- الإعلانات -

یہ جنگ بھی ہم ہی جیتیں گے !

asghar-ali

ایک سال پہلے پشاور میں آرمی پبلک سکول میں جو ظلم عظیم ہوا اس کی پہلی برسی پر پاکستان بھر کی سیاسی اور عسکری قیادت آرمی پبلک سکول پشاور میں جمع ہوئی اور شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا تذکرہ کیا اور عہد کیا کہ ان ننھے شہیدوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر جو لہو کے چراغ روشن کیے ہیں ، ان چراغوں کو پوری قوم روشنی کے میناروں کی مانند مشعل راہ کی حیثیت دے گی اور وطن عزیز بہت جلد ہر لحاظ سے امن و سلامتی ، تعلیم و تہذیب کی ایسی روشن مثال بنے گا جس پر پوری قوم فخر کرے گی اور دنیا بھر کے ممالک اس کی جانب رشک کی نگاہوں سے دیکھیں گے ۔
اسی تناظر میں معاشرے کے سبھی طبقات نے شہدا کی قربانیوں کو یاد کیا ۔ افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے دلوں کو گرما دینے والے کئی ملی نغمے بھی سامنے آئے ۔ سبھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ۔ اسی ضمن میں نامور گلو کار ’’ علی عظمت ‘‘ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے ’’ یہ جنگ بھی ہم ہی جیتیں گے ‘‘ جیسا ملی نغمہ ریلیز کیا گیا جس کی کمپوزنگ ’’ عقیل احمد ‘‘ نے انجام دی ہے ۔ اس کے بول اور گلو کاری سبھی اس قابل ہیں کہ جن کی جتنی بھی تعریف کی جائے اتنی کم ہے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دورِ حاضر میں تمام تر جنگی معرکے محض افواج کی بنیاد پر نہیں جیتے جاتے بلکہ اس میں قوم کے سبھی طبقات کسی نہ کسی طور شامل ہو کر اپنا ملی فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اور یہی دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب کے دوران بھی ہو رہا ہے ۔
ISPR نے پشاور سانحے کے بعد پہلے بھی ’’ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے ‘‘ جیسا معرکۃ الآرا قومی گیت ریلیز کیا جو اپنی مثال آپ ہے ۔ اس کے علاوہ چند روز پہلے ’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ‘‘ کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی اچھے اور دلوں کو گرما دینے والی تحریریں اور نظمیں سامنے آئی ہیں جس میں لکھنے والوں اور گانے والوں نے اپنی پوری صلاحتیں صرف کی ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ پچاس برس قبل جب بھارت نے پاک قوم کو للکارا تھا ، تب بھی شاعروں ، ادیبوں اور گلو کاروں نے ایسا لا فانی کردار ادا کیا تھا ۔ جس کی بدولت جارحیت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے میں افواج پاکستان کے جوانوں میں ایک نیا ولولہ دوڑ گیا ۔
ان ملی نغموں اور ترانوں کے بول آج تک قوم کے اکثر افراد کے ذہنوں میں موجود ہیں اور جب بھی کوئی ’’ اے مردِ مجاہد جاگ ذرا ، اب وقت شہادت ہے آیا ‘‘ ، ’’ خطہ لاہور تیرے جا نثاروں کو سلام ‘‘ ، ’’ زندہ رہے گا سیالکوٹ ۔۔ زندہ قوموں کی تاریخ میں نام تیرا تابندہ رہے گا ‘‘ ، ’’ وطن کی مٹی گواہ رہنا ‘‘ اور ’’ قوم کے محسنوں مہربان غازیو ، تم پہ واروں میں سارا جہاں غازیو ‘‘ جیسے انمول ترانے پاکستان کی حربی تاریخ میں مخصوص اہمیت کے حامل ہیں ۔ ایک برس قبل بزدل دشمن نے تو اپنی طرف سے پاکستانیوں کے دل پر وار کر کے پاکستانیوں کے ذہنوں میں مایوسی پھیلانے کی مکروہ سازش رچی تھی مگر ان ننھے پھولوں کے خون نا حق نے پوری پاکستانی قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنا دیا اور تمام طبقات اپنے سیاسی ، گروہی اور دیگر اختلافات بھلا کر اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے اور اسی کے نتیجے میں دہشتگردی کے خاتمے کی اس لڑائی میں پاک فوج نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے جس کا معترف تمام عالم ہے ۔
یہاں اس امر کا بھی ذکر بے جا نہ گا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اس موقع پر اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ سے سولہ دسمبر کو ’’ قومی عزمِ تعلیم ‘‘ کے دن کے طور پر منایا جائے گا اور APS پشاور کو یو نیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا ۔ بہر کیف اس پیرائے میں یہ توقع بھی کی جانی چاہیے کہ بعض حلقوں کی جانب سے کراچی میں دہشتگردی کے خاتمے کی راہ میں اپنے سطحی مفادات کی خاطر جو روڑے اٹکانے کی سعی کی جا رہی ہے ، وہ عناصر بھی اس امر کا ادراک کریں گے کہ سارا ملک اس حوالے سے بہت سنجیدہ ہے لہذا بہتر ہو گا کہ وہ بھی قومی دھارے میں شامل ہو کر اس جدو جہد میں اپنا حصہ مثبت انداز سے ڈالیں کیونکہ فتح پاکستان قوم کا مقدر ہے اور یہ معرکہ بھی ہم ہی جیتیں گے( انشاء اللہ )۔