- الإعلانات -

کراچی آپریشن کی تکمیل ناگزیر ہے

riaz-ahmed

دو روز قبل سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات کم کر کے اسے مزید ایک سال کیلئے کراچی میں اپریشنز کی اجازت دی۔ اس پر وفاقی حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا تاہم فوری طور پر شدید ردعمل سے گریز کیا گیا البتہ گورنر سندھ عشرت العباد نے کہا ہے کہ رینجرز کے اپریشن میں کمی آئیگی نہ کارروائی رکے گی۔ گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اس لئے انکے بیان کو اہمیت دی جا رہی ہے۔سندھ حکومت نے ر ینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے ایک ایسی قرار داد منظور کی اور نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت رینجرز کے بعض اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے قرار داد میں چند شرائط رکھی گئی ہیں ۔ شرائط کے مطابق رینجرز کو صرف ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان سے متعلق اختیارات حاصل ہونگے۔ فرقہ وارانہ کلنگ کی روک تھام کے معاملے میں بھی کارروائی کر سکے گی۔ کوئی شخص جو براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے اور جس پر دہشت گردوں کی مدد اور اعانت کا شک ہو یا دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا شک ہو۔ اس شخص کو حکومت سندھ یعنی وزیر اعلیٰ سندھ سے تحریری منظوری کے بغیر کسی بھی قانون کے تحت حفاظتی نظر بندی میں نہیں رکھا جا سکے گا۔ قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی بھی شخص پر مذکورہ بالا جرائم کا شک ہونے کی صورت میں اس شخص کے بارے میں مکمل شواہد کے ساتھ معقول اسباب حکومت سندھ کو فراہم کئے جائیں گے۔ جو اس کی حفاظتی نظر بندی کا جواز پیدا کرتے ہوں۔ حکومت سندھ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایسے شخص کی نظر بندی کی تجویز کو مسترد یا منظور کر دے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رینجرز حکومت یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے دفتر پر چیف سیکرٹری سندھ کی تحریری منظوری کے بغیر چھاپہ نہیں مارے گی۔ رینجرز اپنی کارروائیوں میں سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی مدد نہیں کرے گی۔ سند ھ حکومت کی شرائط کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دست راست سابق وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور بعض دیگر چھاپوں کو پیش نظر رکھ کر قرار داد مرتب کی گئی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جو رینجرز کے دائرہ اختیارات میں شامل ہیں ان کے معاملے میں بھی رینجرز پر بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں یعنی دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے کے سلسلے میں بھی جس پر شبہ ہو اسے وزیر اعلیٰ سندھ کی تحریری اجازت کے بغیر حفاظتی نظر بندی کی تجویز کو مسترد یا منظور کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سندھ حکومت کے ساتھ رینجرز کی خط و کتابت کے دوران مشکوک شخص کو ملک سے باہر فرار ہونے کا موقع مل سکے گا۔ ایک اور مضحکہ خیز شق یہ ہے کہ رینجرز کو صوبے کے کسی سرکاری دفتر پر چھاپہ مارنے کے سلسلے میں چیف سیکرٹری سے تحریری اجازت حاصل کرنی ہوگی اور اپنی کارروائیوں کے معاملے میں سندھ پولیس کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کی اعانت نہیں کرے گی۔ یعنی وہ خفیہ ایجنسی کی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر بھی اس کی معاونت میں کسی فرد کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گی۔ مذکورہ شرائط کے نتیجے میں دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہوگی اور دہشت گردوں کی مالی مدد کے باعث انہیں مزید تقویت حاصل ہوگی ۔ اس وقت رینجرز کے کراچی اپریشن کے حوالے سے وفاقی حکمران مسلم لیگ (ن) اور سندھ کی حکمران پیپلز پارٹی کے مابین مفاداتی سیاست کی بنیاد پر توتکار کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے جس میں اب تلخی کا عنصر غالب ہوتا نظر آ رہا ہے، اس سے اندیشہ یہی ہے کہ باہم دست و گریباں ان حکمران جماعتوں کی باہمی چھینا جھپٹی سے جمہوریت کی بساط الٹانے کی راہ ہی ہموار ہو گی اور اقتدار کی بوٹی پھر آزمودہ طالع آزماؤں کے ہاتھ آجائیگی۔ جس کے بعد انہی سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر پھر بحالی جمہوریت کی تحریک چلانا پڑیگی جو اس بار زیادہ طویل اور زیادہ صبر آزما ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں حکمران جماعتیں ملک کو کرپشن سے نجات دلانے میں مخلص ہیں تو پھر رینجرز اپریشن پر کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے مگر پیپلز پارٹی کو یہ اپریشن اس لئے سوٹ نہیں کر رہا کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد اسکی بڑی قیادتوں پر ہاتھ پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کراچی میں بے لاگ اپریشن منطقی انجام تک پہنچوانے میں معاون ہو تو اس اپریشن کا دائرہ کار پنجاب اور دوسرے صوبوں تک بھی وسیع ہو سکتا ہے جس سے کرپشن فری معاشرے کی بنیاد پڑ جائیگی۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ دونوں حکمران جماعتیں باہم دست و گریبان ہونے اور جمہوریت کا مردہ خراب کرنے کے بجائے کرپشن فری معاشرے کی بنیاد رکھیں جس سے جمہوری نظام ہی مستحکم ہو گا۔سیاستدانوں کے بارے بالعموم یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کی چھتری کے نیچے اپنے مفادات کیلئے تو ایکا کر لیتے ہیں مگر جمہوریت کے ثمرات کبھی عوام تک نہیں پہنچنے دیتے۔ جس کے باعث عوام جمہوری نظام سے بدگمان ہوتے ہیں جبکہ عوام کی اسی بدگمانی سے فائدہ اٹھا کر غیر جمہوری عناصر اور طالع آزماؤں کو جمہوریت کی بساط الٹانے کا موقع ملتا ہے۔ سیاستدانوں کو اس حوالے سے ماضی میں کئی تلخ تجربات حاصل ہو چکے ہیں اور انہیں اپنی مفاداتی سیاست اور مفادات پر زد پڑنے کے باعث شروع کی جانیوالی محاذ آرائی کی سیاست کا خمیازہ چار مارشل لاؤں کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔ مگر محسوس یہی ہوتا ہے کہ سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔ کراچی میں رینجرز کے اختیارات میں قدغن سے جرائم پیشہ افراد کیخلاف اپریشن متاثر ہو گا۔ تاجروں نے رینجرز کے اختیارات کم کرنے پر احتجاج جاری رکھا ہوا ہے جبکہ عام شہری میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کراچی کو ایک بار پھر دہشتگردوں کے ہاتھ جاتا برداشت نہیں کر سکتی۔ عمومی تاثر ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے لوگوں کی کرپشن چھپانے کیلئے رینجرز کے اختیارات محدود کر رہی ہے۔ مرکز کے پاس آئین کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اختیارات ہیں۔ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بھی کراچی میں رینجرز کو اختیارات دیئے جا سکتے ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت ایسا کوئی اقدام اٹھانے کے معاملہ میں محتاط نظر آتی ہے جس سے پیپلز پارٹی زچ ہو کر اس کے مد مقابل آجائے۔خدشہ ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے عائد کی جانے والی شرائط دہشت گردی کے فروغ کا باعث بنیں گی اور اب تک کراچی میں دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف جتنی بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان کے ضائع ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنی بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے محاذ آرائی کا ایسا راستہ اختیار کر رہی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو مظلوم ثابت کر کے آئندہ الیکشن میں اپنی ساکھ بحال کر سکے۔ بہر حال سندھ بالخصوص کراچی کے عوام نے سندھ حکومت کے رویے پر جس تشویش کا اظہار کیا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی غلط کاریاں چھپانے کیلئے سندھ اور پاکستان کی سیاست کو ڈھال بنا رکھا ہے اور کئی سال سے وسائل کو دیمک کی طرح چاٹنے والے ہی سندھ پر حملہ آور ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائدین بھی محاذ آرائی کی سیاست میں آخری حدیں بھی پھلانگتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ کو باور کرایا کہ اب جنگ دور تک جائیگی ۔جبکہ سندھ حکومت کے سینئر وزیر نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکمران سندھ میں گورنر راج چاہتے ہیں تو لگا کر دکھائیں۔
سابق فوجیوں کی تنظیم پیسا نے حکومت سندھ کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں کمی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مفاد کیخلاف اس فیصلے سے کراچی کی روشنیاں لوٹانے والا ادارہ پولیس سے بھی کمزور ہو جائے گا بلکہ چوکیداری کے فرائض تک محدود ہو جائے گا اور کراچی دوبارہ دہشت گردی اور کرپشن میں ڈوب جائے گا۔ جنرل (ر) علی قلی خان نے کہا کہ رینجرز کے فرائض سے دہشت گردی کو منہا کرنا اور دہشت گردی میں ملوث افراد کے سہولت کاروں کو تحویل میں لینے سے قبل وزیر اعلیٰ کی منظوری سب سے زیادہ نقصان دہ شق ہے جس سے دہشت گردوں کی گرفتاری ناممکن ہو جائے گی اگر حکومت سندھ رینجرز کے متعلق اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی تو رینجرز کو واپس بلا لیا جائے۔