- الإعلانات -

ٹامک ٹوئیاں

Darwesh-sherazi

سر راہ ملتے ہی بیتابانہ انداز میں وہ جھٹ سے بولے ,,یہ آپ ہر وقت لکھتے رہتے ہیں اسکا فائدہ کیا ہے؟ کیا ایسا کرنے سے آپ کی انگلیاں نہیں گھستی ؟،،ہم نے کہا ’’آپ ہر وقت نوٹ گنتے رہتے ہیں کیا ایسا کرنے سے آپ کی انگلیاں نہیں دکھتی ؟،،کہنے لگے یہ کیا ’’میں نے مزاح کیا اور آپ سنجیدہ ہوگئے ؟،،ہم نے عرض کیا ’’آپ نے سوال کیا ہم نے اسکا جواب دیا اسمیں رنجیدہ ہونے کی کیا بات ہے ؟،،’’آپ لکھنے والوں کا دل بہت چھوٹا ہوتا ہے ،زرہ زرہ کو آپ محسوس کرتے ہیں ،احساس کی یہ بیماری آپ کا کیا حال کردیگی کیا آپ کو اسکا احساس ہے؟،،احساس کا جزبہ ہمارے دل میں موجود ہے ،اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ ہم جو محسوس کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں،،ہم نے کہا ’’ویسے احساس کسی مرض کا نام نہیں ہے ،ہم جس مرض میں مبتلا ہیں وہ حساسیت ہے اور آپ ہوس کے مریض ہیں،ہے نا؟،،کہنے لگے ’’کیا آپ محبت کی مرض میں مبتلا ہیں ؟ایسی بات توکبھی میں نے آپ میں محسوس نہیں کی ؟یہ آپ کا کہتے ہیں؟َ ویسے آپکی محبوبہ کا کا نام ہے ؟اور وہ کونسی بلا ہے؟’’شائد آپ کانوں کے بھی کچھ بھاری ہوگئے ہیں،، ہم نے زرا اونچی وآواز میں ان کی کان میں کہا’’ہم نے احساس کی بات کی ہے،رھ گئی بات محبت کی تو یہ بھی کوئی بیماری نہیں ہے ،یہ بھی ایک جزبہ ہے جس سے آپ عاری ہیں ، کیا خیال ہے آپ کا ؟،،’’حساسیت کس مصیبت کا نام ہے؟یہ نام تو پہلی مرتبہ میں نے سنا ہے،،انہونے دشمن کی نظر سے ہمیں دیکھتے ہوئے کہا ۔آپ اسے الرجی کا نام دیتے ہیں ،جیسے ہمیں گن گن کر نوٹ جمع کرنے والوں سے الرجی ہے اور آپ کو تہی دامن غریبوں سے الرجی ہے ،بات بیٹھ گئی آپ کی دماغ میں ،،ہم نے انہیں جواب دینے کی کو شش کرتے ہوئے کہا ۔’’آپ کی نظروں میں اتنا گیا گزرا ہوں ،مجھے تو غریبوں سے بڑی ہمدردی ہے ،کیونکہ میرے پاس جو کچھ بھی دولت ہے وہ غریبوں کی بدولت ہے ،،’’بلکل آپ سچ فرمارہے ہیں ،کسی نے سچ کہا ہے اگر غریب نہ ہوتے تو سر مایہ دار کبھی جنم نہ لے سکتا ،،’’جی ہاں !میں کوئی گیا گزرا رتھوڑا ہوں ، مجھے اس کا احساس ہے ،واقعی غریب اگر نہ ہوتے توہمارے کارخانوں کی چمنیاں کون صاف کرتا ؟الفاظ کی قلابازیاں کھانا اور بات کا بتنگڑبنانا تو ویسے آپ لوگوں کی عادت ہے ،وہ ہمارے کارخانوں کی چمنیاں صاف کر تے ہیں اورہم انکا پیٹ بھرتے ہیں ‘حساب برابر ہے‘ تالی ہمیشہ دونوں ہاتوں سے بجتی ہے ‘سرمایہ دار اور مزدور کا رشتہ ازل سے ہے اور یہ رشتہ قائم رہیگا ‘یہ خدائی تقسیم ہے میں اور آپ کون ہوتے ہیں اس تقسیم میں مداخلت کرنے والے؟ہم اس تقسیم پر راضی ہیں اور آپ کو بھی اس پر راضی ہوجا نا چائیے‘سرمایہ دار اور مزدور کا تنازعہ آپ جیسے غلط نظریات کے حامل قلم کاروں کی اختراع اور یہ ذہنی عیاشی کے زمرے میں آتا ہے،،انہونے لمبی تقریر کر تے ہوئے کھا اس دوران ان کے منہ سے جاگ وغیرہ بھی خارج ہورہے تھے۔آپ کے ارشادات بجا ہیں اور غصہ بے جاہے ، آپ ہی کی بات حرف آخر ہے کیونکہ آپ کی ذات ایک اتھارٹی ہے اور یہ سچ ہے کہ جو کسی کا قسمت ہوتا ہے وہ اسے نصیب ہوتا ہے ، آپ کی قسمت میں مال و دولت کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری ہے اور غریبوں کے نصیب میں آپ کیلئے مال و دولت جمع کرنے کی ذمہ داری ہے ، آپ اور مذدور ایک دوسرے کیلئے لازم اور ملزوم ہیں بلکل اس طرح جس طرح میاں اور بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں ،بیوی کا نام سنتے ہی ان کا رنگ کچھ لال پیلا ہونے لگا اور گول گول آنکھوں کے ساتھ ہمیں گھورتے ہوئے کہنے یہ کس موقع پر آپنے ہمیں بیگم کی یاد دلا دی ہے ، پٹڑی سے اتر کر بات کرنا آپ کی عادت ہے بات کو آپ ایک دم مذدور سے بیگم تک لے گئے ہیں یہ جو کچھ ہم کرتے ہیں یہ بیگم ہی کیلئے ہوتا ہے ، ہماری دماغی صلاحیت اور مذدوروں کی محنت مل کر جو نتیجہ نکالتے ہیں اس کا صلہ بیگم کا ہی ہوتا ہے ،اور یہ کھتے ہوئے وہ رخصت ہونے لگے کہ ہم تو گھرچلے بیگم انتظار کر رہی ہوگی اور آپ جانے اور آپ کے عوام ۔