- الإعلانات -

دہشت گردی کے خلاف۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے

nasir-raza-kazmi

پاکستان کے 18-19کروڑعوام ایک طرف اور ایک طرف وہ چند دہشت گر د وں کا گروہ ،اُن کے حمائتی‘ اُن کے سہولت کار اور اُن کے فنانسرزہیں جو تعصب اور تنگ نظری میں اپنی جیسی غیر انسانی سوچ وفکر رکھنے والوں میں ایک دوسرے پر ہمہ وقت سبقت لیجانے میں مگن ملک بھر میں جھوٹے اور اپنے منفی‘بے سروپا مذہبی فرقہ واریت کی لایعنی دلیلوں کے ذریعہ نوجوان نسل کو گمراہی کے جہنم میں دھکیلنے کے ’کاروبار ‘ سے ایسے منسلک ہوئے ہیں کہ اُنہیں دنیا بھر میں مذہب کے نام پر خون کی ہولیاں کھیلنا ہی ’اچھا ‘ معلوم دیتا ہے ایک برس قبل جون2014 میں پاکستانی مسلح افواج نے ہر قسم کی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف ایک یقینی جنگ کا جب اعلان کیا اور شمالی وزیر ستان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کی ’محفوظ‘ پناہ گاہوں میں تعاقب کرکے اُن سفاک و ظالم دہشت گردوں پر پاکستانی سرزمین تنگ کرکے ایک مشکل ترین نہایت کٹھن کام‘ جو کل تک ناممکن تھا، اُسے پائیہ ِٗ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا ،انسانیت کے دشمن ظالم وسفاک دہشت گرد جب گروہوں کی شکل میں واصلِ جہنم ہونے لگے تو دنیا انگشت بدنداں ہوگی تھی چونکہ اِن سفاک درندہ صفت دہشت گردوں کے کچھ’’ حمایتی غیر ملکی‘‘ بھی تھے پاکستانی عوام کی واضح اکثریت نے آپریشن ضربِ عضب‘شروع ہونے پر سکھ کا سانس لیا پوری قوم اپنی بہادر ‘جراّت مند نڈر فوج کی پشت پر آکھڑی ہوئی، دہشت گردوں کے لئے پاکستان کی زمین تنگ ہوگئی پاکستان کے ہر شعبہ ِٗ زندگی سے وابستہ ذمہ دار بیدار ہوگئے ملکی سیاست اور سیکورٹی ادارے ایک طرح سے سوچنے لگے، یہ اہم تاریخی مقام ہماری سیاسی وسماجی اور معاشرتی قومی زندگی میں ایسا حیات آفریں پیغام لے کر آیا کہ کل تک جو سب کو مشکل نظرآرہا تھا پاکستان کی قومی زندگی رکاوٹوں سے بھری کانٹوں بھری نظر آنے لگی تھی یکایک پاکستانی قوم کی فطرت میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے افواجِ پاکستان کی صورت میں اُنہیں ایک بڑا نجات دہندہ قومی ادارے کے وجود کا مثبت احساس ہوا ،ہمارے صحافی ‘ ہمارے ادیب ‘ ہمارے شاعر ‘ہمارے فنکار‘ ہمارے امن پسند سماجی ادارے ‘ افواجِ پاکستان کے ہم قدم ہمارے سیاسی حکمران ‘ دوسری جانب ہمارے ’علمائےِ حق‘ دہشت گردوں کے سہولت کار ’علمائےِ سُو‘ کے خلاف صف آرا ہوگئے، پاکستانیوں نے شہر شہر دہشت گردی کا بازار گرم رکھنے والوں کو جب پسپا ہوتے دیکھا تو قو م بہت زیادہ مطمئن ہوگئی دہشت گردی کے خلا ف لڑی جانے والی اِس اہم’وائٹ کالر ‘جنگ میں پاکستانی بے گناہ شہریوں کے ساتھ ہماری پولیس ‘ ہمارے دیگر سیکورٹی کے قومی اداروں بشمول ہمارے سویلین اور فوجی اداروں کے اہلکاروں نے بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کیں ،اِن ظالم و سفاک حیوانوں درندو ں صفت دہشت گردوں نے اپنی بہیمانگی کی اُس وقت انتہا کردی جب اُنہوں نے 6 ماہ کی مسلسل پسپائی کا اپنا بدترین انجام دیکھا یہی وہ وقت تھا جب وہ کھل کر 16 ؍دسمبر2014 کی ایک صبح پشاور کے آرمی بپلک اسکول پر حملہ اور ہوئے دیکھتے دیکھتے دنیا نے یہ انوکھا لہو رنگ نظارہ دیکھا کہ اسکول کے معصوم طلباء اور اُن کے معزز اساتذہ(ٹیچرز) اور انسانیت کے لئے قربانی کی حیرت انگیز تاریخ لکھنے والی اسکول کی پرنسپل نے جب اپنے آپ کو بچوں کی ڈھال بنایا تو یقین کیجئے عقل وفکر حیران وششد رہ گئی واقعی اِس میں کوئی ریاوشک کی کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستانی قوم 16 ؍دسمبر2014 کو غم و ا فسوس سے نڈھال ایک متعجب ’طاقت ‘ میں ضم ہوگئی واقعی کسی نے بالکل سچ کہا تھا کہ ’غم و اندوہ انسانوں کامشترکہ اثاثہ ہوتا ہے ’سانحہ اے پی ایس‘نے قومی غم والم کی اِس تاریخی کیفیت سے ہمارے اہلِ قلم کے دلوں ونگاہوں کو لرزدیا پاکستان سے ‘ پاکستانی جوانوں سے ‘ پاکستانی سرزمین اور پاکستانی درودیواروں سے محبت ‘بے پناہ والہانہ محبت کرنے والے بہت سے نوجوانوں کی طرح ایک نوجوان شہرتِ یافتہ فنکار’علی عظمت ‘ اور اُن کی ٹیم نے اِ س تاریخی افسوس ناک واقعہ پر ایک بڑا فنکارانہ ردِ عمل تخلیق کیا جسے جتنی بار سنیئے گا سننے والے میں ہر بار دہشت گردوں سے اپنی نفرت میں اضافہ اور قوم کے حِسّی جذبات میں طاطم خیز قومی یکجہتی کا ایک طوفان سا مچلتا ہوا محسوس ضرور کررہے ہیں ا یقیناًعلی عظمت اور اُن کی ٹیم کا یہ نغمہ کبھی فراموش نہیں ہوگا ’شاباش علی عظمت اور اُن کی ٹیم شاباش‘
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
ہم ڈرتے نہیں‘ ہم رکتے نہیں‘ خوابوں کو کیسے ماروگئے
تم بزدل ہو‘ ڈرپوک بھی ہو ‘ کتنے بھروپ تم دھاروگے، تم ہارو گے
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
پھولوں کو مسلنے نکلے تھے،خوشبو کو کچلنے نکلے تھے
دہشت گردی کی وحشت میں زندوں کو نگلنے نکلے تھے
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
قلم ‘ کتابیں اور یہ بستے‘آج بھی تم سے کہتے ہیں
یہاں کی دیواروں کے خون کے دھبے آج بھی تم سے کہتے ہیں
تم ظالم ہو ‘ تم قاتل ہو‘ بھٹکے ہوؤں میں شامل ہو
اپنے پر چم کو ‘ اپنے پرچم کو اُونچا رکھیں گے
تاریخ نئی اک لکھیں گے ۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے
دہشتگرد ‘اُن کے حمایتی‘ اُن کے فنانسرز‘ اُن جیسی حیوانی سوچ رکھنے والے سن لیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل کے اُصول پر مبنی ہے، یہ ایک مستند اصول ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھرو گے، انصاف میں دیر ہے مگر کوئی دینے پر راضی نہ تو یہ نازل ضرور ہوتا ہے، جنابِ والہ! کوئی زمانہ اندھیر نگری کا نہیں ہوتا۔