- الإعلانات -

آپ کو کس نے روکا ہے..؟

آج یہ بات اچھی طرح میدانِ سیاست کا ہر ادنا و اعلیٰ نیا اور پرانا سیاسی کھلاڑی خوب جانتا اور سمجھتا ہے کہ میدانِ سیاست میں کوئی بھی وعدہ حتمی اور اٹل نہیں ہوتا ہے اور اِسی طرح کسی بھی سیاست دان کے منہ سے(خاص طور پر عوامی مفادات اور فوائد سے متعلق) نکلایا زبان سے کہا ہوا کوئی بھی لفظ اور جملہ کم ہی کم سچ ثابت ہوتا ہے اور اگر کوئی سیاستدان کبھی اپنے کہے پر ڈٹ بھی جائے تو اِس میں بھی اِسی کے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔بیشک ..!!آج اِس سے انکار نہیں ہے کہ بدقسمتی سے میرے دیس پاکستان میں میدانِ سیاست میں جتنے بھی سیاسی کھلاڑ ی اپنے اپنے سیاسی اکھاڑے سجائے ہوئے ہیں اوروہ سب کے سب اپنے تعین سیاسی پینترے بازی میں خود کو یکتا اور اعلیٰ سمجھتے ہیں اور چمگادڑ کی اِس خوش فہمی کی طرح جیسا کہ یہ درختوں اور چھتوں پر اُلٹا لٹک کریہ سمجھتاہے کہ اِس نے اُلٹا لٹک کر آسمان اور چھتوں کو اپنی ٹانگوں سے روکے رکھا ہے اگر یہ اِنہیں نہ روکے رکھے تو آسمان اور چھتیں گرجائیں اور اِنسانوں کی موت واقع ہوجائے برسابرس سے ایسا ہی کچھ خیال میرے مُلک کے سیاست دانوں کا بھی ہے کہ اگر یہ اپنے سیاسی اکھاڑے سے ایوانوں اور اداروں میں اپنے ہم خیال گروپس تشکیل دے کبھی فرینڈلی اپوزیشن تو کبھی لوولی (LOVELY)اپوزیشن کا کردار ادارکرکے سیاست نہ کریں تو عین ممکن ہے کہ اداروں کو مُلکی اُمور کی انجام دہی میں مشکلات پیدا ہوں اور حکومتیں اپنے کام ٹھیک طرح سے نہ چلاسکیں۔ جبکہ آج اِس حقیقت سے نہ صرف خود سیاستدان بلکہ عوام بھی واقف ہوچکے ہیں اور اَب یہ بات سب ہی اچھی سے جانتے اور سمجھتے ہیں کہ سیاستدانوں کی چمکادڑ کی طرح کی خوش فہمی محض خوش فہمی ہی ہے کہ ہمارے یہاں سیاستدان اداروں اور حکومتوں کو چلانے میں اپنا کوئی کردار ادا کرتے ہیں آج سیاستدانوں کی اِس خوش فہمی کے برعکس یہ سب کو اچھی طر ح سے معلوم ہے کہ جب بھی مُلک میں کوئی سِول حکومت آئی ہے یہ کس کے زیرتسلط رہتی ہے اور اِسے کون کس طرح اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے …؟یہاں میں مختصر سے وقت اِس بحث میں گیا تو بات بہت دور تک چلی جائے گی ،بہرحال …!! ہمارے سیاستدانوں کو ہر حال میں اپنا محاسبہ کرتے رہناچاہئے ، خواہ وحکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر(حزبِ اختلاف ) میں ہوں اِنہیں یہ ضرور سوچتے رہنااور سمجھتے رہنا چاہئے کہ یہ آزاد نہیں ہیں کوئی اِن کی ایک ایک پل کی مانیٹرنگ کررہاہے اور اِن کی نقل و حمل کو بھی دیکھا جارہاہے اور اِن کی خا ص و عام یعنی کہ ایوانوں اور اداروں اور عوامی مقامات اور میڈیا میں استعمال کی جانے والی زبان و جملوں کو بھی کئی زاویوں سے تولا اور پرکھاجارہاہے..اکثر ہمارے سِول سیاستدانوں کی کبھی کبھی یہی بھول اور خوش گمانی کہ یہ حکومت میں ہیں یا حکومت سے باہر ہیں تویہ ہر غم اور قید سے آزاد ہیں اَب یہ جیسا جہاں چاہیں بولیں… جس کے بارے میں جس طرح سے چاہیں زبان اور جملے استعمال کریں… اِنہیں کوئی پکڑنے اور روکنے والا نہیں ہے اور یہ جس طرح سے چاہیں کسی بھی ا دارے کی جب چاہیں عزت اُتار کررکھ دیں اِن سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے… ایسا نہیں ہے ہر ادارے کا اپنا ایک تقدس اور مقام ہے ہمارے سیاستدانوں کو کسی بھی ادارے ( اور اُس مقدس ادارے سے متعلق جس نے ہر دورمیں سِول حکومتیں بنائیں اور گرائی ہیں ) کے بارے میں زبان ہلانے سے پہلے خود اپنے گریبان میں ضرور سوسوبار جھانک لینا چاہئے کہ یہ خود کیا ہیں..؟؟اکثرجوجذبات کے آگے بے قابو ہوکر اداروں کے بارے میں ایسی زبانیں استعمال کرجاتے ہیں جنہیں سُن کر ادارے تو ادارے ایک عام پاکستانی شہری بھی شسدر رہ جاتاہے۔بہرکیف ..!! آج اگرپچھلے کئی مہینوں سے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور مُلک کے سابق صدر آصف علی زرداری دُبئی میں قیام پذیر ہیں تو اِس کی بھی ایک بڑی خاص وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے ایک عام عوامی اجتماع میں مُلک کے ایک مقدس ادارے جس کی داستانیں اور خدمات مُلک کی بقا و سا لمیت کے خاطر ہر لمحہ سرحدوں کی حفاظت او رمُلک میں جاری ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں سے بھری پڑی ہیں اِس ادارے کی خدمات کے بارے میں ایسی زبان اور جملے استعمال کئے تھے جواِس ادارے کی برداشت سے باہر تو تھے ہی مگر ہر محب وطن پاکستانی کوبھی بہت ناگوار گزرے تھے پھر اِس کے بعد گھمبیرہوتی صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے خود ہی پی پی پی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرآصف علی زرداری دُبئی چلے گئے تھے اور یوں یہ تب سے اَب تک دُبئی میں ہی ہیں اور آج کل یہ وہیں ہی سے اپنی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں اور جب کوئی اہم فیصلے اور مشورے کرنے ہوتے ہیں تو یہ اپنی پارٹی قیادت کو وہیں دُبئی ہی مدعو کرلیتے ہیں اور اُدھر ہی سے احکامات جار ی کرتے رہتے ہیں۔جبکہ اِس سارے منظر اور پس منظر میں تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں اور اداروں اور عوام الناس کا قوی اور خیام خیال یہی ہے کہ جب تک زرداری صاحب کے لئے وطن واپسی کے حوالے سے حالات پوری طرح اطمینان بخش اور سازگار نہیں ہوجاتے ہیں اور اِن کے مقدس ادارے کے بارے میں استعمال کی گئی زبان اور زبان سے کہے ہوئے اُلٹے سیدھے جملوں پر منوں دھول نہیں چڑھ جاتی وہ کسی بھی صورت میں پاکستان واپسی نہیں آئیں گے ۔اگرچہ ..!!مدینہ منورہ سے آنے والی ایک خبر کے مطابق عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں صحافیوں سے مختصراََ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورمُلک کے سابق صدر آصف علی زرداری نے یہ ضرور کہاہے کہ’’ کراچی آپریشن جاری اور رینجرز کو اختیارات ضرورملنے چاہئیں‘‘ مگر جب اِس موقع پر ایک صحافی نے اِن سے یہ سوال کیا کہ ’’ آپ کب پاکستان واپس آئیں گے..؟تو جواب میں اُنہوں نے اپنے مخصوص انداز سے ہنستے ہوئے یہ کہاکہ’’ جب چاہوں ،پاکستان جاسکتاہوں، کوئی مجھے روک نہیں سکتا، پاکستان میرا گھرہے بہت جلدواپس جاؤں گا‘‘یہاں اِن کے اِس کہے پر یقینایہ سوالات عوام الناس اور خود اِن کی پارٹی کے عہدیداران اور کارکنا ن اداروں کے سربراہان کے ذہنوں میں ضرور پیداہورہے ہوں گے کہ جناب آصف علی زرداری صاحب ..!! بیشک پاکستان آپ کا گھر ہے، جناب آپ کو کو ن پاکستان آنے سے روک رہاہے..!! آپ تو خود ہی فوج جیسے مقدس ادارے کے بارے میں کچھ کہہ کر اپنے انجام سے ڈرکر مُلک سے چلے گئے ہیں اور اَب خود ہی واپسی کانام نہیں لے رہے ہیں، اور اِس پر سُونے پہ سُہاگہ یہ کہ آپ اُلٹاخود ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’مجھے کوئی روک نہیں سکتاہے‘‘ ۔ارے بھائی..!! آپ کی واپسی آنے کا تو ساراپاکستان ہی بڑی بے چینی سے منتظر ہے،اِن دِنوں عوام اور ادارے تویہی چاہ رہے ہیں کہ آپ پاکستان آجائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے جب کہ ایک آپ ہیں کہ خودہی وطن واپس نہیں آناچاہ رہے ہیں،اوراِسی طرح آپ نے سندھ میں رینجرز کے توسیع اور خصوصی اختیارات اور کراچی میں جاری آپریشن کے بارے میں جو فرمایا ہے اِس پر یہاں بس میں یہ کہہ کر اپنی بات کوختم کرناچاہوں گاکہ آصف علی زرداری صاحب حالات اور واقعات کے پیشِ نظر ’’برزبان تسبیح ودردل گاؤخر‘‘ جس کے معنی یہ ہے کہ ’’ زبان پر اللہ کانام اور دل میں بیلوں اور گدھوں کا خیال ہے یعنی کہ آج آپ کے دل میں کچھ اورزبان پر کچھ ہے۔