- الإعلانات -

رام مندر کی تعمیر کی تیاریاں اور لوشالی کی برطرفی

آج کا کالم شروع کرنے سے قبل عالمی حالات کا جائزہ لینے کے لئے نیٹ گردی کی تو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی خبرچونکا رہی تھی۔تفصیل دیکھی تو معلوم ہوا کہ بھارت کے شہر ایودھیا میں متنازع رام مندر کی تعمیر کے لیے 20 ٹن پتھر وہاں کے کارسیوک پورم میں لائے جا چکے ہیں۔اسکے باوجود کہ یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور متنازع جگہ پر کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔ بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ہندوؤں کے ایک رہنما مہنت نرتیہ گوپال داس نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کا وقت آ گیا ہے۔ہندو تنظیم وی ایچ پی کے کارسیوک پورم کے انچارج شرد شرما نے میڈیا کو بتایا کہ مندر کی تعمیر کے کام میں دو لاکھ ٹن پتھر کی ضرورت ہے ابھی 20 ٹن پتھر آئے ہیں۔ جیسے ہی حکومت کی طرف سے حکم ملے گا، ہم تعمیری کام شروع کر دیں گے۔ چھ دسمبر 1992 میں بابری مسجد کے انہدام سے پہلے رام مندر کے لیے مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر مہم چلائی گئی تھی اور انہدام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے جس طرز کی تیاریاں شروع کی جارہی ہیں اس سے ایک بار پھر فسادات کا خطرہ ہے۔نہ جانے مودی حکومت کس ڈگرپر چل رہی ہے۔پاک بھارت تعلقات ایسے ہی معاملات کی وجہ سے کشیدہ رہتے ہیں۔ بھارت کا پاکستان کے حوالے سے رویہ ہمیشہ ہی معاندانہ رہا ہے۔مثلاً ایک سال قبل کشتی کا ایک ڈرامہ رچایا گیا،جس کے بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کا طوفان کھڑا کردیا گیا۔پاکستان نے اسے مسترد کردیا تھا مگر کسی کی ایما پر بھارتی میڈیاخاموش نہ ہوا۔اس کشتی ڈرامے کی حقیقت کھل کر اب سامنے آچکی ہے۔ایک سال قبل بھارتی ریاست گجرات کے ساحل کے قریب مبینہ پاکستانی دہشت گردوں کی کشتی کو دھماکے سے اڑانے کا اعتراف کر کے مودی حکومت کو خفت کا شکار کرنے پر انڈین کوسٹ گارڈ کے ڈی جی بی کے لوشالی کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا،انکی برطرفی کا فیصلہ بھارتی محکمہ داخلہ کے بورڈ آف انکوائری نے گزشتہ ہفتے سنایا ،انکوائری کی تکمیل میں 3ماہ لگے اس سے قبل مارچ میں ڈی جی بی کے لوشالی کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔اس معاملے کی تفصیل اس طرح ہے کہ جنوری 2015ء کی رات بھارتی حکام نے گجرات کے قریب مبینہ پاکستانی دہشت گردوں کی کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ، بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے بڑے اعتماد سے دعویٰ کیا کہ کشتی میں سوار 4 مشتبہ پاکستانی افراد دھماکہ خیز مواد لے کر بھارتی گجرات میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ ان کے پاکستانی میری ٹائم حکام سے رابطے تھے مگر پکڑے جانے کے خوف سے ان دہشت گردوں نے اپنی کشتی کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بھارتی میڈیا اس واقعہ کی حقیقت پر سوالات اٹھا ہی رہا تھا کہ کوسٹ گارڈ کے سربراہ بی کے جوشی نے دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا پاکستانی کشتی انہوں نے میزائل کے ذریعے اڑانے کا حکم کوسٹ گارڈ کو دیا اس بیان سے مودی سرکار کی بہت سبکی ہوئی بعد میں پتہ چلا کہ مرنے والے عام سمگلر تھے جو ڈیزل لیکر بھارت آ رہے تھے۔
بھارتی وزارت دفاع اور کوسٹ گارڈز نے سمند ر میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والی کشتی کی تباہی کو پاکستان سے منسوب کرکے زہریلا پراپیگنڈا کیا کہ یہ ممبئی طرز کے حملوں کی ایک اور کوشش تھی۔ جس طرح بھارتی حکومت پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اسی طرح پاکستان سے متعلق رائی کو پہاڑ بناکر پیش کرنا متعصب بھارتی میڈیا کی پرانی عادت ہے، بھارتی حکومت اور میڈیا نے اسی روایت کو دہرایا مگر اس واقعے کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی ایک غیرجانبداراخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی وزارت دفاع کے دعووں کا پوسٹ مارٹم کرکے رکھ دیا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے ذریعے جوشواہد سامنے آئے ان سے پتہ چلا کہ بھارتی وزارت دفاع کو ملنے والی خفیہ اطلاع کا کوئی تعلق دہشت گردی سے نہیں تھا ،نہ اس سے بھارت کو کوئی خطرہ تھا۔ خود بھارتی نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن نے کیٹی بندر سے چھوٹے سے سمگلروں کی موبائل فون پر ہونے والی گفتگو پکڑی تھی۔ اخبار کے مطابق کشتی کی جو تصویریں جاری کی گئیں انہیں دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اس میں پلاسٹک ایکسپلوسو نہیں بلکہ دستی بم جیسا عام دھماکہ خیز مواد ہو سکتا تھا۔اس واقعہ سے ایک ماہ قبل ہی پاکستان نے پیشگی واضح کردیا تھا کہ ’’را‘‘ اپنے ہی ملک میں کوئی دہشت گردی کی کارروائی ڈال کر ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گی۔ مبینہ بھارتی حدود میں کشتی والا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ بھارت ایسا کیوں کرتا ہے اس کی وجہ شاید شکستہ ہوتا ہوا اس کا اندرونی سماجی ڈھانچہ ہے جس سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کا ہوا کھڑا کرلیاجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو قتل و غارت گری اور خوفناک پرتشدد واقعات کا سامنا رہتاہے ۔اوپر سے نریندرا مودی جیسا شکرا بھارتی وزیراعظم ہے۔جس کی پالیسی اور سوچ ہاتھی کے دانتوں کی مانند ہے۔اس وقت بھارت میں جہاں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں تو مختلف ریاستیں بغاوت پر آمادہ نظر آتی ہیں ۔ علیحدگی پسند تحریکیں الگ سے بھارت کیلئے سردرد بنی ہوئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی میڈیا اس طرح ایسے واقعات اور ایشوز کو نہیں اجاگر کررہا جیسے پاکستان کے خلاف دھماچوکڑی مچائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں ، اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ہو، خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کی بڑھتی ہوئی شرح ہو یا اقلیتوں کو جبری مذہب تبدیل کرانے کی مہم جوئی ہو ، عالمی میڈیا کا اس حوالے سے کردار نہایت نامناسب اور دوہرا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کا یہ دوہرا معیار نا قابل فہم ہے ۔