- الإعلانات -

قر ضوں کا طوق

گیمبیا افریقہ کا آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا سا ملک ہے۔غربت اور پسماندگی اکثر دوسرے افریقی ممالک کی طرح اس کا بھی مقدر ہے،گیمبیا کے کے موجودہ صدر مسلمان ہیں اگرچہ اس ملک میں تمام مذاہب و مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک تناسب کے ساتھ آباد ہیں ۔گیمبیا کے صدر ایک مرتبہ کسی بین ا لاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے امریکہ گئے تو وہاں پر جس ہوٹل میں وہ ٹھہرا وہ انتہائی کم قیمت اور ایک اوسط درجے کے ہوٹل سے بھی کم تھا،مطلب یہ لے لیجئے کہ سب سے کم قیمت کے کسی ہوٹل کے ایک کمرے کا انتخاب کیا گیا۔کانفرنس میں شریک ممالک کے کے چند سر براہان نے جب ان سے اتنی دور اور اس قدر کم قیمت ہوٹل میں ٹھہرنے کی ان سے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا ،میں گیمبیا جیسے غریب ملک کا صدر ہوں ،امریکہ کا صدر تو نہیں کہ میں اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق مہنگے ترین ہوٹل کا انتخاب کروں ،اور اس کے لئے اتنی بھاری بھرکم قیمت ادا کروں ،میرے پاس جو کچھ ہے وہ میری قوم کی امانت ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میرے ملک کا کوئی با شندہ اس بات پر ندامت محسوس کرے کہ ہمیں تو دو وقت کی روٹی کے لا لے پڑے ہیں اور ہمارے سربراہان اور حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ ہی ختم نہیں ہوتے۔قارئین کرام دلچسپ بات یہ ہے کہ گیمبیا میں آئی ایم ایف نہیں ہے،آئی ایم ایف حکمرانوں کی گیمبیا کو قرضے دینے کی پیشکش کے باوجود ان لوگوں نے اس شکریہ کے ساتھ ان سے معذرت کر لی کہ ایک دفع یہ آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنس گئے تو پھر ان کی تمام تر توانائیاں اور اکنامک اور معاشی پالیسیاں صرف اور صرف آئی ایم ایف کے مطالبات پورا کر نے کے دائرہ میں ہی گھومتی رہیں گی۔بد قسمتی سے جسطرح آجکل کے دنوں میں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔گزشتہ دنوں ایک تازہ رپورٹ نے اس وقت سب پاکستانیوں کو حیران و پریشان کر دیا کہ جس میں یہ کہا گیا کہ اس وقت ہر پاکستانی او سطا اکیانوے ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے اور قرضوں کا یہ طوق ہر گزرتے دن کے ساتھ انکی گردنوں پر بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔حالت اس وقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کی بدولت آئی ایم ایف کے قرضے کی نئی قسط تک ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ،کہ کب نئی قرضے کی قسط جاری ہو اور ہم بقیہ کے منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچا سکیں ۔ہماری گزشتہ کی تاریخ کا یہ بھی بہت بڑا المیہ رہا کہ ہم کئی دہائیوں سے تمام تر دعووں کے باوجود اس قابل نہیں ہو سکے کہ ایک مرتبہ بھی خسارے سے پاک بجٹ پیش کر سکیں ۔بجٹ خسارہ آئے دن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور اسکے سب سے منفی اثرات ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پڑتے نظر آتے ہیں،جب بجٹ خسارہ ہی کم نہ ہوگا تو لازمی بات ہے ،حکومت تنخواہوں کی ادائیگی،قرضوں کی اقساط اور حکومتی شاہ خرچیوں کو پورا کر نے کی خاطر ترقیاتی بجٹ پر ہی ڈاکہ ڈالے گی،اس کو یوں سمجھ لینا چاہئے کہ اگر سو روپے حکومتی خزانے میں پڑے ہیں تو ترقیات کیلئے اس میں سے بیس روپے سے بھی کم دستیاب ہو نگے جبکہ باقی تنخواہوں اور دوسری ضروریات کی مد میں صرف کئے جائیں گے۔یہ شائد اس سال؛ تیسری مرتبہ ہے کہ جب حکومت کی جانب سے منی بجٹ پیش کئے جارہے ہیں،ٹیکس وصولیوں اور بجٹ خسارہ کم کر نے کی خاطر گزشتہ دنوں ایک مرتبہ پھر ڈھائی سو سے بھی زائد اشیائے ضروریہ پر ٹیکس صرف اور صرف آئی ایم ایف سے قرضے کے اگلی قسط کے حصول کی خاطر نافذ کیئے گئے ہیں،سالانہ بجٹ کی اہمیت تو اب اس وجہ سے بھی انتہائی کم رہ گئی ہے کیونکہ سالانہ بجٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار اور تعین کردہ اہداف کے حصول کے پیمانوں کو یہ لوگ خود ہی سال میں کئی بار الٹ پلٹ دیتے ہیں ،نتائج اس کے یہ سامنے آرہے ہیں کہ صورتحال کو بہتر بنا نے کیلئے وزارت خزانہ میں براجمان ان لوگوں کے پاس نہ تو کوئی معاشی پالیسی ہے اور نہ حالات کو بہتر بنا نے کی خاطر کوئی منصوبہ۔بجٹ خسارہ کم کر نے اور ٹیکسز کے مقرر کردہ اہداف کے حصول کا آسان طریقہ ان کے پاس اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ بس اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز کا بوجھ بڑھاتے جاؤ،حالت یہ ہے کہ عام آدمی اس وقت اگر چائے کی پتی کا پانچ سو روپے والا پیکٹ خرید کر رہا ہے تو اس پر وہ ستر روپے سے بھی زائد محض ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہے،عوام پر ٹیکسز کا یہ بوجھ براہ راست طور پر افراط زر میں بڑھوتری اورعوام کی کم ہوتی قوت خرید کا باعث بن رہا ہے۔دوسرے حکومتی شعبوں کی طرح وزارت خزانہ جیسے اہم قلمدان کو بھی اسی کے سپرد کر دیا جاتا جو ان کا سب سے قریبی اور پیارا ساتھی ہو،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کیلئے کوئی انتہائی ماہر اکنامسٹ کی خدمات لی جاتی یا ان ماہرین معاشیات کی خدمات حاصل کی جاتیں جو اس بد ترین معاشی اور اقتصادی بحران سے ملک کو نکال سکتا۔یہ فرق سمجھ لینا چاہئے کہ اب تک اکثر اس وزارت کے اہل قرارپا نے والے یعنی خزانے کی وزارت سنبھالنے والے بڑے بڑے بینکار اور صنعتکار تو تھے مگر ان میں سے شائد کوئی بھی ماہر معاشیات نہیں تھا،اکنامک ماہرین معاشی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر بنا نے آئی ایم ایف جیسے اداروں کے چنگل میں پھنسی معیشت کی بیڑی پار لگا نے کیلئے ان کے پاس معاشی پالیسیاں ہوں،ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکا لنے کیلئے ان کے پاس وژن ہو،بینکار یا صنعتکار کا کام محض ان پالیسیوں کو سفارش کردہ اصولوں کے مطابق من و عن لاگو کرنا ہوتا ہے۔ٹیکسز اہداف کے حصول اور بجٹ خسارہ کم کر نے کا صرف یہی حل ان کے پاس ہے کہ عام آدمی پر ٹیک پر ٹیکس لگاتے جاؤ،کیا یہ بڑے سرکاری عہدیداران،وزراء،اور ملک حکمرانوں پر ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اس قدر نحیف ملکی معیشت پر رحم کریں اور اپنی شاہ خرچیاں کم کریں،جس قدر ترقیاتی بجٹ میں کمی آتی جائے گی،حکومتی شاہ خرچیاں بڑھتی جائیں گی،ہماری ملکی معیشت اور اقتصادیات اتنی ہی گرتی چلی جائے گی۔