- الإعلانات -

’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘

syed-rasool-tagovi

ملی نغمے ہوں یا ترانے یا رزمیہ، وہ شعری بیانیہ ہوتے ہیں کہ جس سے پوری قوم کوحوصلہ اور اعتماد ملتا ہے۔ تاریخ کے اوراق اٹھا کردیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں دومحاذ پر بیک وقت لڑی گئیں۔ایک میدان جنگ کے اندراوردوسری میدان جنگ کے باہر۔ میدان جنگ کے اندر اس قوم کی سپاہ سینہ سپرہوتی ہے تو باہر اس قوم کے شعراء اپنے قلم اور کلام سے حوصلوں اور عزم کی آبیاری کرتے ہیں۔ قدیم ادب کے مطالعے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال، فتح و شکست میں شعرو نغمہ نے ہمیشہ دور رس اثرات مرتب کیے۔ ملی نغمے یا ترانے اصل میں نظم کی ہی ایک شکل ہوتے ہیں جس میں شاعر لطیف پیرائے میں اپنے ہیروز کی شجاعت اور مد مقابل دشمن کے نیست و نابود ہوجانے کی خواہش کا واضح اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ نغمے قومی وحدت میں مرکزی کردار اداکرتے ہیں جیسے قیام پاکستان کی جنگ میں فتح جہاں قائدؒ کے مضبوط اور دوٹوک بیانیے ( دوقومی نظریہ ) سے ممکن ہوئی، وہاں شاعر مشرق علامہ اقبال کے قلم نے قوم کے جذبوں کوایسی انگیخت دی کہ وہ ہندو اورانگریز سامراج سے ٹکراکرمنزل پاگئی۔ پھر ہم 1965ء کی جنگ میں بھی یہی کچھ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہندوبنیے کے غرور کو مضبوط قومی بیانیے اور شعرو نغمہ نے خاک میں ملا دیا ۔ بھارتی جارحیت ایک نازک وقت تھا مگر شعراء اور گلوکاروں نے جہاں قوم کے حوصلوں کو بکھرنے سے بچایاوہاں اپنی سپاہ کے عزم کو بھی سربلندکیے رکھا۔ توپوں اورگولوں کی گھن گرج سے فنکاروں اور گلو کاروں کے سُر کچھ اس انداز میں ہم آہنگ ہوئے کہ دشمن کے اعصاب جواب دے گئے۔ پاکستانی قوم ان ترانوں کوکبھی نہیں بھول پائے گی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں اتنے زیادہ ملی نغمے اور ترانے نہیں لکھے جاتے جتنے پاکستان میں لکھے جا رہے ہیں۔یہ سدا بہار دھنوں والے ملی نغمے کانوں میں ایسے رس گھولتے ہیں کہ انہیں بار بارسننے کو چی چاہتا ہے ، یہی ہے کہ جب بھی کوئی اہم قومی دن یا تہوار آئے یہ نغمے گلی کوچوں میں گونجنے لگتے ہیں۔ ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا، اب وقت شہادت ہے آیا، میرے ڈھول سپاہیا تینوں رب دی رکھاں،، اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ، اے راہ حق کے شہیدوں وفا کی تصویرو، وہ ترانے اور نغمے ہیں جو دلوں کو گرما دیتے ہیں۔1965 کی جنگ کے بعد اگلا نازک وقت 1971 میں درپیش ہوا تو ہمارا مشرق بازو کٹ گیا ۔ یہ ایک ایسا المیہ تھا کہ جس کی کسک آج تک محسوس کی جاتی ہے۔ اس سانحہ سے المیہ شاعری نے جنم لیا۔حبیب جالب اوراحمدفراز جیسے شعرو سخن کے سپاہیوں نے اپنے قلم اور کلام کے ذریعے قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وطن عزیز کی سالمیت پر یوں تو اب تک کیے وارہوچکے ہیں لیکن16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم طلباء پر ہمارے ازلی دشمن کے’’ طالبانی بہروپ‘‘ نے جو بربریت ڈھائی اس نے مردہ سے مردہ دلوں کو بھی رُلا کے رکھ دیا ۔ شعرو سخن سے تعلق رکھنے والے دل تو جہاں حساس ہوتے ہیں وہاں وہ نباض بھی ہوتے ہیں کہ وقت کی ڈوبتی نبض کو بر وقت محسوس کرکے اپنے کلام سے اسے ربط میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔سانحہ پشاور سکول کے بعد قوم کواس دکھ اور المیے سے نکالنا بہت ضروری تھا، چنانچہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس سلسلے میں ماضی کی روایت کوبرقرار رکھتے ہوئے شعرو نغمہ کا سہارا لیا۔ سانحہ کے بعد آئی ایس پی آر نے بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے جیسا شاہکار نغمہ ریلیز کرکے اس صدمے کو جھیلنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اس نغمے کے ایک ایک بول سے عزم وہمت اور دشمن کے بزدلانہ کردار کا نمایاں اظہارہوتا ہے۔ ’’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘‘ اس گیت کے شاعر ’’میجرعمران رضا‘‘ ہیں گیت کے موسیقار ’’ساحر علی بگا‘‘ ہیں، جنہوں نے اس گیت کی دلکش موسیقی اس طرح ترتیب دی جس کو سن کر دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں۔ اس گیت میں شامل گلوکار کی خوبصورت آواز ساحر علی بگا کے اپنے بیٹے کی ہے ۔اسی طرح سانحہ پشاور کو ایک سال مکمل ہونے پر شہید بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک اور نیا نغمہ ریلیزکیا گیا۔’’ مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ کے عنوان سے جاری ہونے والے نغمے کی شاعری اور موسیقی نے بھی عوام بالخصوص طالب علموں میں نیا جذبہ اجاگر کیا ہے۔ نغمے میں دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے انوکھا انتقام لینے کا پیغام دیا گیا ہے۔معصوم ننھا بچہ اپنی مدھر اور سریلی آواز میں دہشت گردوں کو پیغام دے رہا ہے کہ میں تمہیں مار کر نہیں بلکہ تمہارے بچوں کو پڑھا کر اور انہیں شعور دے کر تم سے بدلہ لوں گا۔
وہ جس بچپن نے تھوڑا اور جینا تھا
وہ جس نے ماں تمہارا خواب چھینا تھا
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
جذبات سے بھرپور اس نغمے میں سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کا بلند حوصلہ بھی دکھایا گیا ہے، جو اپنے ایک بیٹے کو کھونے کے باجود اپنے دوسرے بیٹے کو اسی اسکول میں تعلیم دلوانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ساتھ ہی اس بھائی کی فریاد اور اس کے حوصلے کو بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو دوست جیسے بھائی کے گزر جانے کے بعد بھی تعلیم حاصل کر کے کچھ بننے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور ساتھ ہی دہشت گردوں کو بتا رہا ہے کہ وہ اس کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے کی ریلیز کے بعد ایک انٹرویو میں میجر عمران رضا نے کہا ’’جب پشاور سانحہ ہوا تو اس وقت میں ایک دستاویزی فلم کی تیاری کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھا اور اس صدمے کے باعث تین چار روز تک کام نہیں کر پایا۔ میں چاہتا تھا کہ اس حملے میں بچ جانے والے بچوں سے ملوں اور یہ جان سکوں کہ جب وہ اپنی درسگاہوں میں واپس جائیں گے، تو تب ان کے کیا احساسات ہوں گے۔انہوں کہا کہ انسانی تاریخ میں کبھی کسی جنگ میں یوں ارادتاً بچوں کا قتل عام دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ کبھی کسی نے اس فعل کو بہادری کی علامت سمجھا ہے۔ دہشت گردوں نے اس حملے کے ذریعے اپنا آپ پہلے سے کہیں بزدل اور کمتر ثابت کیا ہے۔ یہ گیت دشمن کو چھوٹا کرنے اور اس کمتری ظاہر کرنے کی ایک کوشش تھی۔‘‘ ان دونوں گیتوں کی شاعری دل کو چھو لینے والی ہے، جس میں ایک کمال ان گیتوں کی دھنوں میں ہے۔ جنہیں سنتے ہوئے دل کو حوصلہ ملتا ہے اور قوم کو یکجہتی کا سبق بھی۔ اس نغمے کے علاوہ علی عظمت کی آواز میں’’ یہ جنگ بھی ہم ہی جیتیں گے‘‘ کے عنوان سے ایک اور گیت بھی جاری کیا گیا ہے۔اس میں بھی ایک واضع پیغام دیا گیا ہے کہ دشمن یہ جان لے کہ آخر فتح امن کی ہوگی۔یہ نغمے دنیا بھرمیں سنے اور دیکھے جا رہے ہیں۔ ایسی قوم کو کبھی نہیں شکست ہو سکتی جس کے بچوں کی زباں پر ایسے گیت ہوں۔