- الإعلانات -

وزیراعظم کا تعلیمی اداروں کا دورہ

malik-fida

اگر مجھ سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ گزشتہ چھ ماہ کی سب سے بڑی خبر کیا ہے؟یا موجودہ حکومت کا نیشنل ایکشن پلان کے بعد سے بڑا کام کیا ہے تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوراً یہ جواب دوں گا کہ وزیراعظم کا تعلیمی اداروں کا دورہ سب سے اہم کام ہے۔کسی بھی قوم یا ملک کی اس وقت تک قسمت نہیں بدل سکتی جب تک وہاں سب سے زیادہ تعلیم پر توجہ نہ دی جائے۔بدقسمتی سے جس کام کو ہم نے صفِ اول پر کرنا تھا اس کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں سارا سیاسی کام ہی اساتذہ سے لیا جاتا ہے۔مخالف سیاسی گروپ کے اساتذہ کو دور دراز اور مشکل ترین جگہوں پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔اور اپنے چہیتوں کو گھروں کے قریب لگا دیا جاتا ہے۔اور پھر ہیڈ ماسٹر بیچارے کی بھی یہ جرأت نہیں ہوتی کہ ان چہیتے اساتذہ کو نظم و ضبط کا پابند کر سکے۔اس طرح تعلیمی معیار تباہ ہوگیا۔بلکہ وہ چہیتے تعلیمی اداروں میں اس باقاعدگی سے حاضری نہیں لگواتے تھے۔جس باقاعدگی سے وہ مقامی سیاستدانوں کے ڈیروں کا طواف کرتے تھے۔لیکن گزشتہ چند سالوں سے اساتذہ کی اس قسم کی حرکتوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔بلکہ پنجاب حکومت میں بلاوجہ غیر حاضر رہنا اب خواب ہی بن چکا ہے۔اس کے ساتھ تعلیمی اداروں سے جو سب سے بڑا ظلم ہو رہا ہے کہ وفاقی داراحکومت سمیت صوبائی دارالخلافوں کے تعلیمی اداروں بلکہ پاکستان بھر میں کسی بھی پرائمری سکول سے لے کر یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تعداد پوری نہیں ہے۔بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں طالبعلم محض اس وجہ سے اپنی مرضی کے مضامین نہیں پڑھ سکتے تھے کہ وہاں ان مضامین کے اساتذہ ہی نہیں ہیں۔جن اداروں کو ہم فیڈرل ماڈل کالجز طالبات یا طلباء سمجھتے ہیں ، اساتذہ کی تعداد ان میں بھی پوری نہیں ہے۔اسلام آباد شہر کی کسی بھی (یونیورسٹی سمیت )تعلیمی ادارے میں اساتذہ پورے نہیں ہیں۔اس کے ساتھ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ایم فل، ایم ایڈ یا بی ایڈ اساتذہ کو ڈیلی ویجز پر8/10ہزار روپے ماہوار پر ملازمت دی جاتی ہے ۔ تین چار سال جاب کرنے کے بعد جب ان کی عمر کسی بھی اور گورنمنٹ جاب کے لئے زیادہ ہو جاتی ہے تو ان کو ان تعلیمی اداروں سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔اور ان کی جگہ نئے فریش اساتذہ اور طالبعلموں کی زندگی تباہ کرنے کے لئے بھرتی کر لیا جاتا ہے۔یہ ایک عجیب قسم کا تماشا ہے۔اس طرح ہر سال ہزاروں لوگوں کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔پچھلے چند سالوں سے وزارت کیڈ بھی تبادلوں وغیرہ کے لیے تجربہ گاہ بنی رہی۔سیاستوں کی آماجگاہ بنی رہی۔اکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہی۔ گزشتہ کئی سالوں سے وفاقی ڈائریکٹر جنرل بھی 3/4ماہ سے زیادہ کوئی نہیں رہا۔جس وجہ سے سب سے زیادہ یہ ادارے بحرانوں کا شکار رہے۔جس دن موجودہ حکومت نے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو وزیرِ مملکت برائے کیڈ تعینات کیا تھا۔اس دن بھی میں نے اس پر کالم لکھا تھا ۔طارق فضل چوہدری کے حوالے وزارتِ کیڈ کو ایسے حالات میں کیاگیا ہے جن حالات میں خواجہ سعد رفیق کے حوالے محکمہ ریلوے کیا گیا۔خواجہ سعد رفیق نے بھی چارج سنبھالتے ہی محکمہ ریلوے میں جان ڈال دی۔اسی طرح ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جب سے کیڈ کا چارج سنبھالا ہے ادھر بھی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔اسی کے ساتھ وزیراعظم خود بھی اپنے دورِ حکومت میں کچھ کر جانے کا جذبہ رکھتے ہیں۔جونہی ان کی توجہ اس طرف کرائی گئی تو انہوں نے اپنے دل اور خزانے کے دروازے کھول دئیے۔وزیراعظم کا دورہ پنجگراں سکول تاریخی حیثیت حاصل کر گیاہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ طالبعلموں کے لئے سب سے بڑا عذاب تعلیمی اداروں میں پہنچنے کا ہے۔غریب لوگ سخت ترین سردی اور بارش میں بھی اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں کو موٹر سائیکلوں پر بٹھا کر تعلیمی اداروں تک پہنچاتے ہیں۔اور جو طالبات پرائیویٹ ویگنوں یا بسوں پر سفر کرتی ہیں ۔انہیں بہت دیر تک ویگنوں میں جگہ ہی نہیں ملتی۔ وزیر اعظم نے فوری طور پر 200بسوں کا اعلان کر کے اسلام آباد کے طالبعلموں پر احسانِ عظیم کیا ہے۔اس کو لوگ برسوں یاد رکھیں گے۔اس کے ساتھ تمام کلاسوں سمیت سکول کے تمام شعبوں میں پوری دلچسپی کے ساتھ جا کر جس عزم کا اظہار کیا ہے یہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان میں ہر بچے کے لئے تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں ۔ شرح خواندگی میں اضافہ کے لئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔کمپیوٹرائز نظام وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی اداروں کی نگرانی کرے گا۔جبکہ بائیومیٹرک سسٹم عملہ کی حاضری کو یقینی بنائے گا۔اساتذہ کی تمام تر تقرریاں میرٹ پر ہونگی۔وزارتِ کیڈ میں ترقیاں ملازمت کے دورانیہ کی بنیاد کی بجائے مہارت، کارکردگی، اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر ہوگی۔خدا کرے کہ ایساہو جائے ورنہ چند سال پہلے تو اسلام آباد کے7ہائی سکولوں کے میٹرک کے نتائج صفر فیصد تھے۔تو کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگی تھی۔اگلے سال بھی وہی اساتذہ اور وہی ہیڈ ماسٹر تھے۔ پنجگراں سکول کے بعد وزیراعظم اسلامی کالج یونیورسٹی پشاور کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لئے گئے۔انہوں نے اس ادارے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اساتذہ سے کہا کہ وہ اس عظیم درسگاہ کی عالمگیریت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہر شعبۂ زندگی کی ضرورتوں کے پیشِ نظر اعلیٰ درجے کے ماہرین پیدا کریں۔وزیراعظم نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے کالج کے لئے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا۔پشاور کے لوگوں نے جس طرح دہشت گردی کا مقابلہ کیاہے۔یہ اپنی جگہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔اس موقع پر ان کے جذبوں کو داد دینے کے ساتھ پاکستان آرمی اور حساس اداروں کے ان جوانوں اور افسروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو پاکستان سمیت خاص کر خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں قیام امن اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتے رہے۔اس موقع پر طلباء نے بھی فوجی کارناموں کو بہت خوشی سے سراہا۔یہ یاد رہے کہ آج پاکستان کے بہت اہم عہدوں پر بیٹھے ہوئے خیبر پختونخواہ کے لوگ اسی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں۔اور آنے والے دنوں میں اس تعلیمی ادارے کی مزید وسعت کے لئے ایک ارب روپے کی خطیر رقم بہت تبدیلی لائے گی۔