- الإعلانات -

سب کے خلاف بلا امتیاز فوجی اور رینجر آپریشن کی ضرورت

ejaz-ahmed

اسمیں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں رینجر آپریشن کے بعدوہاں پر بھتہ خوری، اعوا برائے تاوان ، پرس چھیننے کے واقعات، قتل اور اقدام قتل، بو ری بند لاشوں ، منشیات فروشی اور دوسرے سماجی جرائم میں انتہائی حدکمی واقع ہوئی ہے۔ اور اب کراچی میں حالات کسی حد تک پُر سکون ہیں۔مگر بد قسمتی سے اب سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان رینجر آپریشن کے دورانئے بڑھانے پر رسہ کا ری جاری ہے۔ سندھ حکومت کا خیال ہے کہ کراچی میں رینجر کا روائی ایک مخصوص سیاسی پا رٹی کے خلاف ہو رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کا خیال ہے کہ کراچی میں کارروائی دہشت گردوں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں ، بھتہ خوروں ، اعوا برائے تاوان ، جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں اپریشن انتہائی تیزی کے ساتھ کامیابی کی طر ف رواں دواں ہے۔ مگر بد قسمتی سے کچھ قوتیں اور کچھ سیاست دان اس بات کو قطعی پسند نہیں کرتے کہ کراچی آپریشن کو جا ری رکھا جائے۔ میں اس کالم کی تو سط سے فوج کے سربراہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہر حالت میں کراچی آپریشن جا ری رکھیں ۔ کیونکہ کراچی پاکستان کا تجا رتی مر کز ہے اور کراچی کے حالات ہر حالت میں ٹھیک ہونے چاہئے۔ کراچی میں دہشت گر دوں ، بھتہ خوروں ، رہ زنوں اور منشیات فروشوں کی سختی سے سر کوبی کی جانی چاہئے ۔ علاوہ ازیں اُن سیاسی پا رٹیوں کے دہشت گر د اور رجعت پسند ونگز کو سختی سے کچلا جائے جو کراچی کی امن و آمان کو تباہ وبر باد کرنا چاہتے ہیں۔جہاں تک کراچی اپریشن کی بات ہے تو کراچی اپریشن کے بارے سب سے زیادہ تنقید یہ کی جاتی ہے کہ یہ دو مخصوص سیاسی پا رٹیوں اور انکے لیڈران کے خلاف کیا جارہا ہے۔ لہذاء فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو چاہئے کہ وہ کراچی اور فاٹاکے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی اسکا دائرہ وسیع کریں ۔ کیونکہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر دہشت گر د ، انکے سہولت کار، مختلف سیاسی پا رٹیوں کے بد عنوان قائدین اور سر کاری افسران پائے جاتے ہیں جنکی سر کوبی اور رینجرز کے ذریعے ان کا احتساب ضروری ہے۔اگر کراچی اور کے پی کے کی طر ح پنجاب میں فوجی یا رینجرز اپریشن نہیں کیا گیا تو اس سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہوگی اور چھوٹے صوبوں کے اس قسم کے جائز مطالبہ پو را نہ ہونے کی وجہ سے کراچی اپریشن ، رینجرز اور قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے ساکھ کو نُقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس ملک کو صرف ایم کیو ایم اور پیپلز پا رٹی نے نہیں لوٹا ہے بلکہ اس ملک کو دوسرے سیاسی پا رٹیوں نے بھی بے در دی اور سفاکی سے لوٹا ہے۔ اور کو شش ہونی چاہئے کہ عسکری قیادت اور رینجرز کراچی اور کے پی کے کی طر ح پنجاب اور بلوچستان میں بڑے بڑے سیاسی ، عسکری اور سول افسر شاہی کے خلاف کا روائی شروع کرے۔ تاکہ چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کو دور کیا جائے۔ اس ملک کو سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ سول اور فوجی افسر شاہی افسر شاہی نے بھی لوٹا ہے اور اگرمسلح ا فواج اپنا امیج مزید بہتر کر نا چاہتا ہے تو انکو چاہئے کہ وہ بلا تفریق بلا امتیاز پنجاب کے سیاست دانوں ، ملٹری اور سول بیو رو کریسی کے خلاف بھی آپریشن شروع کریں۔ اگر ہم پاکستان کے قرضے پر نظر ڈالیں تو1972 میں پاکستان کا کل قرضہ 17 ارب روپے تھا اور اب سال 2013 میں پاکستان کا کل قر ضہ17356 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ وزارت خزانہ کے دستا ویزات کے مطابق پاکستان نے 1963میں مغربی جر منی کو ترقیاتی کاموں کے لئے 20 سال کی مدت کے لئے 12کروڑ قرضہ دیا تھا ۔ جرمنی کے علاوہ پاکستان نے ما ضی میں فرانس بیلجیم، پولینڈ، ملائشیاء، انڈونیشیاء اور اسکے علاوہ دیگر اور ممالک کو انکے ترقیاتی کا موں کے لئے قرضہ دیا تھا۔ اس عر صہ میں جنوبی کو ریا نے پاکستان کی تیزی سے کرتی ہوئی ترقی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کا 5 سالہ منصوبہ اپنے ملک لے جاکر اسکو عملی جامہ پہنایا اور جنوبی کو ریا اس وقت ترقی کے سفر میں پاکستان سے سینکڑوں کو س آگے نکل چکا ہے۔ غالباً 60 کے دہائی میں جب چینی وفد نے کراچی میں درجنوں منزلہ حبیب بینک پلازہ دیکھا تو چینی وفد کے لوگ اس بلڈنگ کو دیکھ کرحیران و پریشان ہو گئے۔ پاکستان سے سکائی ریپر کا ڈیزائن لے جانے والے چینیوں کی آج کی ترقی اور پاکستان کی تنزلی پر پو ری دنیا حیران ہے۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان گذشتہ 55 سالوں سے حد سے زیادہ زوال پذیر ہے۔ وہ ملک جو دوسرے ممالک کو قرضے دیا کرتا تھاآج کل وہ خود انتہائی مقروض اور قابل رحم ہے۔ دراصل اسکی وجہ یہ ہے کہ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کو ایمانداری اور دیانت داری سے استعمال نہیں کیا گیا۔ اگر اسکے بر عکس ہم عام لوگوں کی سماجی اور اقتصادی دیکھیں تو وہ نا گُفتہ بہہ ہیں۔ عام لوگ بھوک افلاس کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات کا شکار ہیں۔ تعلیم ، صحت، انصاف ، روز گار اور سر چھپانے کی جگہ کسی کی دسترس میں نہیں ۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق پاکستان کے تقریباً 77 فی صد یعنی 13 کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے یعنی 200 روپے دیہا ڑی سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کے 19 کروڑ عوام کب تک ان ظالموں اور خون خواروں کے ظلم، استبداد اور جبر سے تنگ آکر بر داشت کرتے رہینگے؟۔ آخر کب تک لوگ بھوک افلاس اور بے روز گاری سے تنگ آکر خود کشیوں اور خود سوزیوں پر مجبور ہو تے رہینگے؟۔ اس ملک کے 5 فی صد اشرافیہ نے اس ملک کے 18کروڑ خود دار، غیرتی اور جری قوم کوپریشان اور ذلیل کیا ہوا ہے اور ہمارا یہ 5 فی صد اشرافیہ جن میں سرمایہ دار ، جاگیر دار اور کا رخانہ دار شامل ہیں وہ ایسا سمجھتے ہیں جیسا یہ ملک انکی باپ دادا کی جاگیر ہے ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ فو جی جنرلز، سرمایہ دار ، جاگیر دار اور کار خانہ دار جو بھی ہیں ان غریبوں کی خون پسینے کی کمائی کی وجہ سے ہیں۔ اس کالم کی تو سط سے ایک بار پھر آرمی چیف سے استد عا کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے لوٹنے والوں بلا تفریق اور بلا امتیاز احتساب کریں۔ کیونکہ بُہت ہو چکا ہے۔اگر اگر رینجر اور فوج نے یہ کا ر وائی کی تو اس سے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ میں مزید اضا فہ ہوگا۔ پاکستان کے19 کروڑ پسے ہوئے طبقات ایک مسیحا کے تلاش میں ہیں۔ اور فوج اور رینجر کو چاہئے کہ وہ اُس مسیحا کا کردار اداکریں جنکا انتظار پاکستانی عوام کر رہے ہیں۔اسمبلی اور اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ کبھی بھی ایک دوسرے کا احتساب نہیں کریں گے اور نہ یہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی کاروائی کریں گے۔