- الإعلانات -

بھارتی سیکولر ازم بے نقاب ۔۔!

asghar-ali

اٹھارہ دسمبر کو ہندوستانی سینما گھروں میں شاہ رخ خان کی فلم ’’ دل والے ‘‘ کی نمائش ہوئی تو ’’’ جودھپور ، اندور ، بھوپال ، دہلی ، پونا اور دیگرشہروں میں ہندو انتہا پسندوں نے شدید مظاہرے کیے اور تماشیاں سے ٹکٹ چھین کر پھاڑ دیئے ۔یہ متشدد احتجاج مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے شاہ رخ خان کے دیئے گئے بیانات پر ہو رہے تھے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف کس نوعیت کی سوچ پائی جاتی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارت انسانی حقوق کے احترام ، جمہوریت اور سیکولر ازم کا ہمیشہ سے ہی دعویدار رہا ہے اور یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ عالمی سطح پر بھی بھارت کے بارے میں اس تاثر کو خاصی پذیرائی حاصل ہے ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ زمینی حقائق وقتاً فوقتاً ان بھارتی دعووں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ۔
اسی تناظر میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( IPRI ) کے زیر اہتمام پندرہ دسمبر کو ’’ بھارت میں اقلیتوں کی حالت ‘‘ ( Plight of Minorties in India ) کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر شاہین اختر ، ’’ ڈاکٹر مجیب افضل ‘‘ ، ’’ امبیسیڈر فوزیہ نسرین ( ر ) ‘‘ اور ’’ امبیسیڈر خالد محمود ‘‘ نے اپنے مقالات پیش کیے ۔ اپری کے سربراہ امبیسیڈر سہیل امین نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں مختصر لیکن موثر انداز میں بھارت میں رہ رہی اقلیتوں کی زبوں حالی کا تجزیہ کیا اور بتایا کہ کس انداز میں بھارت میں سیکولر ازم کے دعووں کی نفی کی جا رہی ہے ۔
دیگر مقررین نے بھی بڑی وضاحت سے بھارتی سیکولر دعووں کی حقیقی صورتحال کو بے نقاب کرتے کہا کہ جب بھارتی آئین چھبیس نومبر1949 کو منظور ہوا اور چھبیس جنوری 1950 کو نافذ العمل تو اس میں بھارتی ریاست کو سیکولر قرار نہیں دیا گیا تھا البتہ 42 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اندرا گاندھی ‘‘ کی نافذ کردہ داخلی ایمر جنسی کے انیس ماہ کے دوران 1977 کے اوائل میں سیکولر ازم کے الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا مگر زمینی سطح پر دہلی کے حکمرانوں کی یہ سعی محض الفاظ تک ہی محدود رہی اور اسے کبھی بھی عملی شکل میں ڈھلنے کا موقع نہیں ملا بلکہ اس آئینی ترمیم کے نفاذ کے چند برس بعد اکیس اکتوبر 1984 کو وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ’’ ست ونت سنگھ ‘‘ اور ’’ بے انت سنگھ ‘‘ کے ہاتھوں قتل ہوئیں تو اس کے فوراً بعد تین روز تک بھارتی دارالحکومت دہلی میں سکھ اقلیت کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا ۔ محتاط اندازوں کے مطابق بھی تقریباً پانچ ہزار خواتین اور بچوں سمیت نہتے سکھوں سے جینے کا بنیادی انسانی حق چھین لیا گیا ۔اس سے پہلے چھ جون 1984 کو سکھوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ’’ گولڈن ٹیمپل ‘‘ پر انڈین آرمی نے چڑھائی کی اور گولہ باری کر کے دربار صاحب امرتسر کو پوری طرح مسمار کر دیا گیا ۔
اس کے بعد چھ دسمبر 1992 کو بھارتی صوبے ’’ یو پی ‘‘ کے مقام ’’ ایودھیہ ‘‘ میں واقع سینکڑوں سال پرانی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا ۔ تب مرکز میں کانگرس کے نرسیما راؤ کی حکومت تھی اور یو پی میں کلیان سنگھ کی سربراہی میں BJP صوبائی اقتدار پر براجمان تھی ۔ اس کے چند ہفتوں بعد 1993 کے اوائل میں ممبئی میں جو مسلم کش فسادات ہوئے ، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ علاوہ ازیں 28 فروری 2002 کو صوبہ گجرات میں مسلمانوں کی جو بدترین نسل کشی ہوئی ، اس سے ساری دنیا آگاہ ہے اور تب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر براجمان تھے ۔ غالباً گجرات کی اکثریتی ہندو آبادی نے مودی کے اس ’’ کارنامے ‘‘ کو اتنا پسند کیا کہ وہ دسمبر 2002 اور دسمبر 2007 کے بعد دسمبر 2012 میں بھی مسلسل بھاری کامیابی سے جیتتے گئے اور مئی 2014 میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے تک موصوف اسی منصب پر فائز رہے ۔
اس معاملے کا یہ پہلو اور بھی قابل غور ہے کہ دسمبر 2002 اور 2007 کے گجرات اسمبلی کے تمام 182 حلقوں میں سے کانگرس نے بھی BJP کی مانند کسی ایک بھی سیٹ سے مسلمان کو اپنا امید وار نہیں بنایا ۔ یوں اس نے بھی بالواسطہ طور پر ہندو کارڈ کھیلا اور یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا بلکہ اکثر مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کی حالت زات کے لئے کانگرس شاید BJP سے بھی زیادہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے پچاس برس سے زائد اپنے عہد اقتدار میں مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر تو استعمال کیا اور انھیں BJP کا ہوا دیکھا کر اپنی طرف مائل ہونے پر مجبور کیے رکھا مگر ان کی سیاسی اور سماجی حالت سنوارنے کی جانب دانستہ توجہ نہ دی ۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت ’’ منموہن سنگھ ‘‘ کی بنائی گئی راجندر ناتھ سچر کی رپورٹ ہے جس کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی اپنی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے ۔
اس تمام معاملے میں عالمی ضمیر نے بھی چشم پوشی کا مظاہرہ کیا ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلم اقلیت میں اتحاد اور قیادت کا فقدان ہے ۔ اسی کے ساتھ کانگرس کی بے حسی اور ریا کاری پر مبنی پالیسیاں اور RSS کا واضح ہندو ایجنڈا ہے ۔ عالمی برادری خاطر خواہ ڈھنگ سے اس لئے اس جانب توجہ نہیں دے رہی کیونکہ دنیا کے موثر ملکوں کے مفادات سٹریٹجک اور اقتصادی دونوں لحاظ سے بھارت سے زیادہ وابسطہ ہیں ۔ اس کے علاوہ سرد جنگ کے خاتمے خصوصاً نائن الیون کے سانحے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بنے اینٹی مسلم ماحول کی وجہ سے بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی حالت زار کی جانب دنیا ڈھنگ سے توجہ نہیں دے رہی ۔
بہر کیف آنے والے دنوں میں RSS اور کانگرس نے یہی روش بر قرار رکھی تو اس کے منفی اثرات نا صرف بھارتی سا لمیت بلکہ پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اس ضمن میں قومی مفادات کے حوالے سے زیادہ محتاط اور فعال طرز عمل اپنانا ہو گا اور سول سوسائٹی ، میڈیا ، حکومت الغرض وطن عزیز کے سبھی حلقوں کو اپنا ملی فریضہ مربوط اور موثر ڈھنگ سے نبھانا ہو گا اور ملک کے اندر بھی باہمی اخوت اور قومی یکجہتی کو فروغ ، اقلیتوں کے ساتھ مزید بہتر طرز عمل اور گروہی ، لسانی اور دیگر تعصبات سے اوپر اٹھ کر پاکستان کی بہتری کی خاطر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنا ہوں گی ۔