بھولی اور ان شہیدوں کے خون کا قرض چکانے کے لیے آج بھی پرعزم ہے۔آج سانحہ پشاور کے ملزمان کو توکیفرکردار تک پہنچایا جا چکا ہے مگر اپنے باقی بچوں کو ان درندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہمیں اسی عزم کے ساتھ کمربستہ رہنا ہو گا جس عزم کا مظاہرہ گزشتہ برس سانحہ پشاور کے بعد کیا گیا اور اس کا ایک مظاہرہ کل دیکھنے کو ملا۔سانحہ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے کئی استاد بھی شہید ہوئے جن میں سے اکثر نے کمال بہادری کے ساتھ خالی ہاتھوں سے دہشت گردوں کی کلاشنکوفوں کا مقابلہ کیا۔شہید اساتذہ میں سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی شامل تھیں۔ ان کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہوجاتیں لیکن انہوں نے اپنے سکول کے بچوں کے ساتھ رہنا پسند کیا اورکمال جرأت و ہمت سے دہشت گردوں کو للکارا، بزدل دہشت گردوں نے ان کو شہید کردیا۔شہید اساتذہ میں ایک بینش پرویز بھی تھیں جوپانچویں کلاس کے بچوں کو پڑھانے پر مامور تھیں۔انہوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا، افسوس ہے کہ اس کا ذکر کم ہی کیا گیا ہے۔ وہ فوج کے ایک میجر کی اہلیہ اور تین بچوں کی ماں تھیں۔ جب دہشت گرد ان کی کلاس میں داخل ہوئے اور انہوں نے ڈیسکوں کے نیچے چھپے بچوں کو مارنا شروع کیا تو بینش سے برداشت نہ ہوا اور وہ بے اختیار ان دہشت گردوں پر جھپٹ پڑیں۔ ایک کمزور اورنہتی خاتون استاد کی یہ جرأت اور ہمت ننگِ انسانیت دہشت گردوں کو پسند نہ آئی اور انہوں نے بینش پرویز کو قابوکرکیااور زندہ جلادیا۔ بینش پرویز کی بہادری کی مثال ہمیشہ اس قوم کی راہبر رہے گی۔ آرمی پبلک اسکول کے ایک استاد سعید خان بھی دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے۔
سانحہ پشاور کے بعد ہم نے نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں دہشت گردوں کی سرکوبی کا جو لائحہ عمل اختیار کیا تھاہم اس پر عملدرآمد میں کہاں تک کامیاب ہوئے۔اگر ہم نیشنل ایکشن پلان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کریں تو ان میں ایک طالبان اور ان جیسی بڑی دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کرنا تھا اور دوسرے ہماری صفوں میں موجود ان کے حامیوں کا قلع قمع۔افواج پاکستان بے جگری سے لڑیں اور طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے میں تو ہم اس ایک سال میں بہت حد تک کامیاب ہو چکے مگر ان دہشت گردوں کے حامی آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور وہ ہم سے کچھ ڈھکے چھپے بھی نہیں۔ اگر جان کی امان پاؤں تو صرف ایک مثال دینا چاہوں گا، مولانا عبدالعزیز۔ جس نے سانحہ پشاوراور اس میں ملوث درندوں کی مذمت تک کرنے سے انکار کر دیا تھا، دہشت گردوں کی اس سے بڑی اور کھلی حمایت کیا ہو سکتی ہے؟یہ وہی مولانا عبدالعزیز ہے جس نے لال مسجدآپریشن کے وقت کئی معصوموں کو یرغمال بنا کر ان کی جانیں لیں اور جب اپنی جان دینے کی بار آئی تو ’’برقع‘‘ پہن کر فرار ہوئے۔ ظاہر ہے جن بزدلوں کی یہ لوگ حمایت کرتے ہیں تو یہ خود کیسے بہادر ہو سکتے ہیں۔یہاں میں اس قوم کی بیٹی، اے پی ایس کی ٹیچر بینش پرویز کی بہادری کی مثال تو دینا چاہتا ہوں مگر میں ان جیسے بزدلوں کے ساتھ اس عظیم خاتون کا موازنہ ہی نہیں کرنا چاہتا۔مفادات کی گندگی کے ڈھیر میں رینگنے والے ان کیڑوں کا قوم کی اس بیٹی کے ساتھ نام لینا ہی میں گناہ خیال کرتا ہوں۔خیبرپختونخوا سے لے کر کراچی تک جاری آپریشن میں ہم نے بے بہا کامیابیاں سمیٹی ہیں مگر ان جیسے سنپولیے آج بھی ہماری آستینوں میں موجود ہیں اور ہم کہ سدا سے مصلحت کے مارے، اب بھی مصلحت پسندی ہی میں پڑے ہیں۔ اے پی ایس کے شہیدوں کا خون ہم پر قرض ہے، بہتر ہے کہ ہم مصلحت پسندی سے اپنے آپ کو نجات دلائیں اور ان کے خون کا قرض یہیں اتار جائیں، ایسا نہ ہو کہ روزِ محشر ان معصوم شہیدوں کے ننھے ہاتھ ہمارے گریبان پر ہوں۔