- الإعلانات -

فتنہ دجالی

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن شریف کی” سورۃ الکہف” کی دوسری آیت میں آنے والے زمانوں میں ایک بڑے فتنے سے خبردار کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک بہت بڑی جنگ ہوگی جس کا خاتمہ دنیا کے خاتمے پر منتج ہوگا عربی میں اسے ملحمۃ الیبراء انگلش میں ARMAGADON یہودی اسکو ھر مجدون کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ دجال (دجل عربی میں جھوٹ اور فتنے کو کہتے ہیں )کے خروج اور قرب قیامت کا زمانہ ہوگا یہودیوں کا عقیدہ ہے ہمارا مسایا آئے گا جو دنیا میں ہماری (یہودیوں ) کی بادشاہت قائم کریگا اور ہم دوبارہ دنیا پر حکومت اور سیادت کریں گے یہودی عقیدہ ہے کہ 2000سال پہلے جب بادشاہ دقیانوس یا desious نے ہیکل سلیمانی کو توڑا اس کے بعد اس پر مسجد اقصی بنادی گئی بہت بڑا جھوٹ ہے یہ جب بھی ملتے ہیں عہد کرتے ہیں کہ اگلے سال یروشلم میں ملیں گے ان کا ہیکل سلیمانی جس کو یہ Solomon of templeکہتے ہیں ان کے عقیدے کے مطابق مسجد اقصی کے نیچے ہے 1967 میں یروشلم پر قبضے کے بعد اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ آج تک بنیاد کی کوئی چیز بر آمد نہیں کر سکے جو یہ ثابت کر سکے کہ یہاں کبھی ہی کل تھا اور آج بھی حیلوں بہانوں سے کھدائی کرتے رہتے ہیں۔نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی تشریف فرما تھے فرمانے لگے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو آنے والے زمانوں میں ایک بہت بڑے فتنے سے خبردار کیا ہے اور میں بھی اپنی امت کو فتنہ دجال سے خبردار کرتا ہوں جو آدم علیہ السلام کے بعد سب سے بڑا فتنہ ہو گا آگر وہ میری زندگی میں آیا تو میں اس سے لڑوں گا اس کے بعد آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ سنایاجو یوں تھا حضرت تمیم داری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم کچھ 30لوگ ایک کشتی میں سفر پر نکل پڑے راستے میں شدید طوفان آگیا ہم راستہ بھٹک گئے30 دنوں بعد طوفان تھما تو سامنے درخت نظر آئے تو کشتی اسی جانب لے گئے سامنے زمین تھی کشتی کنارے پر جا لگی ہم اترے ہم تو سامنے بڑے بڑے بالوں والا جانور جس کے پورے جسم پر لمبے لمبے بال تھے دیکھا کشتی کے مسافر خوف زدہ ہوگئے آپس میں بات کرتے ہوئے اس عجیب الخلقت جانور کے متعلق بات کی پہلے تو سب نے سمجھا کہ کوئی جن ہو سکتا ہے تو جب اس نے انسانوں کی زبان میں جواب دیا اس نے ہمیں بتایا کہ میں جاسوس ہوں میرا آقا سامنے اس گھر میں رہتا ہے اور تمہارا شدت سے انتظار کررہا ہے ہم اس جانور کی معیت میں دوڑے دوڑے گئے کیا دیکھتے ہیں ایک انسان نما وحشی جس کے دونوں ہاتھ اور پیر زنجیروں سے بندھے تھے ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اس نے کہا تم کون ہو ہم نے اس کو اپنے حسب نسب سفر اور آمد کے متعلق سب کچھ بتا دیا تو اس نے پوچھا کیا بیسان کے جنگلوں میں درختوں پر پھل لگتے ہیں ہم نے کہا ہاں تو اس نے غصے میں کہ جلد پھل لگنا بند ہو جائیں گے پھر اس نے پوچھا کہ طبریہ جھیل میں پانی ہے ہم نے کہا ہے ہاں طبریہ جھیل میں پانی اب بھی ہے تو کہنے لگا پھل بھی لگنے بند ہو جائیں گے میرے نکلنے کا زمانہ قریب ہے (بیسان کے جنگل میں پھل بند ہو چکے ہیں اور طبریہ جھیل شام اور اسرائیل کے درمیان ہے جہاں پانی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اسرائیل نے کئی سال سے کروڑوں گیلن پانی اس جھیل میں ڈال کر اسے زندہ رکھا ہوا ہے )نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجال ایک آنکھ کانا ہوگا اور خدائی کا دعوی کریگا دجال کے ماتھے پر کافر لکھا ہوگا جس میں رتی بھر ایمان ہوگا وہ پڑھ لیگاوہ روٹیوں کا پہاڑ لیکر چلے گا اس کے پہلے ساتھی خراسان کے یہودی ہوں گے وہ جس قوم پر آئے گا انکو اپنے معجزے دکھائے گا لوگوں کے مردہ والدین زندہ کر کے دکھائے گا لیکن وہ جن ہونگے دجال کے ظہور سے پہلے سال بارش ایک تہائی کم ہوگی زرعی پیداوار ایک تہائی کم ہو جائے گی اگلے سال بارشیں ایک تہائی اور کم ہو جائیں گی تیسرے سال بارشیں بالکل نہیں ہوں گی اور خوراک اور پانی ختم ہو جائیں گے سخت قحط پڑ جائے گا اس کے ایک طرف آگ ہوگی اور دوسری طرف پانی ہو گا پانی اصل میں آگ ہوگی اور آگ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا اس کی سواری ایک گدھا ہوگا جس کے دو کانوں کا فاصلہ 40 ہاتھ یا گز آج کے قیاس میں ہوائی جہاز ہو سکتا ہے اب جس قوم پر آئے گا لوگوں کو اپنے معجزے دکھائے گا اس کا پہلا دن ایک سال کا ہوگا دوسرا دن ایک ماہ تیسرا دن ایک ہفتے کا اس کے بعد 37 دن عام دنوں کے برابر ہوگا نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کا سختی سے حکم ہے کہ جیسے ہی دجال کی خبر پاؤ اس کے قریب نہ جانا اس کی قربت ایمان کا خاتمہ ثابت ہوگا جتنا ہو سکے اس سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر چلے جاؤ اور انتہائی ضروری ہے کہ سورہ الکھف کی کم از کم ابتدائی 10 آیات کو یاد کر لیں ہر جمعہ کو بعد از دوپہر ان آیات کی تلاوت معمول بنا لیں ان شاء4 اللہ دجال کے فتنے سے نجات ملے گی جو آدم علیہ السلام کی زمین پر آمد کے بعد سب سے بڑا فتنہ ہو گا اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور فتنہ دجال سے محفوظ رکھے آمیں۔(۔۔۔۔۔۔جاری ہے )