- الإعلانات -

پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان؟

sadar-adeel

سعودی عرب نے 34 ممالک پر مشتمل ایک ایسے نئے اتحاد کی بات کی ہے جن میں سے اکثر موجودہ65 سے زیادہ ممالک کے اتحاد کاحصہ ہیں جو امریکہ نے داعش کے خلاف بنایا ہے۔ بہرحال حکومت پاکستان ،ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کو بھی یہ سن کوحیرانی ہوئی ہے کہ پاکستان بھی کی نئے اتحاد کا حصہ ہے۔اگر خبربین الاقوامی سطح سے ہوتی ہوئی پاکستان پہنچی تو کچھ نہ کچھ صداقت ہوگی۔ پاکستان میں اکثر سیاسی و مذہبی گھرانوں میںیہ بات زیر بحث ہے کہ پاکستان میں ر ہتے ہوئے ہمیں اس خبر کا پتہ نہ چل سکا۔ بہرحال یہ خبر تو ہے ہی اس خبر کا تعلق ہماری خارجہ پالیسی سے ہے اور الاماشاء اللہ ہمارے وزیر خارجہ کا وجود ہے ہی نہیں البتہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ خارجہ امور کی کچھ نہ کچھ ذمہ داریوں کو پورا ضرور کررہے ہیں۔ ان کی تعیناتی سے یہ بحث بھی چھڑ گئی تھی کہ فوجی ذہن رکھنے والی ہر شخصیت ریٹائرہونے کے بعدخارجہ امور میں بھی سیاسی فیصلوں کے کرنے کے بجائے فوج کی ذہنیت سے فیصلے کریں گے لیکن حکومت نے انکو تعینات کرکے سب کوقائل کرنے کی کوشش کی کے ان کی تعیناتی سیاسی حکومت نے کی ہے اور فیصلہ جات بھی سیاسی یعنی پاکستان کے مفادات کے عین مطابق ہوں گے لیکن حقائق کیا کہتے ہیں کہ سیاسی تربیت سے محروم شخص حکمت سے بھری سیاست کرسکتاہے؟مثلاً عمران خان کی کیا سیاسی تربیت ہے اور ایک پریشر گروپ سے بڑھ کر ان کی سیاست صحیح معنوں میں ایک سیاسی شخص کی آئینہ دار ہے اس طرح بلاول بھٹو کی طرز سیاست حقیقی معنی میں سیاست کے مفہوم سے واقف ہے اس لئے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے ۔ تو پھر ایک مستقل وزیرخارجہ کے بغیر جوکہ سیاسی بھی نہ ہو تو پاکستان کے سیاستدان اور مذہبی حلقہ سوچ و بچارمیں ہی رہے گا۔سعودی عرب کے اس اقدام میں پاکستان کے نام کیسے آگیا ۔کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اس مقام کی زیارت کرکے جس کودنیا میں اسلام کا مرکز اور عرب کے اندر سیاسی فیصلوں کا سرپرست سمجھاجاتا ہے ۔ جنرل راحیل کو اطمینان تو ضرور ہوا ہوگا لیکن سعودی فرمانروا سے ملاقات کی داستان ظاہر ہے ۔خارجہ پالیسی کے اصولوں کے تحت خفیہ ہی رہنی تھی لیکن اس خبر کے آنے کے بعد دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔اگرہمارا مستقل طورپر سیاسی خارجہ پالیسی کا نمائندہ کوئی نہیں تودیکھنے سے یوں ہی لگے گا کہ حقیقت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی سیاستدان نہیں فوج کے ذمے ہے ۔ یہ خیال پیش کرنے والوں کی تعداد پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہے ہوسکتا ہے کہ پاکستان اتحاد کا حصہ نہ اور محض یہ شرارت بھی پاکستان کے مستقل وزیر خارجہ کہ نہ ہونے کی طرف فوج پر انگلیاں اٹھنے کا سبب ہوں اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی افواج کو مضبوط ادارہ تصور کرتے ہوئے سعودی عرب کو فوج کی حمایت درکارہو۔اگر پاکستان اس اتحاد کا حصہ بن جانا چاہتا ہے تو سیاسی و مذہبی حلقوں کوفوج پر نہیں بلکہ اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ آج تک مستقل وزیر خارجہ کیوں نہیں متعین ہوا۔ پاکستان کے سامنے تاریخ کے اوراق بھی موجود ہیں کہ امریکہ کا اتحادی ہوکر ہم نے کثیر تعداد میں اپنے لوگ شہید ہوتے ہوئے دیکھے اور آج دنیا میں داعش کے خلاف پاکستان کا چاہے فوجی سطح پر ہو یا خفیہ معلومات دینے کے حوالے سے ہو یا جہاد کے نام پر نوجوان نسل کو اس اتحاد کا حصہ بننا ہے ان تینوں صورتوں میں پاکستان کی عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔داعش کی یہ کارروائیاں محض علاقوں کے حصول کیلئے نہیں بلکہ ایک ایسا سبب پیدا کرتے جارہی ہیں جس میں شیعہ سنی فسادات لازمی و ملزوم نتیجہ ہیں ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت کے حوالے سے کتنی دور اندیش ہے اس کا گمان شاید سول و عسکری قیادت کواس جنگ میں کودنے کے بعد ہی ہوگا۔اگر آج امریکہ سعودی عرب کے اس نئے اتحاد کو خیر مقدم کررہاہے تو اس کی خوشی پاکستان کی عوام کیلئے موت کا باعث نہ ہوجائے اس سوال کا جواب کیا ہم پھراس کو تجربے کے نام پر ٹال دیں گے۔ ان سوالات کی روشنی میں ہمیں سیاسی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی کے نکات پر غورکرنا ہوگا۔ جب بھی نوعیت کی مدد ہم داعش کے خلاف دیتے جارہے اس پر چیک کون رکھے گا یہ سوال میرا نہیں عوام کا ہوگا؟ لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان مستقل بنیادوں پر وزیر خارجہ تعینات کرے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کوبدلتے ہوئے حالات کے مطابق متعین کرے تاکہ جولوگ اس بات کا غم کھائے ہوئے ہیں کہ سعودی عرب کے بنائے گے34 ممالک والے اتحاد میں پاکستان کا نام کس نے دیا ۔ اگرجلدا زجلد ایسا نہیں ہوا تو سفارتی سطح پر یہ ہماری بہت بڑی ناکامی ہوگی ۔ نیز اتحادکا حصہ بننے سے پہلے حکومت کو اس کے اعدادوشمار بھی نہ صر ف قوم کے سامنے رکھنا ہوں گے بلکہ پارلیمنٹ سے اس کی منظوری بھی ضروری ہوگی