- الإعلانات -

پولیس نظام میں خامیاں اور وزیر داخلہ کے نوٹسز

zia

وفاقی پولیس نے ایک پلازے پر قبضے کے الزام میں تین سالہ بچے پر مقدمہ قائم کردیا ۔ مقدمہ اسلام آباد کے تھانے شالیمار میں درج کیا گیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وفاقی پولیس پر سیاسی دباؤ تو ختم کردیا لیکن پولیس میں کرپٹ عناصر کو ختم نہیں کیاجاسکا ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ٹاپ کی لیڈرشپ ٹھیک ہو تو نیچے خودبخود بہتری آجاتی ہے لیکن اسلام آباد کی پولیس نے اس سوچ کی نفی کردی اور ثابت کردیا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ اسلام آباد کی پولیس نے تین سالہ بچے پر مقدمہ درج کرکے ثابت کردیا کہ اسلام آباد کے تھانوں میں مقدمات کا اندراج کیسے کیاجاتا ہے۔وفاقی پولیس نے عوام کو بتا دیا کہ وہ کون سے خطوط ہیں جن کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی نیت پر کسی صورت شک نہیں کیا جاسکتا وہ پولیس میں بہتری کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں لیکن وفاقی پولیس کے کرپٹ اہلکار انکی نیت کو تکمیل دینے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں اب معلوم نہیں کہ جان بوجھ کر ایسا کیا جارہا ہے یا وفاقی پولیس میں شامل چند کالی بھیڑیں اپنی فطرت سے مجبور ہیں۔3 سالہ بچے پر مقدمے کا وفاقی وزیر داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا ہے جبکہ ایس پی کو شوکاز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ انسپکٹر جنرل آف پولیس طاہر عالم خان سے بھی وضاحت طلب کرلی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ واقعے کی انکوائری کا بھی حکم جاری کردیا گیا ہے۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن کیا یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔یہ بڑا سوالیہ نشان ہے تو جناب اس سوال کا بظاہر جواب یہی نکلتا ہے کہ وقتی طورپر کسی ایک کوچند دن کیلئے سزا کے طورپر معطل کرکے بعد میں پھر بحال کردیا جائے گا اوراگر معطل شدہ فرمانبردار ہوا تو وفاقی پولیس میں ورنہ ٹریفک پولیس میں تعینات کردیا جائے گا جسکی وجہ ناقص انکوائری میں حقائق کومسخ کرکے اپنوں کو بچانا اورپرانے پولیس کے راز افشاں ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ کوچاہیے کہ انکوائری کمیشن قائم کریں جو کہ ہائی پروفائل پر مشتمل ہو اورغیرجانبدار تاکہ پولیس کی کرپشن اورناقص تفتیش سمیت غلط مقدمات اورغلط اخراج رپورٹ مرتب کرنے والوں کی تفتیش انہی کا محکمہ نہ کرے بلکہ ایک غیر جانبدار اورتگڑا فورم انکا احتساب کرے اور وہاں درخواست کا طریقہ کار آسان رکھاجائے اورپھر وہ فورم باقاعدہ سزا تجویز کرے ۔کرپٹ پولیس اہلکاروں پربھی مقدمات درج کرائے جائیں اس سے قبل انکو مکمل طورپر نوکری سے برخاست کیا جائے تاکہ بعداز مقدمات وہ کسی بھی صورت انکوائری پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔ورنہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب آپکے اس نوٹس کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ چند ماہ قبل جناح سپر مارکیٹ میں فائرنگ کے واقعہ کے نوٹس کاہوا ہے۔ اگر وفاقی وزیر دخلہ مستقل طورپر غیرجانبدار انکوائری کمیشن تشکیل نہیں دے سکتے تو پھر کم ازکم نوٹس شدہ معاملات کی انکوائری خودکریں جب تک ایسا نہیں ہوگا وفاقی پولیس میں شامل کالی بھیڑیں ختم نہیں ہونگی اور وہ سیاسی و جمہوریت حکومت کی کارکردگی پر بدنما داغ بن کر پورے نظام پر منڈلاتی رہیں گی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان یہ تو تین سالہ بچے پر مقدمہ درج کرنے کی بات ہے لیکن وفاقی پولیس میں تو اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں لیکن چونکہ انکو پوچھنے والا کوئی نہیں اس لئے تمام لوگ مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر بچا لیے جاتے ہیں۔ وفاقی پولیس مقدمات میں غلط اخراج بناتی ہے تو اسکو کوئی پوچھنے والا نہیں اگر سائل اسکے خلاف درخواست دے تو اسکی بدقسمتی ہے کہ ڈی ایس پی کو وہ درخواست مار ک کردی جاتی ہے حالانکہ اگر اے ایس پی کو مارک کی جائے تو اس انکوائری کی نوعیت ہی تبدیل ہو لیکن نظام بنانے والوں نے عوام کو انصاف تھوڑی فراہم کرنا ہے ان کا مقصد تو صرف مجرموں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اسی لئے تو یہ نظام بنایا گیا ہے اس کے بعد ڈی ایس پی اخراج رپورٹ پر اعتراض لگاتا ہے ۔ اعتراض کے بعد اور سائل کی درخواست پر انکوائری کی جاتی ہے اور پھر انتہائی صفائی کے ساتھ ایف آئی آر کو غیرموثر کردیا جاتا ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ڈی ایس پی اپنی رپورٹ میں خودلکھتا ہے کہ ناقص تفتیش ہوئی لیکن اس کے باوجود تفتیشی کیخلاف کوئی محکمانہ کارروائی نہیں کی جاتی ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ایف آئی آر ری اوپن کرنے کے حکم کے باوجود تفتیشی ڈی ایس پی کے لکھے الفاظ کو دوبارہ تفتیش کے ذریعے بھی تبدیل کرنے کی جرات نہیں رکھتا جس کے باعث انصاف کا قتل ہوجاتاہے۔وفاقی وزیرداخلہ صاحب کبھی ان رینکرز افسران کے اثاثہ جات تو چیک کرائیں سارا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ باقی اگر آپ نے مزید تفصیلات طلب کیں تو آپکی خدمت میں پیش کردی جائیں گی صرف اس امید پر کہ شاید کرپٹ پولیس اہلکار وفاقی پولیس میں سے ختم ہو جائیں اور عوام کو انصاف میسر آسکے کیونکہ معاشرے وہی قائم رہتے ہیں جہاں انصاف کا بول بالا ہو ۔وفاقی وزیر داخلہ آپ ایک جمہوری شخصیت ہیں اورعوام کی طاقت سے یہاں تک پہنچے ہیں اور جمہور ہی نظام میں وہ تبدیلی لا سکتے ہیں جس میں انصاف کاجھنڈا سربلند اور پائیداری ہو بصورت دیگر حکومت کی مقررہ مدت کے بعد عوام میں کیا رائے پروان چڑھے گی اس بارے میں سب جانتے ہیں۔ آج کا کالم لکھنے کی صرف اورصرف وجہ وفاقی وزیرداخلہ سے بہتری کی امید ہے کیونکہ اگر بہتری کی امید نہ ہو تو روشنی دینے والے دئیے بھی آہستہ آہستہ بجھ جاتے ہیں اور پھر وہی اندھیرے کا راج دوبارہ شروع ہوجاتا ہے جس کا غرور ایک چراغ کی کرن نے خاک میں ملا یاہوتاہے ۔ ملک اس وقت تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ دیگر شعبہ جات کی طرح پولیس میں بھی اصلاحات ضرور ہونگی اور عام آدمی کو انصاف مل کر رہے گا اور دولت و طاقت کے نشے میں دھت افراد کو خدا کی خدائی یاد دلائی جائے گی۔