- الإعلانات -

بلوچستان،پنجاب مخالف بیانیہ بدلنے کی ضرورت

syed-rasool-tagovi

مری معاہدے کے تحت بلوچستان میں سیاسی تبدیلی وقوع پذیرہونے جارہی ہے۔ا ہم قبائلی رہنما اور زہری قبیلے کے سربراہ چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری بلوچستان کے 22 ویں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ وہ ڈاکٹر عبدالمالک کی جگہ یہ منصب سنبھالیں گے۔ڈاکٹر مالک مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد 9 جون کو وزیراعلیٰ بنے تھے۔ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت انہیں اڑھائی سال کیلئے یہ منصب سونپا گیا تھا۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مالک نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر تربت سے صوبائی اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ سردارثناء اللہ زہری سردار دودا خان زہری کے بیٹے ہیں۔1988ء میں وہ پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ چھ مرتبہ خضدار سے رکن اسمبلی جبکہ ایک بار سینیٹر بھی رہے ہیں۔ کئی اہم وزارتوں کے وزیر رہ چکے ہیں۔اڑھائی سال کے انتظار کے بعد بلوچستان کی باگ ڈوراب انکے حوالے کی جارہی ہے۔ بلوچستان میں حالات میں کافی بہتری آگئی ہے، تاہم ابھی یہ پھولوں کی سیج بھی نہیں ہے۔امن و امان کی قابو ہوتی ہوئی صورتحال کے تسلسل کو قائم رکھنے جیسی بھاری ذمہ داری ان کے کندھوں پرآن پڑی ہے۔مرکزی حکومت سے بہتر تعلقات اور پھران کو بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی کیلئے استعمال کرنا ایک الگ کڑا امتحان ہے۔ گزشتہ اڑھائی برس میں بلوچستان حکومت کا مقتدر حلقوں سے تال میل مثالی رہا ہے، جس سے جہاں امن و امان میں نمایاں بہتری آئی وہاں ناراض بلوچ دھڑوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ۔کئی ناراض رہنماؤں نے قومی دھارے میں واپسی کے مثبت اشارے دئیے، تاہم ابھی بھی ایک گہری سازش کے تحت نوجوانوں کو حکومتوں کی بیڈگورننس کی آڑ میں برین واش کیا جارہا ہے،انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اپنے حقوق کیلئے بندوق ہی واحد راستہ ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے محرومیوں کا خوب واویلا اور پروپیگنڈہ کیا جارہاہے مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف بلوچستان ہی نہیں چاروں صوبوں کے دوردراز دیہی علاقوں میں یہی صورتحال ہے۔جنوبی پنجاب کو دیکھیں یا اندرون سندھ تھر کو دیکھ لیں۔انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں۔مگر فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں اس محرومی کو کوئی بیرونی ہاتھ اپنے مقاصد کے استعمال نہیں کررہا ہے۔بلوچستان کی محرومی اور پسماندگی کا جہاں شورمچایا جاتا ہے وہاں پنجاب کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ ملک کے سب وسائل پنجاب کی اشرافیہ ہڑپ کررہی ہے، یہ اسی الزام تراشی اور پروپیگنڈے کا ہی نتیجہ ہے کہ بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا جاتاہے۔یہاں پنجاب اس کا الزام صوبہ بلوچستان پر نہیں بلکہ ان خفیہ ہاتھوں پر دھرتا ہے جوایک عرصہ سے اپنا گھناونا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے جس کوبہت ہوا دی جاتی ہے۔ زہری حکومت کو اس سلسلے میں بہت کام کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اسے اپنی عوام کویقین دلانا ہوگا کہ پنجاب ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ابھی حال ہی میں بلوچستان کے استحکام کیلئے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا ہے جسمیں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک سمیت پنجاب کی اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔ صرف یہی نہیں کہ پنجاب مذاکرے یا سیمینار منعقد کرارہا ہے بلکہ عملی طورپر حصہ بھی ڈال رہا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد طلباء پنجاب یونیورسٹی میں خصوصی تعاون اورسکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے زیرتعلیم ہیں۔ بلوچستان کے رہنماؤں کو میڈیا سے شکایت رہتی ہے کہ مرکزی میڈیا انہیں اتنی بھی کوریج نہیں دیتا کہ جتنی وہ اپنے کتے بلیوں کودیتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ میڈیا بلوچستان مسئلے پر بھرپور آواز اٹھاتا ہے ۔ بلوچستان کے مسئلے پر اخبارات تجزیوں سے بھرے پڑے ہیں چاہے دہشت گردی ،ٹارگٹ کلنگ یا لاپتہ افراد کا معاملہ ہو میڈیا نے ان مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ مسائل کے حل کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بھی اُٹھائی۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کامسئلہ ہے۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ وسائل سے مالا مال ہے۔ ایک بین الاقوامی سازش کے تحت اس صوبے کوعدم استحکام سے دوچار رکھنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں لیکن سیکورٹی ادارے ان عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی نگرانی میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی ادارے بیرونی مداخلت کی بیخ کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت خصوصاً’’را‘‘ پوری طرح متحرک ہے۔اپنے چند آلہ کاروں کے ذریعے کبھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کرائی جاتی ہے توکبھی محرومیوں کا واویلہ کروا کر ملک کے دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب کے خلاف نوجوان طبقے کو گمراہ کیا جانا ہے۔اغواء برائے تاوان ،حساس قومی اداروں پر دہشت گردانہ حملے ، لاپتہ افراد اوراجتماعی قبریں یہ وہ اہم ایشوز ہیں جن کو ہوا دے کر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کو بدنام کیا جاتاہے۔ ایسے ہی وہ معاملات ہیں جو بلوچستان کی نئی حکومت کیلئے کڑا امتحان ہیں۔ لہذا ثناء اللہ زہری حکومت کو اس سلسلے میں پالیسیوں کے تسلسل کوبرقراررکھتے ہوئے مزیدموثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
مالک حکومت نے امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ قدر اقدمات کیے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث گروہ کا خاتمہ ہوا، صوبے کے ڈاکٹر، اساتذہ، تاجر اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اور دیگر کی زندگی کو تحفظ حاصل ہوا۔ حکومت کے اقدامات کی بناء پر سیاسی کارکنوں کے اغواء کا سلسلہ خاصا کم ہوا ہے۔ پاکستان اور چین کے اقتصادی راہداری کے منصوبے کا محور بلوچستان ہے۔یہ راہداری اقتصادی شہہ رگ کی حیثیت رکھتی۔ بلوچستان کے قوم پرستوں کو ان ترقیاتی منصوبوں پرتحفظات ہیں۔ان کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں بلوچ نوجوانوں کا حصہ کم ہے ان خدشات میں کسی حد تک وزن ہے مگر اقتصادی ترقی ہی بلوچستان کے عوام کا تحفظ کرسکتی ہے۔ اگر بلوچستان کی سیاسی اور قوم پرست جماعتیں ایک صفحے پر اکٹھی ہوں تو ان خدشات کودور کیا جاسکتا ہے۔ جلاوطن رہنماؤں اور علیحدگی پسندوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ غیر ملکی سہارے مخصوص مقاصد لئے ہوتے ہیں اور جب ان ممالک کے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں توٹشو پیپر کی طرح اُٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔جیسے افغانستان میں طالبان عالمی استعمارکے کبھی چہیتے تھے۔