- الإعلانات -

تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت

yasir-khan

گزشتہ دنوں پوری دنیا کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر فیس بک کے مالک کے ہاں بیٹی کی پیدائش اور پھر اس خوشی میں اس کی طرف سے اپنی کل دولت میں سے پچاس ارب ڈالرز سے بھی زائد رقم کو تعلیم اور صحت کیلئے وقف کر دینے کی خبروں نے پوری دنیا کے میڈیا پر بڑی پذیرائی حاصل کی۔اتنی بڑی رقم کا تعلیم اور صحت کیلئے وقف کیا جانا بذات خود ایک بہت بڑی کاوش ہے۔کسی بھی ملک کیلئے ان دو شعبوں یعنی تعلیم اور صحت کے میدان میں ترقی کئے بغیر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو نے یا کم از کم ان کے ہم پلہ ہو نے کا کوئی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔یہ حکمرانوں کی اپنی سوچ اور نظریہ ہی ہوتا ہے جو ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے ان کی طرف سے وضع کردہ ترقیاتی منصوبوں میں ترجیحات کا تعین کر نے کیلئے انھیں اکساتا ہے،ہمارے ملک کی بد قسمتی دیکھئے کہ شائد یہی دو شعبے ایسے ہیں جو نہ تو کبھی ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں اپنی جگہ بنا سکے ہیں اور نہ ان شعبوں پر کبھی ان کی توجہ مبذول رہی ہے۔ہمارے ہاں کے حکمرا نوں کے نظریات ترقی یافتہ ممالک کے عوام کے مقابلے میں بھی اس قدر پست ہیں کہ ان دو شعبوں سے متعلق قومی بجٹ میں میں مختص کردہ رقم دیکھ کر شرم محسوس ہوتی ہے۔پاکستان میں تعلیم ایک ایسا منافع بخش بزنس بنا دیا گیا ہے کہ اب ہمارے ملک کا ہر بڑا انویسٹر اسی شعبے میں انویسٹ کرنا چاہتا ہے کیونکہ تعلیم اس ملک کے عوام جتنی قیمت پر خرید کر اپنے بچوں کو دے رہے ہیں ،ایسے حالات میں اس شعبہ میں دھڑا دھڑ پیسا لگا رہے ہیں۔دوسری طرف حکومتی تعلیمی شعبہ اس قدر کمزور اور نحیف ہے کہ وہ ان بڑے بڑے بزنس انویسٹرز کا مقابلہ کر نے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔صورتحال کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجئے کہ میانوالی کا شمار پنجاب کے دور افتادہ اور پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے۔یہاں آج سے چند سال قبل ایک ایم پی اے علی حیدر نور کی کاوشوں سے یونیورسٹی کیمپس کا قیام عمل میں لایا گیا،آپ حیران ہونگے کہ اس یونیورسٹی کیمپس میں پہلے دو تین سال کے اندر ہی خواہشمند طلباء کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے حکومت کو بار بار اس بات کی استدعا کی جارہی ہے کہ اسے مزید وسعت دیکر مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے،مختلف شعبہ جات بڑھائے جائیں ،اساتذہ اور پروفیشنلز کو تعینات کیا جائے،مگر گزشتہ دنوں یہ خبر پڑھ کر انتہائی افسوس اور دکھ ہوا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ابھی تک اس یو نیورسٹی کیمپس کے سٹیٹس کو ہی تسلیم کر نے کو تیار نہیں ہے،اور اتنی زیادہ ضرورت اور ڈیمانڈ کے باوجود حکومت اس یونیورسٹی کیپمس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینے سے ہچکچا رہی ہے۔سینکڑوں کی تعداد میں طلباء طالبات، میڈیکل، انجینئرنگ اور دوسرے شعبہ جات میں اپنی علمی پیاس بجھانے کی خاطر پنجاب کے بڑے شہروں میں جاکر تعلیم حاصل کر نے پر مجبور ہیں،خادم اعلیٰ کا پنجاب اتنا بڑا ہے کہ آس پاس کے چند بڑے شہروں کے علاوہ حکمرانوں کی نظر میانوالی جیسے دوردراز اور پسماندہ اضلاع کی طرف جاتی ہی نہیں۔بحثیت صوبہ پنجاب کا حصہ ہو نے کے، کیا میانوالی کے عوام،کو لاہور،پنڈی،ملتان اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کے عوام کے مقابلے میں کم تر حیثیت حاصل ہے،ان بڑے شہروں کا موازنہ اگر آپ میانوالی،بھکر،لیہ،خوشاب،راجن پور جیسے اضلاع سے کریں تو زمین آسمان کا فرق ہے،پنجاب کے چند بڑے شہروں کو سجا نے سنوارنے پر تو اربوں روپیہ صرف کیا جارہا ہے مگر میانوالی جیسے اضلاع جہاں کے بچے تمام تر خداداد صلاحیتوں کے باوجود محض اس وجہ سے اپنی تعلیمی پیاس نہیں بجھا پاتے کیونکہ انھیں لاہور،پنڈی جیسی نہ تو تعلیمی درسگاہیں دستیاب ہیں،نہ میڈیکل کالجز ہیں اور نہ انجینئرنگ یونیورسٹیز۔ان اضلاع کے طلباء و طالبات تعلیم جیسی ضروری اور ناگزیر ضرورت کومحض اس وجہ سے پورا نہیں کر پاتے کیونکہ ان کا تعلق پنجاب کے کسی بڑے شہریا تخت لاہور کے نزدیک کے شہروں سے نہیں ہوتا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے اضلاع کے سارے عوام کو برابری کی بنیاد پر تعلیم اور صحت جیسی سہولیات تک رسائی ہوتی مگر یہاں الٹی ہی گنگا بہ رہی ہے،لاہور ،پنڈی اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں کالجز اور یونیورسٹیز کی لائنیں لگی ہیں مگر میانوالی جیسے شہروں میں بسنے والے طلباء ،طالبات سے محض ایک اکلوتا یونیورسٹی کیمپس بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔محض پل،سڑکیں اور میٹرو چلا دینے سے قوم کے اندر شعور اور تعلیمی آگہی تو نہیں آئے گی اگر ہم نے دنیا کا مقابلہ کر نا ہے اور خود کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے تو پھر تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کی ترقی پر ہمیں سب سے زیادہ خرچ کر نے کی ضرورت ہے۔لاہور،پنڈی اور فیصل آباد میں میٹرو بسیں چل سکتی ہیں اور اب اورنج ٹرین جیسے اربوں کے منصوبے بن سکتے ہیں تو میانوالی جیسے اضلاع میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کیوں نہیں بن سکتیں،کیا اس ضلع کے عوام کا معیاری تعلیم اور بہتر صحت کی سہولتوں پر کوئی حق نہیں،یہ میانوالی سے بار بار منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچنے والے سیاستدانوں کیلئے بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور لمحہ فکریہ بھی کہ وہ آج تک میانوالی کیلئے محض ایک یونیورسٹی تک کے قیام میں کامیاب نہیں ہو سکے۔