- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ بھارتی ڈیمز

riaz-ahmed

پاکستان کو آزاد ہوئے 68 سال بیت چکے ہیں۔ آزادی کے ان 68 برسوں کا مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ بات معلوم ہو گی کہ پاکستان نے جہاں بہت سے شعبوں میں تاریخ ساز کامیابیاں حاصل کی ہیں وہیں بعض شعبے ایسے بھی ہیں جن میں ہم باقی دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ پانی کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور جہاں پانی کے آثار نہ ہوں اس زمین پانی کو بنجر کہا جاتا ہے۔ پانی ایک طرف فصلوں اور غذائی اجناس کیلئے اہمیت رکھتا وہیں بجلی پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہائیڈل پلانٹ کیلئے بھی یہ بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے آزادی کے بعد سے اب تک صرف دو ڈیم منگلا اور تربیلا ہی بن سکے ہیں جبکہ ہمارے ساتھ آزاد ہونیوالے بھارت نے آزادی کے بعد 102 ڈیم بنا لئے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس شعبہ میں ہم بھارت سے بہت پیچھے ہیں حالانکہ اب اکثر کہا جانے لگا ہے کہ آنیوالے دنوں میں دنیا میں پانی کے مسئلہ پر ہی جنگیں ہوں گی۔
پاکستان کی ملکیتی دریاؤں پر بھارت نے تقریباً 14 ڈیم بنائے ہیں۔ دریائے ستلج پر بھارت نے بھاکر ڈیم، دریائے راوی پر چمبر ڈیم، ہماچل پردیش کے ماندی ڈسٹرکٹ دریائے بیاس پر پانڈو ڈیم اسی دریا پر پونگ ڈیم پنجاب کے گورداسپور ڈسٹرکٹ میں دریائے بیاس پر رنجی ساگر ڈیم، شمالی ڈوڈا ڈسٹرکٹ میں دریائے چناب پر گلبہار ڈی، کشتوار ڈسٹرکٹ میں دریائے چناب پر دستی ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ، اس دریا پر سالال ہائیڈروک الیکٹرک پراجیکٹ،بارہ مولہ ڈسرکٹ میں یوری کے قریب دریائے جہلم پر یوری ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ، دریائے جہلم پر کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، دریائے چناب پر کرتھائی ڈیم، اس دریا پر سوالگوٹ ڈیم پر پکڈل ڈی، ڈسرکٹ شیوپوری میں دریائے سندھ پر میدیکھیدا ڈیم سمیت ڈیم بنائے ہیں جبکہ درجنوں میگا پراجیکٹ زیر التواء ہیں جن پر کام ہورہا ہے۔
بھارت دریائے سندھ کا 40 فیصد پانی ایک خفیہ سرنگ کے ذریعے چوری کر کے دریائے برہم پترا میں ڈال رہا ہے اور اس سے بھی معاہدے کی روح پر بھلا کیا اثر پڑے گا کہ وہ دریائے سندھ کے اوپر کارگل کے مقام پر ایک بہت بڑا کارگل ڈیم بنا رہا ہے جو دنیا کا تیسرا بڑا ڈیم ہو گا جس کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ کی حیثیت ایک برساتی نالے سے زیادہ نہیں رہ جائے گی۔ بھارت دریائے سندھ میں گرنیوالے ندھی نالوں پر بھی 14 چھوٹے ڈیم بنا رہا ہے۔ اسی طرح جہلم سے ایک اور بگلیہاڑ سے دو نہریں نکال کر راوی میں ڈالی جا رہی ہیں اور راوی کا پانی ستلج میں ڈال کر راجستھان لے جایا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاؤں چناب اور جہلم پر ناقص بھارتی ڈیزائن کے ساتھ 330میگا واٹ کے کشن گنگا ڈیم اور 850میگا واٹ کے رٹل ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی جاری تعمیر سے پاکستان کوبھارتی آبی جارحیت سے خطرہ ہے۔ بھارت نے لداخ میں دریائے سندھ پر دنیا کے تیسرے بڑے ڈیم کی تعمیر مکمل کر لی توہماری فصلیں اور آبادیاں غیر محفوظ ہو جائیں گی۔لہذاپاکستان کی جانب سے غیر جانبدار ماہر کی متفقہ نامزدگی کی پیشکش پر دی گئی مدت میں بھارتی جواب نہ آنے پر اسلام آباد نے مزید وقت ضائع کئے بغیر نئی دہلی کے خلاف بین الاقوامی پلیٹ فارم پر قانونی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اس کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں۔
اس حوالے سے نوازشریف حکومت کیس جیتنے میں کتنی سنجیدہ ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو امریکی لاء فرمز پر مشتمل کنسورشیم کی خدمات حاصل کی ہیں۔ جس میں شہری کراؤن اور ولیمز اینڈ کو نلے شامل ہیں، دونوں لاء فرمز امریکا کی معروف لا بسٹ بھی ہیں۔
انڈس واٹر کمیشن کے پاکستانی کمشنرنے تصدیق کی کہ پاکستان کا غیر جانبدار ماہر کی تقرری کے لئے عالمی بنک سے رجوع کرنے کا عمل جاری ہے کیونکہ انڈیا نے متفقہ غیر جانبدار ماہر کے لئے اب تک کوئی نام نہیں بھیجا ہے۔ مسئلے کے حل میں سندھ طاس معاہدے کی ناکامی سے ہم تھک چکے ہیں، اب عالمی بنک کے پاس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں کیونکہ سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں دونوں ملکوں کے درمیان بروکر عالمی بنک تھا۔ پاکستان کشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی وضاحت کے لئے نئی دہلی کو دی ہیگ کورٹ لے گیا تھا۔ عدالت نے انڈیا سے کہا تھا کہ ڈیم سے ڈاؤن اسٹریم کی طرف ماحولیاتی پانی کے بہاؤ کو 9کیوسک میٹر فی سکینڈ (کیومکس) کرئے جبکہ بھارتی تجویز 4.25کیومکس تھی۔ عدالت نے مستقل مصالحتی عدالت کے فروری 2013ء کے فیصلے پراز سر نو جائزے یا تشریح نو کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔
بھارت سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع ڈیموں کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ہر سال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دریاؤں میں پانی چھوڑ کر پاکستان کی فصلوں اور آبادیوں کو ڈبویا جاتا ہے۔ ہماری برآمداد کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ اگر زرعی زمینیں سیلاب کی زد میں رہیں گی تو پاکستان کی معیشت غیر مستحکم رہے گی۔